TrueHadith

اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 4939

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ کَتَبَ فِي کِتَابِهِ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي

قتیبہ بن سعید، مغیرہ ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے پاس موجود کتاب میں لکھ دیا میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہو گی۔

Abu Huraira reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: When Allah created the creation as He was upon the Throne, He put down in His Book: Verily, My mercy predominates My wrath.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4940

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي

زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ رب العزت نے فرمایا میری رحمت میرے غصہ سے آگے بڑھ گئی ہے۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: My mercy excels My wrath.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4941

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَطَائِ بْنِ مِينَائَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَضَی اللَّهُ الْخَلْقَ کَتَبَ فِي کِتَابِهِ عَلَی نَفْسِهِ فَهُوَ مَوْضُوعٌ عِنْدَهُ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي

علی بن خشرم ابوضمرہ حارث بن عبدالرحمن عطاء بن میناء حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کر چکے تو اپنے آپ پر اپنے پاس موجود کتاب میں لکھا میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہو گئی۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: When Allah created the creation, He ordained for Himself and this document is with Him: Verily, My mercy predominates My wrath.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4942

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْئٍ فَأَمْسَکَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْئًا وَاحِدًا فَمِنْ ذَلِکَ الْجُزْئِ تَتَرَاحَمُ الْخَلَائِقُ حَتَّی تَرْفَعَ الدَّابَّةُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ

حرملہ بن یحیی ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا اللہ رحمت کے سو اجزا بتائے پھر ان میں سے ننانوے حصوں کو اپنے پاس رکھا اور زمین میں صرف ایک حصہ نازل کیا پس اسی وجہ سے مخلوق ایک دوسرے کے ساتھ رحم کرتی ہے یہاں تک کہ جانور اپنے بچہ سے اپنے پاؤں کو ہٹا لیتا ہے اسے تکلیف پہنچنے کے خوف کی وجہ سے۔

Abu Huraira reported: I heard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Allah created mercy in one hundred parts and He retained with Him ninety-nine parts, and He has sent down upon the earth one part, and it is because of this one part that there is mutual love among the creation so much so that the animal lifts up its hoof from its young one, fearing that it might harm it.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4943

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَوَضَعَ وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ وَخَبَأَ عِنْدَهُ مِائَةً إِلَّا وَاحِدَةً

یحیی بن ایوب، قتیبہ بن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ارشاد فرمایا اللہ عزوجل نے سو رحمتیں پیدا فرمائیں ان میں سے ایک کو اپنی مخلوق میں رکھ دیا اور ایک کم سو اپنے پاس رکھیں۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Allah created one hundred parts of mercy and He distributed one amongst His creation and kept this one hundred excepting one with Himself (for the Day of Resurrection).

Permalink

Sahih MuslimHadith 4944

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى وَلَدِهَا وَأَخَّرَ اللَّهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوعبدالملک عطاء، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ کے لئے سو رحمتیں ہیں ان میں سے ایک جنات انسانوں چوپاؤں اور کیڑوں مکوڑوں کے لئے نازل کی جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر شفقت ومہربانی اور رحم کرتے ہیں اور اسی کی وجہ سے وحشی جانور اپنے بچہ پر شفقت کرتا ہے اور اللہ نے ننانوے رحمتیں بچا کر رکھی ہیں جن سے قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحمت فرمائے گا۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: There are one hundred (parts of) mercy for Allah and He has sent down out of these one part of mercy upon the jinn and human beings and the insects and it is because of this (one part) that they love one another, show kindness to one another and even the beast treats its young one with affection, and Allah has reserved ninety-nine parts of mercy with which He would treat His servants on the Day of Resurrection.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4945

حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَمِنْهَا رَحْمَةٌ بِهَا يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ بَيْنَهُمْ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ

حکم بن موسیٰ معاذ بن معاذ سلیمان تیمی ابوعثمان نہدی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے لئے سو رحمتیں ہیں ان میں سے ایک رحمت کی وجہ سے مخلوق ایک دوسرے کے ساتھ رحم کا معاملہ کرتی ہے اور ننانوے رحمتیں قیامت کیدن کے لئے ہیں۔

Salman Farisi reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Verily, there are one hundred (parts of) mercy for Allah, and it is one part of this mercy by virtue of which there is mutual love between the people and ninety-nine reserved for the Day of Resurrection.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232476)

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن عبدالاعلی معتمر اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Mu'tamir, reported on the authority of his father.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4946

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ کُلُّ رَحْمَةٍ طِبَاقَ مَا بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ فَجَعَلَ مِنْهَا فِي الْأَرْضِ رَحْمَةً فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَی وَلَدِهَا وَالْوَحْشُ وَالطَّيْرُ بَعْضُهَا عَلَی بَعْضٍ فَإِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَکْمَلَهَا بِهَذِهِ الرَّحْمَةِ

ابن نمیر، ابومعاویہ داؤد ابن ابی ہند ابی عثمان حضرت سلمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدائش کے دن سو رحمتوں کو پیدا فرمایا ہر رحمت آسمان وزمین کی درمیانی خلاء کے برابر ہے ان میں سے زمین میں ایک رحمت مقرر فرمائی ہے جس کی وجہ سے والدہ اپنے بچہ سے شفقت و محبت کرتی ہے اور وحشی جانور اور پرندے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرتے ہیں جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ اس رحمت کے ساتھ اپنی رحمتوں کو مکمل فرمائے گا۔

Salman reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Verily, Allah created, on the same very day when He created the heavens and the earth, one hundred parts of mercy. Every part of mercy is coextensive with the space between the heavens and the earth and He out of this mercy endowed one part to the earth and it is because of this that the mother shows affection to her child and even the beasts and birds show kindness to one another and when there would be the Day of Resurrection, Allah would make full use of Mercy.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4947

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ وَاللَّفْظُ لِحَسَنٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ السَّبْيِ تَبْتَغِي إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرَوْنَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ قُلْنَا لَا وَاللَّهِ وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَی أَنْ لَا تَطْرَحَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا

حسن بن علی حلوانی محمد بن سہل تمیم حسن ابن ابی مریم ابوغسان زید بن اسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی خدمت میں کچھ قیدی لائے گئے اور قیدیوں میں سے ایک عورت کسی کو تلاش کر رہی تھی اس نے قیدیوں میں اپنے بچے کو پایا اس نے اسے اٹھا کر اپنے پیٹ سے لگایا اور اسے دودھ پلانا شروع کردیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال دے گی؟ ہم نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم جہاں تک اس کی قدرت ہوئی اسے نہ پھینکے گی تو رسول اللہ نے فرمایا اس عورت کے اپنے بچہ پر رحم کرنے سے زیادہ اللہ اپنے بندوں پر رحم فرمانے والا ہے۔

'Umar b. Khattab reported that there were brought some prisoners to Allah's Messenger (may peace be upon him) amongst whom there was also a woman, who was searching (for someone) and when she found a child amongst the prisoners, she took hold of it, pressed it against her chest and provided it suck. Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Do you think this woman would ever afford to throw her child in the Fire? We said: By Allah, so far as it lies in her power, she would never throw the child in Fire. 'Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Allah is more kind to His servants than this woman is to her child.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4948

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنْ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ وَلَوْ يَعْلَمُ الْکَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنْ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ

یحیی بن ایوب، قتیبہ ابن حجر اسماعیل ابن جعفر ابن ایوب اسماعیل علاء، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مومن کو پورا علم ہو جاتا کہ اللہ کا عذاب کتنا ہے تو کوئی بھی اس کی جنت کا لالچ نہ کرتا اور اگر کافر جان لیتا کہ اللہ کے پاس رحمت کتنی ہے تو کوئی جنت سے نا امید نہ ہوتا۔

'Ala' reported on the authority of his father who reported on the authority of Abu Huraira that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: If a believer were to know the punishment (in Hell) none would have the audacity to aspire for Paradise (but he would earnestly desire to be rescued from Hell), and if a non-believer were to know what is there with Allah as a mercy, none would have been disappointed in regard to Paradise.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4949

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقِ بْنِ بِنْتِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ حَسَنَةً قَطُّ لِأَهْلِهِ إِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ ثُمَّ اذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِينَ فَلَمَّا مَاتَ الرَّجُلُ فَعَلُوا مَا أَمَرَهُمْ فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ وَأَمَرَ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ مِنْ خَشْيَتِکَ يَا رَبِّ وَأَنْتَ أَعْلَمُ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ

محمد بن مرزوق ابن بنت مہدی بن میمون روح مالک ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ایک آدمی نے ایک نیکی بھی نہ کی تھی جب وہ مرنے لگا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا مجھے جلا کر میرا آدھا حصہ سمندر میں جبکہ آدھا حصہ فضا میں اڑا دینا اللہ کی قسم اگر اللہ اسے عذاب دے گا تو ایسا سخت عذاب دے گا کہ جہان والوں میں سے کسی کو بھی ایسا عذاب نہ ہوا ہوگا پس جب وہ آدمی مر گیا تو اس کے گھر والوں نے وہی کیا جو انہیں حکم دیا گیا تھا پس اللہ نے فضا کو حکم دیا تو اس نے اس کے ذرات کو جمع کردیا اور سمندر کو حکم دیا تو اس نے بھی اپنے موجود سب کو جمع کردیا پھر فرمایا تو نے ایسا کیوں کیا اس نے کہا اے میرے رب تیرے خوف وڈر کی وجہ سے تو بہتر جانتا ہے پس اللہ نے اسے معاف فرما دیا۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying that a person who had never done any good deed asked the members of his family to burn his dead body when he would die and to scatter half of its ashes over the land and half in the ocean. By Allah, if Allah finds him in His grip, He would torment him with a torment with which He did not afflict anyone amongst the people of the world; and when the person died, it was done to him as he had commanded (his family) to do. Allah commanded the land to collect (the ashes scattered on it) and He commanded the ocean and that collected (ashes) contained in it. Allah questioned him why he had done that He said: My Lord, it is out of Thine fear that I have done it and Thou art well aware of it, and Allah granted him pardon.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4950

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ لِي الزُّهْرِيُّ أَلَا أُحَدِّثُکَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَی نَفْسِهِ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَی بَنِيهِ فَقَالَ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيَّ رَبِّي لَيُعَذِّبُنِي عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ بِهِ أَحَدًا قَالَ فَفَعَلُوا ذَلِکَ بِهِ فَقَالَ لِلْأَرْضِ أَدِّي مَا أَخَذْتِ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ فَقَالَ لَهُ مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا صَنَعْتَ فَقَالَ خَشْيَتُکَ يَا رَبِّ أَوْ قَالَ مَخَافَتُکَ فَغَفَرَ لَهُ بِذَلِکَ

محمد بن رافع عبد بن حمید ابن رافع عبدالرزاق، معمر، زہری، حمید بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے آپ پر زیادتی کی جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے کہا جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا پھر باریک پیس دینا پھر مجھے ہوا میں اور سمندر میں اڑا دینا اللہ کی قسم اگر میرے رب نے مجھے عذاب دینے کے لئے گرفت کی تو مجھے ایسا عذاب دے گا کہ اس جیسا عذاب کسی کو نہ دیا گیا ہوگا پس اس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا پس زمین سے فرمایا تو نے جو کچھ لیا ہے وہ نکال دے پس فوراً وہ آدمی مجسم کھڑا ہوگیا تو اس سے فرمایا تجھے اس عمل پر کس چیز نے برانگیختہ کیا اس نے عرض کیا اے میرے رب تیرے خوف اور ڈر نے اللہ نے اسی وجہ سے اسے معاف فرما دیا۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying that a person committed sin beyond measure and when he was going to die, he left this will: (When I die), burn my dead body and then cast them (the ashes) to the wind and in the ocean. By Allah, if my Lord takes hold of me, He would torment me as He has not tormented anyone else. They did as he had asked them to do. He (the Lord) said to the earth: Return what you have taken. And he was thus restored to his (original form). He (Allah) said to him: What prompted you to do this? He said: My Lord, it was Thine fear or Thine awe, and Allah pardoned him because of this.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4951

قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّی مَاتَتْ هَزْلًا قَالَ الزُّهْرِيُّ ذَلِکَ لِئَلَّا يَتَّکِلَ رَجُلٌ وَلَا يَيْأَسَ رَجُلٌ

زہری، حمید حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت بلی کو باندھنے کی وجہ سے جہنم میں ڈالی گئی جسے نہ وہ کھلاتی تھی اور نہ ہی چھوڑتی تھی کہ وہ کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی یہاں تک کہ کمزوری کی وجہ سے وہ مر گئی زہری نے کہا ان سے مراد یہ ہے کہ نہ تو رحمت پر بالکل اعتماد کرے کہ اور نہ ہی اللہ کی رحمت سے نا امید ہو جائے۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying that a woman was thrown into Hell-Fire because of a cat whom she had tied and did not provide it with food, nor did she set it free to eat insects of the earth until it died inch by inch. Zuhri said: (These two ahadith) show that a person should neither feel confident (of getting into Paradise) because of his deeds, nor should he lose (all hopes) of getting into Paradise.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232483)

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَی نَفْسِهِ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ إِلَی قَوْلِهِ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ حَدِيثَ الْمَرْأَةِ فِي قِصَّةِ الْهِرَّةِ وَفِي حَدِيثِ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِکُلِّ شَيْئٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا أَدِّ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ

ابوربیع سلیمان بن داؤد محمد بن حرب زبیدی حمید بن عبدالرحمن بن عوف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک بندے نے اپنے آپ پر زیادتی کی باقی حدیث گزر چکی لیکن اس حدیث میں بلی کے واقعہ میں عورت کا ذکر نہیں اور زبیدی نے کہا تو اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا جس چیز نے بھی اس (کی راکھ) سے کچھ بھی لیا ہو وہ واپس کر دے۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying that a servant transgressed the limit in committing sins. The rest of the hadith is the same but there is no mention of the story of the cat in it and in the hadith transmitted on the authority of Zubaidi (the words are): "Allah, the Exalted and Glorious, said to everything which had taken a part of his ashes to return what it had taken."

Permalink

Sahih MuslimHadith 4952

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا فِيمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَاشَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا فَقَالَ لِوَلَدِهِ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُکُمْ بِهِ أَوْ لَأُوَلِّيَنَّ مِيرَاثِي غَيْرَکُمْ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي وَأَکْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ اسْحَقُونِي وَاذْرُونِي فِي الرِّيحِ فَإِنِّي لَمْ أَبْتَهِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا وَإِنَّ اللَّهَ يَقْدِرُ عَلَيَّ أَنْ يُعَذِّبَنِي قَالَ فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا فَفَعَلُوا ذَلِکَ بِهِ وَرَبِّي فَقَالَ اللَّهُ مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا فَعَلْتَ فَقَالَ مَخَافَتُکَ قَالَ فَمَا تَلَافَاهُ غَيْرُهَا

عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، قتادہ، عقبہ بن عبد غافر حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کو مال اور اولاد عطا کی گئی تھی اس نے اپنی اولاد سے کہا میں تمہیں جو حکم دوں وہ ضرور کرنا ورنہ میں اپنی وراثت کا تمہارے علاوہ کسی دوسرے کو وارث بنا دوں گا جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا اور زیادہ یاد یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر میری راکھ بنانا اور مجھے ہوا میں اڑا دینا کیونکہ میں نے اللہ کے پاس کوئی نیکی نہیں بھیجی اور اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ مجھے عذاب دے پھر ان سے وعدہ لیا پس انہوں نے اللہ کی قسم اس کے ساتھ ایسا ہی کیا تو اللہ عزوجل نے فرمایا تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے برانگیختہ کیا اس نے عرض کیا تیرے خوف نے اللہ نے اسے اس کے علاوہ اور کوئی عذاب نہ دیا۔

Abu Sa'id Khudri reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said that a person amongst the earlier nations before you was conferred property and children by Allah, He said to his children: 'You must do as I command you to do, otherwise I will make others besides you as my inheritors. As I die, burn my body and blow my ashes in the wind as I do not find any merit of mine which would please Allah, and if Allah were to take hold of me, He would punish me. He took a pledge from them and they did as he commanded them to do. Allah said: What prompted you to do this? He said: My Lord. Thine fear, and Allah did not punish him at all.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232485)

و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ قَالَ لِي أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ ذَکَرُوا جَمِيعًا بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِ وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ وَأَبِي عَوَانَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ النَّاسِ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا وَفِي حَدِيثِ التَّيْمِيِّ فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا قَالَ فَسَّرَهَا قَتَادَةُ لَمْ يَدَّخِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا ابْتَأَرَ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ مَا امْتَأَرَ بِالْمِيمِ

یحیی بن حبیب حارثی، معتمر بن سلیمان ابوقتادہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، حسن بن موسیٰ شیبان بن عبدالرحمن ابن مثنی ابوولید ، ابوعوانہ، قتادہ، شعبہ، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ عزوجل نے مال اور اولاد عطاء کی اور تیمی کی حدیث میں ہے کہ اس نے اللہ عزوجل کے پاس کوئی نیکی جمع نہ کی اور شیبان کی حدیث میں ہے کیونکہ اللہ کی قسم اس نے اللہ کے ہاں نیکی کو جمع نہ کیا اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے کہ اس نے کوئی نیکی نہیں کی۔

This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the chain of transmitters but with a slight variation of wording and Qatada explained the word "lam yasiru" as: "I find no good in store for me in the eye of Allah."

Permalink