TrueHadith

ذکر کی پانبدی اور امورا آخرت میں غور وفکر مراقبہ کی فضلیت اور بعض اوقات دنیا کی مشغولیت کی وجہ سے انہیں چھوڑ بیٹھنے کے جواز کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 4937

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّيْمِيُّ وَقَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ الْأُسَيِّدِيِّ قَالَ وَکَانَ مِنْ کُتَّابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقِيَنِي أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ کَيْفَ أَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ قَالَ قُلْتُ نَافَقَ حَنْظَلَةُ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا تَقُولُ قَالَ قُلْتُ نَکُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذَکِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّی کَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ فَنَسِينَا کَثِيرًا قَالَ أَبُو بَکْرٍ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَلْقَی مِثْلَ هَذَا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا ذَاکَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَکُونُ عِنْدَکَ تُذَکِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّی کَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِکَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا کَثِيرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ لَوْ تَدُومُونَ عَلَی مَا تَکُونُونَ عِنْدِي وَفِي الذِّکْرِ لَصَافَحَتْکُمْ الْمَلَائِکَةُ عَلَی فُرُشِکُمْ وَفِي طُرُقِکُمْ وَلَکِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

یحیی بن یحیی، قطن بن نسیر یحیی جعفر بن سلیمان سعید بن ایاس جریر، ابی عثمان نہدی حضرت حنظلہ اسیدی سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ کے کا تبوں میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوبکر کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا اے حنظلہ تم کیسے ہو میں نے کہا حنظلہ تو منافق ہوگیا انہوں نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ تم کیا کہہ رہے ہو میں نے کہا ہم رسول اللہ کی خدمت میں ہوتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جنت و دوزخ کی یاد دلاتے رہتے ہیں گویا کہ ہم انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور جب ہم رسول اللہ کے پاس سے نکل جاتے ہیں تو ہم بیویوں اور اولاد اور زمینوں وغیرہ کے معاملات میں مشغول ہو جاتے ہیں اور ہم بہت ساری چیزوں کو بھول جاتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اللہ کی قسم ہمارے ساتھ بھی اسی طرح معاملہ پیش آتا ہے میں اور ابوبکر چلے یہاں تک کہ ہم رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول حنظلہ تو منافق ہوگیا رسول اللہ نے فرمایا کیا وجہ ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جنت و دوزخ کی یاد دلاتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ آنکھوں دیکھے ہو جاتے ہیں جب ہم آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ہم اپنی بیویوں اور اولاد اور زمین کے معاملات وغیرہ میں مشغول ہو جانے کی وجہ سے بہت ساری چیزوں کو بھول جاتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم اسی کیفیت پر ہمیشہ رہو جس حالت میں میرے پاس ہوتے ہو، ذکر میں مشغول ہوتے ہو تو فرشتے تمہارے بستروں پر تم سے مصافحہ کریں اور راستوں میں بھی لیکن اے حنظلہ ایک ساعت (یاد کی) ہوتی ہے اور دوسری (غفلت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا۔

Hanzala Usayyidi, who was amongst the scribes of Allah's Messenger (may peace be upon him) reported: I met Abu Bakr. He said: Who are you? He (Hanzala) said: Hanzala has turned to be a hypocrite. He (Abu Bakr) said: Hallowed be Allah, what are you saying? Thereupon he said: I say that when we are in the company of Allah's Messenger (may peace be upon him) we ponder over Hell-Fire and Paradise as if we are seeing them with our very eyes and when we are away from Allah's Messenger (may peace be upon him) we attend to our wives, our children, our business; most of these things (pertaining to After-life) slip out of our minds. Abu Bakr said: By Allah, I also experience the same. So I and Abu Bakr went to Allah's Messenger (may peace be upon him) and said to him: Allah's Messenger, Hanzala has turned to be a hypocrite. Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: What has happened to you? I said: Allah's Messenger, when we are in your company, we are reminded of Hell-Fire and Paradise as if we are seeing them with our own eyes, but whenever we go away from you and attend to our wives, children and business, much of these things go out of our minds. Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: By Him in Whose Hand is my life, if your state of mind remains the same as it is in my presence and you are always busy in remembrance (of Allah), the Angels will shake hands with you in your beds and in your paths but, Hanzala, time should be devoted (to the worldly affairs) and time (should be devoted to prayer and meditation). He (the Holy Prophet) said this thrice.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4938

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَعَظَنَا فَذَکَّرَ النَّارَ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ إِلَی الْبَيْتِ فَضَاحَکْتُ الصِّبْيَانَ وَلَاعَبْتُ الْمَرْأَةَ قَالَ فَخَرَجْتُ فَلَقِيتُ أَبَا بَکْرٍ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ وَأَنَا قَدْ فَعَلْتُ مِثْلَ مَا تَذْکُرُ فَلَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَافَقَ حَنْظَلَةُ فَقَالَ مَهْ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَأَنَا قَدْ فَعَلْتُ مِثْلَ مَا فَعَلَ فَقَالَ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً وَلَوْ کَانَتْ تَکُونُ قُلُوبُکُمْ کَمَا تَکُونُ عِنْدَ الذِّکْرِ لَصَافَحَتْکُمْ الْمَلَائِکَةُ حَتَّی تُسَلِّمَ عَلَيْکُمْ فِي الطُّرُقِ

اسحاق بن منصور عبدالصمد ابوسعید جریر، ابی عثمان نہدی حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت کی تو جہنم کی یاد دلائی پھر میں گھر کی طرف آیا تو میں نے بچوں سے ہنسی مذاق کیا اور بیوی سے دل لگی کی میں باہر نکلا تو ابوبکر سے ملاقات ہوئی میں نے ان سے اس کا تذکرہ کیا پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول حنظلہ تو منافق ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جاؤ کیا بات ہے میں نے پوری بات ذکر کی پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا میں نے بھی ایسے ہی کیا جیسے انہوں نے کہا تو آپ نے فرمایا اے حنظلہ یہ کیفیت کبھی کبھی ایسے ہوتی رہتی ہے اگر تمہارے دل ہر وقت اسی طرح رہیں جیسے نصیحت و ذکر کرتے وقت ہوتے ہیں تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں یہاں تک کہ وہ راستوں میں تم سے سلام کریں۔

Hanzala reported: We were in the company of Allah's Messenger (may peace be upon him) and he delivered to us a sermon and made a mention of Hell-Fire. Then I came to my house and began to laugh with my children and sport with my wife. (Hanzala) further reported: I went out and met Abu Bakr and made a mention of that to him. Thereupon he said: I have done the same as you have mentioned. So we went to see Allah's Messenger (may peace be upon him) and said to him: Allah's Messenger, Hanzala has turned to be a hypocrite. And he (the Holy Prophet) said show respite. And then I narrated to him the story, and Abu Bakr said: I have done the same as he has done. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Hanzala, there is a time for worldly affairs and a time for worship and devotion, and if your state of mind is always the same as it is at the time of remembrance of Allah, the Angels would shake hands with you and would greet you on the path by saying: As-Salamu-Alaikum.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232468)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ التَّمِيمِيِّ الْأُسَيِّدِيِّ الْکَاتِبِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَّرَنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا

زہیر بن حرب، فضل بن دکین سفیان، سعید بن جریری ابی عثمان نہدی حضرت حنظلہ تمیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسیدی کاتب سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں آپ ہمیں جنت وجہنم کی یاد دلاتے ہیں باقی حدیث اسیطرح ہے۔

Hanzala Taimi Ufayyidi, the scribe of Allah's Messenger (may peace be upon him), reported: We were in the presence of Allah's Messenger (may peace be upon him) and he brought to our minds the problems pertaining to Paradise and Hell-Fire. The rest of the hadith is the same.

Permalink