TrueHadith

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

Sunan An-Nasa'iHadith 5599

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَأَيْتُ رَجُلًا جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ وَهُوَ عِنْدَ الرُّکْنِ وَدَفَعَ إِلَيْهِ الْقَدَحَ فَرَفَعَهُ إِلَی فِيهِ فَوَجَدَهُ شَدِيدًا فَرَدَّهُ عَلَی صَاحِبِهِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ فَقَالَ عَلَيَّ بِالرَّجُلِ فَأُتِيَ بِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ الْقَدَحَ ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ فَصَبَّهُ فِيهِ فَرَفَعَهُ إِلَی فِيهِ فَقَطَّبَ ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ أَيْضًا فَصَبَّهُ فِيهِ ثُمَّ قَالَ إِذَا اغْتَلَمَتْ عَلَيْکُمْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةُ فَاکْسِرُوا مُتُونَهَا بِالْمَائِ

زیاد بن ایوب، ہشیم، عوام، عبدالملک بن نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر نے فرمایا میں نے ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دیکھا کہ وہ شخص نبیذ کا ایک پیالہ لے کر حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کھڑے ہوئے تھے۔ وہ پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو منہ لگایا تو وہ تیز لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پیالہ اس شخص کو واپس دے دیا۔ اسی دوران ایک دوسرا شخص بولا کہ یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص پیالہ لے کر آیا تھا اس کو بلاؤ۔ پھر وہ شخص حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالہ اس شخص سے لے لیا اور پانی منگا کر اس میں پانی ملا دیا۔ پھر اس کو منہ سے لگایا (اور اس کی شدت کی وجہ سے ذائقہ اب بھی کڑوا محسوس ہوا) اور پانی منگوایا اور اس میں (مزید) پانی ملایا پھر فرمایا جس وقت ان برتنوں میں شراب تیز ہو جائے تو تم اس کی تیزی پانی سے ہٹا ( کم کر) دو۔

It was narrated that Zaid bin Jubair said: “I asked Ibn ‘Umar about drinks and he said: ‘Avoid everything that intoxicates.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith (internal ref #1432000)

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ نَافِعٍ لَيْسَ بِالْمَشْهُورِ وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ وَالْمَشْهُورُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُ حِکَايَتِهِ

زیاد بن ایوب، ابومعاویہ، ابواسحاق شیبانی، عبدالملک بن نافع، ابن عمر سے ایسی ہی روایت منقول ہے۔ امام نسائی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد میں عبدالملک بن نافع سے جو کہ مشہور ہیں اور اس کی روایت دلیل پیش کرنے کے لائق نہیں بلکہ حضرت ابن عمر سے اس کے خلاف مشہور ہے۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “Intoxicants are unlawful in small or large amounts.” (Sahih).

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 5600

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَنْ الْأَشْرِبَةِ فَقَالَ اجْتَنِبْ کُلَّ شَيْئٍ يَنِشُّ

سوید بن نصر، عبد اللہ، ابوعوانة، زید بن جبیر، ابن عمر سے ایک آدمی نے شرابوں سے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا جو چیز نشہ کرے اس سے بچو۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “Every intoxicant is Khamr and every intoxicant is unlawful.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 5601

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الْأَشْرِبَةِ فَقَالَ اجْتَنِبْ کُلَّ شَيْئٍ يَنِشُّ

قتیبہ، ابوعوانة، زید بن جبیر نے فرمایا میں نے عبداللہ بن عمر سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا جو مشروب نشہ کرے اس سے بچو۔

It was narrated from Salim bin ‘Abdullah, from his father, that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “Allah has forbidden Khamr, and every intoxicant is unlawful.” (Hasan)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 5602

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ الْمُسْکِرُ قَلِيلُهُ وَکَثِيرُهُ حَرَامٌ

سوید، عبداللہ، سلیمان تیمی، محمد بن سیرین، ابن عمر نے فرمایا میں نے عبداللہ بن عمر سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا جو مشروب نشہ کرے اس سے بچو۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger af Allah said: ‘Every intoxicant is unlawful and every intoxicant is Khamr.” (Hasan) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: These people (narrators) are the people who are confirmed, and trustworthy and well-known for their correctness in reporting. And ‘Abdul-Malik does not hold the status of any one of them even if a group of the likes of him aided him. And with Allah is the facilitation to what is right.

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 5603

قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْکِينٍ قِرَائَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ أَخْبَرَنِي مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ وَکُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ

حارث بن مسکین، ابن قاسم، مالک، نافع، ابن عمر نے فرمایا جو چیز نشہ کرے وہ خمر (شراب ہے) اور جو شے نشہ پیدا کرے وہ حرام ہے۔

Ruqaiyah bint ‘Amr bin Saad said: “I was under the care of Ibn ‘Umar, and raisins would be soaked for him and he would drink them in the morning, then the raisins would be left to dry, and other raisins would be added to them, and water would be poured on top of them, and he would drink that in morning. Then the day after he would throw them away.” (Da’if) And they use the narration of Abu Mas’ud and ‘Uqbah bin ‘Amr as proof.

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 5604

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ شَبِيبًا وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ يَقُولُ حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَرَّمَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَکُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ

محمد بن عبدالاعلی، معتمر، شیبہ، ابن عبدالملک، مقاتل بن حیان، سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خداوند قدوس نے حرام فرمایا ہے خمر کو اور ہر ایک نشہ لانے والی شے حرام ہے۔

It was narrated that Abu Mas’ud said: “The Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم became thirsty around the Ka’bah so he called for a drink. Some Nabidh was brought in a water skin and he smelled it and frowned. He said: ‘Bring me a bucket of Zamzam (water).’ He poured it over it and drank some. A man said: ‘Is it unlawful, Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم?’ He said: ‘No.” (Da’if) He said: This narration is weak; because Yahya bin Yaman is alone among the companions of Sufyan reporting it. And Ya bin Yaman’s narrations are not used for proof due to his bad memory and many errors.

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 5605

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ وَکُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَهَؤُلَائِ أَهْلُ الثَّبْتِ وَالْعَدَالَةِ مَشْهُورُونَ بِصِحَّةِ النَّقْلِ وَعَبْدُ الْمَلِکِ لَا يَقُومُ مَقَامَ وَاحِدٍ مِنْهُمْ وَلَوْ عَاضَدَهُ مِنْ أَشْکَالِهِ جَمَاعَةٌ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ

حسین بن منصور، ابن جعفر نے سابوری، یزید بن ہارون، محمد بن عمرو، ابوسلمہ، ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر ایک نشہ پیدا کرنے والی شے حرام ہے اور نشہ لانے والی شئی خمر ہے۔ امام نسائی نے فرمایا یہ لوگ معتبر اور عادل ہیں اور مشہور ہیں صحت کے ساتھ (یعنی ان کی شہرت صحیح روایات نقل کرنے کی ہے) اور عبدالملک بن نافع ان لوگوں میں سے ایک کے بھی برابر نہیں اگرچہ عبدالملک کی تائید اسی جیسے دیگر لوگوں نے بھی کی۔

Abu Hurairah said: “I knew that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم was fasting on certain days, so I prepared some Nabidh for him to break his fast, and made it in a gourd. When evening came I brought it to him, and said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, I knew that you were fasting today, so I prepared this Nabidh for you to break your fast.’ He said: ‘Bring it to me, Abu Hurairah.’ I brought it to him, and it turned out to be something bubbling. He said: ‘Take this and throw it against the wall (throw it away), for this is the drink of one who does not believe in Allah or the Last Day.” (Sahih) And among what they use as proof, is what was done by ‘Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him.

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 5606

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ السَّعِيدِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي رُقَيَّةُ بِنْتُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ قَالَتْ کُنْتُ فِي حَجْرِ ابْنِ عُمَرَ فَکَانَ يُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ فَيَشْرَبُهُ مِنْ الْغَدِ ثُمَّ يُجَفَّفُ الزَّبِيبُ وَيُلْقَی عَلَيْهِ زَبِيبٌ آخَرُ وَيُجْعَلُ فِيهِ مَائٌ فَيَشْرَبُهُ مِنْ الْغَدِ حَتَّی إِذَا کَانَ بَعْدَ الْغَدِ طَرَحَهُ وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو

سوید، عبد اللہ، عبیداللہ بن عمر سعدی، رقیة بنت عمرو بن سعید سے روایت ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو کی گود میں تھی ان کے واسطے خشک انگور بھگوئے جاتے تھے پھر وہ اس کو دوسرے روز پیتے تھے پھر انگور خشک کر لیے جاتے تھے پھر وہ اس کو اگلے دن پیتے تھے پھر اس کو پھینک دیتے تھے اور ان لوگوں نے دلیل حضرت ابومسعود کی حدیث شریف (اگلی حدیث) سے حاصل کی ہے۔

It was narrated from Abu Rafi’ that ‘Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, said: “If you fear that Nabidh may be too strong, then weaken it with water.” ‘Abdullah (one of the narrators) said: “Before it gets strong.” (Da‘if)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 5607

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَی بْنُ يَمَانٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ عَطِشَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْکَعْبَةِ فَاسْتَسْقَی فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنْ السِّقَايَةِ فَشَمَّهُ فَقَطَّبَ فَقَالَ عَلَيَّ بِذَنُوبٍ مِنْ زَمْزَمَ فَصَبَّ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ فَقَالَ رَجُلٌ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا وَهَذَا خَبَرٌ ضَعِيفٌ لِأَنَّ يَحْيَی بْنَ يَمَانٍ انْفَرَدَ بِهِ دُونَ أَصْحَابِ سُفْيَانَ وَيَحْيَی بْنُ يَمَانٍ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ لِسُوئِ حِفْظِهِ وَکَثْرَةِ خَطَئِهِ

حسن بن اسماعیل بن سلیمان، یحیی بن یمان، سفیان، منصور، خالد بن سعد، ابومسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ شریف کے نزدیک پیاس محسوس کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا۔ لوگ مشک میں نبیذ لاتے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو سونگھا اور منہ بنایا پھر فرمایا میرے پاس آب زمزم کا ایک ڈول لے کر آؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر پانی ڈالا پھر اس کو پی لیا۔ ایک شخص نے عرض کیا وہ تو حرام ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ امام نسائی نے فرمایا یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں یحیی بن یمان ہے جس نے کہ تنہا اس کو روایت کیا سفیان سے اور یحیی بن یمان کی روایت دلیل پکڑنے کے لائق نہیں ہے اس لیے کہ اس کا حافظ برا ہے اور وہ بہت غلطی کرتا ہے۔

It was narrated from Yahya bin Saeed who heard Saeed bin Al-Musayyab say: “ThaqIf welcomed ‘Umar with a drink. He called for it, but when he brought it close to his mouth, he did not like it. He called for water to weaken it, and said: ‘Do like this.” (Da’if)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 5608

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حِصْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَصُومُ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ الَّتِي کَانَ يَصُومُهَا فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّائٍ فَلَمَّا کَانَ الْمَسَائُ جِئْتُهُ أَحْمِلُهَا إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّکَ تَصُومُ فِي هَذَا الْيَوْمِ فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَکَ بِهَذَا النَّبِيذِ فَقَالَ أَدْنِهِ مِنِّي يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَرَفَعْتُهُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ فَقَالَ خُذْ هَذِهِ فَاضْرِبْ بِهَا الْحَائِطَ فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمِمَّا احْتَجُّوا بِهِ فِعْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

علی بن حجر، عثمان بن حصن، زید بن واقد، خالد بن حسین، ابوہریرہ سے روایت ہے کہ مجھ کو علم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس دن روزہ رکھتے ہیں (اور کس دن نہیں رکھتے)۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزہ افطار کرنے کے واسطے نبیذ تیار رکھی جس کو میں نے تونبے میں (یعنی کدو کے تونبے میں) بنایا تھا۔ جس وقت شام ہوگئی تو میں اس کو لے کر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ کو علم تھا کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ دار ہیں تو میں آج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی افطاری کے وقت یہ نبیذ لے کر حاضر ہوا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس لاؤ اے ابوہریرہ! چنانچہ میں اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا تو وہ جوش مار رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لے جاؤ اور اسے دیوار پر مار دو۔ اس کو تو وہ شخص پیے گا جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر یقین نہ رکھتا ہو۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کی ایک دلیل حضرت عمر کا فعل بھی ہے۔ (جو کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے)۔

It was narrated that ‘Utbah bin Farqad said: “The Nabidh that ‘Umar bin Al-Khattab used to drink had turned to vinegar.” (Da‘if) One of the things that points to the soundness of this is the Hadith narrated by As-Sa’ib.

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 5609

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ إِمَامٌ لَنَا وَکَانَ مِنْ أَسْنَانِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِذَا خَشِيتُمْ مِنْ نَبِيذٍ شِدَّتَهُ فَاکْسِرُوهُ بِالْمَائِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَشْتَدَّ

سوید، عبدالل، سری بن یحییٰ ابوحفص، ابورافع، سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : وقت تم لوگ نبیذ کی شدت سے ڈرو تو تم اس کی تیزی توڑ ڈالو پانی سے۔ حضرت عبداللہ نے کہا یعنی تیزی سے قبل۔

It was narrated from As Sa’ib that ‘Umar bin Al-Khattab went out to them and said: “I noticed the smell of drink on so- and-so, and he said that he had drunk At-Tila’ (thickened juice of grapes). I am asking about what he drank. If it was an intoxicant I will flog him.” So ‘Umar bin Al Khattab, may Allah be pleased with him, flogged him, carrying out the Hadd punishment in full. (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 5610

أَخْبَرَنَا زَکَرِيَّا بْنُ يَحْيَی قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ تَلَقَّتْ ثَقِيفٌ عُمَرَ بِشَرَابٍ فَدَعَا بِهِ فَلَمَّا قَرَّبَهُ إِلَی فِيهِ کَرِهَهُ فَدَعَا بِهِ فَکَسَرَهُ بِالْمَائِ فَقَالَ هَکَذَا فَافْعَلُوا

زکریا بن یحیی، عبدالاعلی، سفیان، یحیی بن سعید، سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ (قبیلہ) ثقیف کے لوگوں نے حضرت عمر کے سامنے شراب رکھی۔ انہوں نے شراب منگائی جس وقت اس کو منہ سے لگایا تو برا لگا پھر پانی منگا کر اس کی تیزی توڑ دی اور کہا اس طریقہ سے کر لو۔

It was narrated from Jabir that a man from (the tribe of) Jaishan, who are from Yemen, came and asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم about a drink that they drank in his homeland that was made of corn and called Al-Mizr (beer). The Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said to him: “Is it an intoxicant?” He said: “Yes.” The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “Every intoxicant is unlawful. Allah, the Mighty and Sublime, has promised the one who drinks intoxicants that He will give him to drink from the mud of Khibal .“ They said: “Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, what is the mud of Khibal?” He said: “The sweat of the people of Hell,” or he said: “The juice of the people of Hell.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 5611

أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ قَالَ کَانَ النَّبِيذُ الَّذِي يَشْرَبُهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَدْ خُلِّلَ وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَی صِحَّةِ هَذَا حَدِيثُ السَّائِبِ

ابوبکر بن علی، ابوخیثمہ، عبدالصمد، محمد بن جحادہ ، اسمعیل بن ابوخالد، قیس بن ابوحازم عتبہ بن فرقد سے روایت ہے کہ حضرت عمر جو نبیذ پیتے تھے وہ سرکہ ہوتا تھا۔ امام نسائی نے فرمایا اس کی صحت پہ یہ روایت دلالت کرتی ہے۔

It was narrated that An Numan bin Bashir said: “I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم say: ‘That which is lawful is clear and that which is unlawful is clear, but between them there are matters which are doubtful.” And sometimes he said: “But between them are matters that are not as clear. I will describe the likeness of that for you. Allah, the Mighty and Sublime, has a sanctuary and the sanctuary of Allah is that which He has forbidden. Whoever grazes around the sanctuary will soon transgress into the sanctuary. And whoever approaches a matter that is unclear, he will soon wind up in the sanctuary.” And sometimes he said: “He will soon transgress, and indeed whoever mixes in doubt, he will soon cross into it.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 5612

قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْکِينٍ قِرَائَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلَانٍ رِيحَ شَرَابٍ فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرَابُ الطِّلَائِ وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ فَإِنْ کَانَ مُسْکِرًا جَلَدْتُهُ فَجَلَدَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْحَدَّ تَامًّا

حارث بن مسکین، ابن قاسم، مالک، ابن شہاب، سائب بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت عمر لوگوں کے پاس آئے اور فرمایا میں نے فلاں شخص کے منہ سے شراب کی بدبو محسوس کی ہے وہ عبداللہ تھے (ان کے لڑکے) پھر ان سے کہا یہ طلاء شراب ہے لیکن تحقیق کروں گا اس نے کیا پیا ہے؟ اگر نشہ لانے والی شراب ہوئی تو میں اس کو حد لگاؤ گا۔ پھر حضرت عمر نے اس کو پوری حد لگائی۔

It was narrated that Abu Al Hawra’ As-Saadi said: “I said to Al Hasan bin ‘All, may Allah be pleased with him: ‘What did you memorize from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم?’ He said: I memorized from him: ‘Leave that which makes you doubt for that which does not make you doubt.” (Sahih)

Permalink