TrueHadith

اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان و الے کو صبر کی تلقین کر نے کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 1753

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ الْأنْصَارِ قَالُوا يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَائَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنْ الْإِبِلِ فَقَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُکُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ فَحُدِّثَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِهِمْ فَأَرْسَلَ إِلَی الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَائَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْکُمْ فَقَالَ لَهُ فُقَهَائُ الْأَنْصَارِ أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ قَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُکُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِکُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلَی رِحَالِکُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ فَقَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا قَالَ فَإِنَّکُمْ سَتَجِدُونَ أَثَرَةً شَدِيدَةً فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنِّي عَلَی الْحَوْضِ قَالُوا سَنَصْبِرُ

حرملہ بن یحیی تجیبی، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، انس بن مالک سے روایت ہے انصار میں سے بعض لوگوں نے حنین کے دن عرض کیا جب اللہ نے اپنے رسول کو اموالِ ہوازن میں سے کچھ مالِ فے (یعنی بغیر جہاد) عطا فرمایا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریشیوں کو سو سو اونٹ دینے شروع فرمائے تو انہوں نے کہا کہ اللہ اپنے رسول سے درگزر فرمائے کہ آپ قریش کو دیتے ہیں اور ہیمں چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ ہماری تلواریں ان کا خون بہاتی ہیں، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان کی بات بیان کی گئی تو آپ نے انصار کو بلوایا کہ وہ چمڑے کے قبہ میں جمع ہوں جب وہ جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس جا کر فرمایا مجھے تم سے کیا بات پہنچی ہے؟ تو آپ سے انصار کے سمجھدار لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول ہم سے بعض نوعمر عام لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درگزر فرمائے کہ آپ ہیمں چھوڑ کر قریش کو عطا کر رہیہیں اور ہماری تلواریں ان کا خون بہاتی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں ان لوگوں کو دیتا ہوں جن کے کفر کا زمانہ قریب ہی گزرا ہے تاکہ ان کو جمع کروں تاکہ تم اپنے گھروں کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لوٹو اللہ کی قسم جو چیز لے کر تم واپس لوٹو گے وہ بہتر ہے اس سے جو وہ لے کر لوٹیں گے تو انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ہم خوش ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اس کے رسول سے ملاقات کرو گے اور میں حوض پر ہوں گا انصار نے عرض کیا ہم صبر کریں گے۔

Anas b. Malik reported that when on the Day of Hunain Allah conferred upon His Apostle (may peace be upon him) the riches of Hawazin (without armed encounter), the Messenger of Allah (may peace be upon him) set about distributing to some persons of Quraish one hundred camels. Upon this they (the young people from the Ansar) said: May Allah grant pardon to the Messenger of Allah (may peace be upon him) that he bestowed (these camels) upon the people of Quraish, and he ignored us, whereas our swords are still dripping blood. Anas b. Malik said: Their statement was conveyed to the Messenger of Allah (may peace be upon him) and he sent (someone) to the Ansar and gathered them under a tent of leather. When they had assembled, the Messenger of Allah (may peace be upon him) came to thera and said: What is this news that has reached me from you? The wise people of the Ansar said: Messenger of Allah, so far as the sagacious amongst us are concerned they have said nothing, but we have amongst us persons of immature age; they said: May Allah grant pardon to the Messenger of Allah (may peace be upon him) that he gave to the Quraish and ignored us (despite the fact) that our swords are besmeared with their blood. Upon this the Messenger of Allah (may peace be upon him) said: I give (at times material gifts) to persons who were quite recently in the state of unbelief, so that I may incline them to truth. Don't you feel delighted that people should go with riches, and you should go back to your places with the Apostle of Allah? By Allah, that with which you would return is better than that with which they would return. They said: Yes, Messenger of Allah, we are pleased. The Holy Prophet said too: You would find marked preference (in conferring of the material gifts) in future, so you should show patience till you meet Allah and His Messenger and I would he at the Haud Kauthar. They said: We would show patience.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1212430)

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ مَا أَفَائَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَنَسٌ فَلَمْ نَصْبِرْ وَقَالَ فَأَمَّا أُنَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ

حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہوازن کے اموال سے مالِ فء عطا فرمایا باقی حدیث اسی جیسی ہے سوائے اس کے کہ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ہم نے صبر نہ کیا۔

Anas b. Malik reported that when Allah conferred upon His Messenger (may peace be upon him) the riches of Hawazin (without armed encounter); the rest of the hadith is the same except some variation (of words): "Anas said: We could not tolerate it and he also said: The people were immature in age."

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1212431)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَنَسٌ قَالُوا نَصْبِرُ کَرِوَايَةِ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ

زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، انہوں نے اپنے چچا سے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہی حدیث اس سند سے بھی مذکور ہے مفہوم و معنی ایک ہی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Anas b. Malik through another chain of transmitters.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1754

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ أَفِيکُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِکُمْ فَقَالُوا لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ ابْنَ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ فَقَالَ إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَی بُيُوتِکُمْ لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَکَ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَکْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کو جمع کیا اور فرمایا کیا تمہارے درمیان تمہارے علاوہ کوئی نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کیا سوائے ہماری بہن کے لڑکے کے کوئی نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قوم کی بہن کا بیٹا انہی میں سے ہوتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قریش نے ابھی زمانہ جاہلیت اور مصیبت سے نجات پائی ہے اور میں نے ان کی دلجوئی اور تالیف قلبی کا ارادہ کیا کیا تم خوش نہیں کہ لوگ تو دنیا لے کر گھروں کو لوٹیں اور تم اپنے گھروں کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لوٹا اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔

Anas b. Malik reported that the Messenger of Allah (may peace be upon him) gathered the Ansar and said: Is there someone alien among you? They said: No, but only the son of our sister. Upon this the Messenger of Allah (may peace be upon him) said: The son of the sister of the people is included among the tribe, and (farther) said: The Quraish have recently abandoned Jahiliya and have just been delivered from distress; I, therefore, intend to help them and conciliate them. Don't you feel happy that the people should return with worldly riches and you return with the Messenger of Allah to your houses? (So far as my love for you is concerned I should say) if the people were to tread a valley and the Ansar tread a narrow path (in a mountain) I would tread the narrow path of the Ansar.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1755

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ مَکَّةُ قَسَمَ الْغَنَائِمَ فِي قُرَيْشٍ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْکُمْ قَالُوا هُوَ الَّذِي بَلَغَکَ وَکَانُوا لَا يَکْذِبُونَ قَالَ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا إِلَی بُيُوتِهِمْ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَی بُيُوتِکُمْ لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا وَسَلَکَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَکْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ

محمد بن ولید، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوتیاح، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو غنیمتیں قریش میں تقسیم کی گئیں تو انصار نے کہا یہ بھی عجیب بات ہے حالانکہ ہماری تلواروں سے خون ٹپک رہا ہے اور ہمارا مال غنیمت قریش پر لٹایا جا رہا ہے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کو جمع کر کے فرمایا مجھے تم سے کیا بات پہنچی ہے اور وہ جھوٹ نہ بولتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ لوگ تو دنیا کے ساتھ لوٹیں گے اپنے گھروں کی طرف اور تم اپنے گھروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لوٹو گے اگر قریش ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔

Anas b. Malik reported: When Mecca was conquered, he (the Holy Prophet) distributed the spoils among the Quraish. Upon this the Ansar said: It is strange that our swords are dripping with their blood, whereas our spoils have been given to them (to the Quraish). This (remark) reached the Messenger of Allah (may peace be upon him), and so he gathered them and said: What is this that has been conveyed to me about you? They said: (Yes) it is that very thing that has reached you- and they were not (the people) to speak lie. Upon this he said: Don't you like that the people should return to their houses along with worldly riches, whereas you should return to your houses with the Messenger of Allah? If the people were to tread a valley or a narrow path, and the Ansar were also to tread a valley or a narrow path, I would tread the valley along with the Ansar or the narrow path along with the Ansar.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1756

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَی الْآخَرِ الْحَرْفَ بَعْدَ الْحَرْفِ قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ أَقْبَلَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ وَغَيْرُهُمْ بِذَرَارِيِّهِمْ وَنَعَمِهِمْ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ عَشَرَةُ آلَافٍ وَمَعَهُ الطُّلَقَائُ فَأَدْبَرُوا عَنْهُ حَتَّی بَقِيَ وَحْدَهُ قَالَ فَنَادَی يَوْمَئِذٍ نِدَائَيْنِ لَمْ يَخْلِطْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا قَالَ فَالْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَکَ قَالَ ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالُوا لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَکَ قَالَ وَهُوَ عَلَی بَغْلَةٍ بَيْضَائَ فَنَزَلَ فَقَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَانْهَزَمَ الْمُشْرِکُونَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ کَثِيرَةً فَقَسَمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالطُّلَقَائِ وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ إِذَا کَانَتْ الشِّدَّةُ فَنَحْنُ نُدْعَی وَتُعْطَی الْغَنَائِمُ غَيْرَنَا فَبَلَغَهُ ذَلِکَ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْکُمْ فَسَکَتُوا فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ تَحُوزُونَهُ إِلَی بُيُوتِکُمْ قَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا قَالَ فَقَالَ لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَکَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ قَالَ هِشَامٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَنْتَ شَاهِدٌ ذَاکَ قَالَ وَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْهُ

محمد بن مثنی، ابراہیم بن محمد بن عرعرہ، معاذ بن معاذ، ابن عون، ہشام بن زید بن انس، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ جب حنین کا دن تھا تو ہوازن اور غطفان و غیرہ اپنی اولاد اور اونٹوں سمیت مقابلہ کو آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس دن دس ہزار لوگ تھے اور آزاد کئے ہوئے بھی ساتھ تھے پس ان سب نے ایک مرتبہ پیٹھ پھیر لی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکیلے رہ گئے۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو آوازیں دیں ان کے درمیان کوئی چیز نہیں کہی آپ نے اپنی دائیں طرف توجہ کی تو فرمایا اے انصار کی جماعت انہوں کیا لبیک اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش ہوں ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بائیں طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے انصار کی جماعت انہوں نے عرض کیا لبیک اے اللہ رسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش ہو جائیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفید خچر پر سوار تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترے اور فرمایا اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں مشرکوں کو شکست ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت غنیمتیں حاصل ہوئیں تو آپ نے مہاجرین اور طلقاء مکہ میں تقسیم کیں اور انصار کو کچھ نہ دیا تو انصار نے کہا جب سختی ہوتی ہے تو ہمیں پکارا جاتا ہے اور غنیمت ہمارے غیر کو دی جاتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک خیمہ میں جمع کر کے فرمایا اے انصار کی جماعت مجھے تم سے کیا بات پہنچی ہے تو وہ خاموش ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے جماعت انصار کیا تم خوش نہیں ہوں کہ لوگ تو دنیا لے جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیرے ہوئے اپنے گھروں کو جاؤ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیوں نہیں ہم خوش ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا ہشام کہتے ہیں میں نے کہا اے ابوحمزہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت وہاں حاضر تھے تو انہوں نے فرمایا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر کہاں غائب ہوتا۔

Anas b. Malik reported that when it was the Day of Hunain there came the tribes of Hawazin, Ghatafan and others along with their children and animals, and there were with the Apostle of Allah (may peace be upon him) that day ten thousand (soldiers), and newly freed men (of Mecca after its conquest). All these men (once) turned their backs, till he (the Holy Prophet) was left alone. He (the Messenger of Allah) on that day called twice and he did not interpose anything between these two (announcements) He turned towards his right and said: 0 people of Ansar! They said: At thy beck and call (are we), Messenger of Allah. Be glad we are with thee. He then turned towards his left and said: 0 people of Ansar. They said: At thy beck and call (are we). Be glad we are with thee. He (the Holy Prophet) was riding a white mule. He dismounted and said: I am the servant of Allah and His Apostle. The polytheists suffered defeat and the Messenger of Allah (may peace he upon him) acquired a large quantity of spoils, and he distributed them among the refugees and the people recently delivered (of Mecca) but did not give anything to the Ansar. The Ansar said: In the hour of distress it is we who are called (for help), but the spoils are given to other people besides us. This (remark) reached him (the Holy Prophet), and he gathered them in a tent and said: What is this news that has reached me on your behalf? They kept silence. Upon this he said: 0 people of Ansar, don't you like that people should go away with worldly (riches), and you go away with Muhammad taking him to your houses? They said: Yes, happy we are Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: If the people were to tread a valley, and the Ansar were to tread a narrow path, I would take the narrow path of the Ansar. Hisham said: I asked Abu Hamza if he was present there. He said: How could I be absent from him?

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1212435)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي السُّمَيْطُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ افْتَتَحْنَا مَکَّةَ ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا فَجَائَ الْمُشْرِکُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رَأَيْتُ قَالَ فَصُفَّتْ الْخَيْلُ ثُمَّ صُفَّتْ الْمُقَاتِلَةُ ثُمَّ صُفَّتْ النِّسَائُ مِنْ وَرَائِ ذَلِکَ ثُمَّ صُفَّتْ الْغَنَمُ ثُمَّ صُفَّتْ النَّعَمُ قَالَ وَنَحْنُ بَشَرٌ کَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلَافٍ وَعَلَی مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ فَجَعَلَتْ خَيْلُنَا تَلْوِي خَلْفَ ظُهُورِنَا فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ انْکَشَفَتْ خَيْلُنَا وَفَرَّتْ الْأَعْرَابُ وَمَنْ نَعْلَمُ مِنْ النَّاسِ قَالَ فَنَادَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَالَ الْمُهَاجِرِينَ يَالَ الْمُهَاجِرِينَ ثُمَّ قَالَ يَالَ الْأَنْصَارِ يَالَ الْأَنْصَارِ قَالَ قَالَ أَنَسٌ هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ قَالَ قُلْنَا لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَايْمُ اللَّهِ مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّی هَزَمَهُمْ اللَّهُ قَالَ فَقَبَضْنَا ذَلِکَ الْمَالَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَی الطَّائِفِ فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَی مَکَّةَ فَنَزَلْنَا قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ مِنْ الْإِبِلِ ثُمَّ ذَکَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ کَنَحْوِ حَدِيثِ قَتَادَةَ وَأَبِي التَّيَّاحِ وَهِشَامِ بْنِ زَيْدٍ

عبیداللہ بن معاذ، حامد بن عمر، محمد بن عبدالعلی، ابن معاذ، معتمر بن سلیمان، سمیط، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ہم نے مکہ فتح کرلیا پھر ہم نے جہاد کیا۔ مشر کین اچھی صف بندی کر کے آئے جو میں نے دیکھیں پہلے گھڑ سواروں نے صف باندھی پھر پیدل لڑنے والوں نے اس کے پیچھے عورتوں نے صف باندھی پھر بکریوں کی صف باندھی گئی پھر اونٹوں کی صف بندی کی گئی اور ہم بہت لوگ تھے اور ہماری تعداد چھ ہزار کو پہنچ چکی تھی اور ایک جانب کے سواروں پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سپہ سالار تھے پس ہمارے سوار ہماری پشتوں کے پیچھے پناہ گزیں ہونا شروع ہوئے اور زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ہمارے گھوڑے ننگے ہوئے اور دیہاتی بھاگے اور وہ لوگ جن کو ہم جا نتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکارا اے مہاجرین! اے مہاجرین پھر فرمایا اے انصار اے انصار حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث میرے چچاؤں کی ہے ہم نے کہا لبیک اے اللہ کے رسول پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے پس اللہ کی قسم ہم پہنچنے بھی نہ پائے تھے کہ اللہ نیان کو شکست دے دی پھر ہم نے ان کا چالیس روز محاصرہ کیا پھر ہم مکہ کی طرف لوٹے اور اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایک کو سو سو اونٹ دینے شروع کر دیئے پھر باقی حدیث اسی طرح ذکر فرمائی۔

Anas b. Malik reported: We conquered Mecca and then we went on an expedition to Hunain. The polytheists came, forming themselves into the best rows that I have seen. They first formed the rows of cavalry, then those of infantry, and then those of women behind them. Then there were formed the rows of sheep and goats and then of other animals. We were also people large in number, and our (number) had reached six thousand. And on one side Khalid b. Walid was in charge of the cavalry. And our horses at once turned back from our rear. And we could hardly hold our own when our horses were exposed, and the bedouins and the people whom we knew took to their heels. (Seeing this) the Messenger of Allah (may peace be upon him) called thus: 0 refugees,0 refugees. He then said: 0 Ansar,0 Ansar. (Anas said: This hadith is transmitted by a group of eminent persons.) We said: At thy beck and call are we, Messenger of Allah. The Messenger of Allah (may peace be upon him) then advanced and he (Anas) said: By Allah, we had not yet reached them when Allah defeated them, and we took possession of the wealth and we then marched towards Ta'if, and we besieged them for forty nights, and then came back to Mecca and encamped (at a place). The Messenger of Allah (may peace be upon him) began to bestow a hundred camels upon each individual. The rest of the hadith is the same.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1757

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ أَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ کُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَأَعْطَی عَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِکَ فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ أَتَجْعَلُ نَهْبِي وَنَهْبَ الْعُبَيْدِ بَيْنَ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعِ فَمَا کَانَ بَدْرٌ وَلَا حَابِسٌ يَفُوقَانِ مِرْدَاسَ فِي الْمَجْمَعِ وَمَا کُنْتُ دُونَ امْرِئٍ مِنْهُمَا وَمَنْ تَخْفِضْ الْيَوْمَ لَا يُرْفَعِ قَالَ فَأَتَمَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً

محمد بن ابوعمر مکی، سفیان، عمر بن سعید بن مسروق، عبایہ بن رفاعہ، حضرت رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوسفیان بن حرب اور صفوان بن امیہ اور عیینہ بن حصین اور اقرع بن حابس میں سے ہر ایک کو سو اونٹ عطا کئے اور عباس بن مرد اس کو کچھ کم دئیے تو عباس بن مرد اس نے کہا۔ آپ میرے اور میرے گھوڑے عبید کا حصہ عیینہ اور اقرع کے درمیان مقرر کرتے ہیں حالانکہ بدر (دادا عیینہ) اور حابس (والد اقرع) مرد اس (والد عباس) سے کسی مجمع میں بڑھ نہ سکتے اور میں دونوں میں سے کسی سے کم نہ تھا اور آج جس کو نیچا کر دیا گیا پھر اس کو سر بلندی حاصل نہ ہوگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سو اونٹ پورے کر دئیے۔

Rafi' b. Khadij reported that the Messenger of Allah; (may peace be upon him) gave to Abu Sufyan b. Harb and Safwan. b. Umayya and 'Uyaina b. Hisn and Aqra' b. Habis, i. e. to every one of these persons, one hundred of camels, and gave to 'Abbas b. Mirdas less than this number. Upon this 'Abbas b. Mirdis said: You allot the share of my booty and that of my horse between 'Uyaina and Aqra'. Both Uyaina and Aqra' are in no way more eminent than Mirdas (my father) in the assembly. I am in no way inferior to any one of these persons. And he who is let down today would not be elevated. He (the narrator) said: The Messenger of Allah (may peace be upon him) then completed one hundred camels for him.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1212437)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فَأَعْطَی أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَزَادَ وَأَعْطَی عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ مِائَةً

احمد بن عبدہ ضبی، ابن عیینہ، عمر بن سعید بن مسروق، اسی حدیث کی دوسری سند میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کی غنیمت تقسیم کی تو ابوسفیان بن حرب کو سو اونٹ دئیے اور علقمہ بن علاثہ کو سو اونٹ دئیے باقی حدیث گزر چکی ہے۔

This hadith has been narrated by Sa'id b. Masruq with the same chain of transmitters (with the words): "The Apostle of Allah (may peace be upon him) distributed the spoils of Hunain, and he (the Holy Prophet) gave one hundred camels to Abu Sufyan b. Harb. The rest of the hadith is the same, but with this addition: "He bestowed upon" Alqama b. 'Ulatha one hundred (camels)."

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1212438)

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ وَلَا صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ وَلَمْ يَذْکُرْ الشِّعْرَ فِي حَدِيثِهِ

مخلد بن خالد شعیری، سفیان، عمر بن سعید، اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر فرمائی ہے لیکن اس حدیث میں علقمہ بن علاثہ اور صفوان بن امیہ کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اس حدیث میں شعر ہیں۔

This hadith has been narrated by Sa'id with the same chain of transmitters, but no mention has been made of Alqama b. 'Ulatha, nor of safwin b. Umayya, and he did not mention the verse in his hadith.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1758

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَتَحَ حُنَيْنًا قَسَمَ الْغَنَائِمَ فَأَعْطَی الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ فَبَلَغَهُ أَنَّ الْأَنْصَارَ يُحِبُّونَ أَنْ يُصِيبُوا مَا أَصَابَ النَّاسُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَهُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْکُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاکُمْ اللَّهُ بِي وَعَالَةً فَأَغْنَاکُمْ اللَّهُ بِي وَمُتَفَرِّقِينَ فَجَمَعَکُمْ اللَّهُ بِي وَيَقُولُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ فَقَالَ أَلَا تُجِيبُونِي فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ فَقَالَ أَمَا إِنَّکُمْ لَوْ شِئْتُمْ أَنْ تَقُولُوا کَذَا وَکَذَا وَکَانَ مِنْ الْأَمْرِ کَذَا وَکَذَا لِأَشْيَائَ عَدَّدَهَا زَعَمَ عَمْرٌو أَنْ لَا يَحْفَظُهَا فَقَالَ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّائِ وَالْإِبِلِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَی رِحَالِکُمْ الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَکُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَکْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ إِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوْنِي عَلَی الْحَوْضِ

سریج بن یونس، اسماعیل بن جعفر، عمرو بن یحیی بن عمارہ، عباد بن تمیم، حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حنین فتح ہوا تو رسول اللہ نے غنائم تقسیم کئے اور مؤلفۃ القلوب کو مال دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ انصاریہ چاہتے ہیں کہ جو حصہ اوروں کو ملا ہے انہیں بھی ملے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو خطبہ دیا اللہ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا اے جماعت انصار کیا میں نے تم کو گمراہ نہ پایا۔ پھر اللہ نے تم کو میرے ذریعہ غنی کردیا اور تم متفرق تھے تو اللہ نے میرے ذریعہ تمہیں جمع فرما دیا اور انصار کہتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر بڑا احسان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم مجھے جواب نہیں دیتے؟ تو انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر بڑا احسان ہے فرمایا اگر تم چاہتے تو ایسا ایسا کہہ سکتے تھے اور معاملہ ایسا ایسا تھا اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی ساری چیزوں کو شمار کیا۔ عمرو کہتے ہیں کہ میں اس کو یاد نہ رکھ سکا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم پسند نہیں کرتے لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے گھر لے جاؤ اور انصار اندرونی لباس کی مثل ہیں اور لوگ بالائی لباس کی مثل ہیں اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں۔ عنقریب میرے بعد تم کو اپنے نفوس پر دوسرے لوگوں کی ترجیح نظر آئے گی لیکن تم صبر کرنا یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے ملاقات کرو۔

Abdullah b. Zaid reported that when the Messenger of Allah (may peace be upon him) conquered Hunain he distributed the booty, and he bestowed upon those whose hearts it was intended to win. It was conveyed to him (the Holy Prophet) that the Ansar cherished a desire that they should be given (that very portion) which the people (of Quraish) had got. Upon this the Messenger of Allah (may peace be upon him) stood up and, after having praised Allah and lauded Him, addressed them thus: 0 people of Ansar, did I not find you erring and Allah guided you aright through me, and (in the state of) being destitute and Allah made you free from want through me, and in a state of disunity and Allah united you through me, and they (the Ansar) said: Allah and His Messenger are most benevolent. He (again) said: Why do you not answer me? They said: Allah and His Messenger are the most benevolent. He said, If you wish you should say so and so, and the event (should take) such and such course (and in this connection he made a mention) of so many things. 'Amr is under the impression that he has not been able to remember them. He (the Holy Prophet) further said: Don't you feel happy (over this state of affairs) that the people should go away with goats and camels, and you go to your places along with the Messenger of Allah? The Ansar are inner garments (more close to me) and (other) people are outer garments. Had there not been migration, I would have been a man from among the Ansar. If the people were to tread a valley or a narrow path, I would tread the valley (chosen) by the Ansar or narrow path (trodden) by them. And you would soon find after me preferences (over you in getting material benefits). So you should show patience till you meet me at the Haud (Kauthar).

Permalink

Sahih MuslimHadith 1759

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا فِي الْقِسْمَةِ فَأَعْطَی الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَأَعْطَی عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِکَ وَأَعْطَی أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ وَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ فَقَالَ رَجُلٌ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا عُدِلَ فِيهَا وَمَا أُرِيدَ فِيهَا وَجْهُ اللَّهِ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ قَالَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ حَتَّی کَانَ کَالصِّرْفِ ثُمَّ قَالَ فَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ يَعْدِلْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَی قَدْ أُوذِيَ بِأَکْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ قَالَ قُلْتُ لَا جَرَمَ لَا أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا

زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابووائل، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض لوگوں کو ترجیح دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اقرع بن حابس کو سو اونٹ دئیے اور عیینہ کو بھی اسی کی مثل اور عیینہ کے کچھ سرداروں کو بھی اسی طرح عطا فرمایا اور تقسیم کے وقت ان لوگوں کو ترجیح دی تو ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم اس تقسیم میں انصاف نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس میں اللہ کی رضا کا ارادہ کیا گیا۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں میں نے کہا اللہ قسم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی ضرور خبر دوں گا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی بات پہنچا دی جو اس نے کہا تو آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا یہاں تک کہ خون کی طرح ہوگیا پھر فرمایا جب اللہ اور اس کے رسول نے انصاف نہیں کیا تو اور کون ہے جو انصاف کرے گا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم فرمائے کہ ان کو اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی تو انہوں نے صبر کیا میں نے دل میں کہا کہ آج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی بات کی خبر نہ دوں گا۔

Abdullah reported: On the day of Hunain, the Messenger of Allah (may peace be upon him) showed preference to some people in the distribution of the spoils. He bestowed on Aqra' b. Habis one hundred camels, and bestowed an equal (number) upon 'Uyaina, and bestowed on people among the elites of Arabia, and preferred them (to others) on that day, in the distribution (of spoils). Upon this a person said: By Allah, neither justice has been done in this distribution (of spoils), nor has the pleasure of Allah been sought in it. I (the Narrator ) said: By Allah, I will certainly inform the Messenger of Allah (may peace be upon him) about it. So I came to him and informed him about what he had said. The colour of his (the Prophet's) face changed red like blood and he then said: Who would do justice, if Allah and His Messenger do not do justice? He further said: May Allah have mercy upon Moses; he was tormented more than this, but he showed patience. I said: Never would I convey him (the Holy Prophet) after this (unpleasant) narration.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1760

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِکَ غَضَبًا شَدِيدًا وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ حَتَّی تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَذْکُرْهُ لَهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ قَدْ أَوُذِيَ مُوسَی بِأَکْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، اعمش، شقیق، عبد اللہ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال غنیمت تقسیم کیا تو ایک آدمی نے کہا کہ اس تقسیم میں اللہ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا ۔ عبداللہ کہتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو چپکے سے اس کی خبر دی تو آپ اس بات سے سخت غصہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ ہوگیا یہاں تک کہ میں نے خواہش کی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر نہ کرتا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ کو اس سے زیادہ اذیت دی گئی تو انہوں نے صبر کیا۔

Abdullah reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) distributed spoils (of war). Upon this a person said: This is a distribution in which the pleasure of Allah has not been sought. I came to the Apostle of Allah (may peace be upon him) and informed him in an undertone. He (the Holy Prophet) was deeply angry at this and his face became red till I wished that I had not made a mention of it to him. He (the Holy Prophet) then said: Moses was tormented more than this, but he showed patience.

Permalink