حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَيَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ وَاللَّفْظُ لِخَلَفٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُکُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَيْهِ قَالَ فَلَبِثْنَا مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ أُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَی فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا أَوْ قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لَا يُبَارِکُ اللَّهُ لَنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلَنَا فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ مَا أَنَا حَمَلْتُکُمْ وَلَکِنَّ اللَّهَ حَمَلَکُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَی يَمِينٍ ثُمَّ أَرَی خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا کَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
خلف بن ہشام، قتیبہ بن سعید، یحیی بن حبیب حارثی، حماد بن زید، غیلان ابن جریر، ابی بردة، حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کے قافلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ۔ آپ سے سواری مانگنے کے لیے ۔ تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہیں سوار نہیں کروں گا اور نہ ہی میرے پاس وہ چیز ہے جس پر تمہیں سوار کروں۔ ہم ٹھہرے رہے جتنی دیر اللہ نے چاہا ۔ پھر آپ کے پاس اونٹ لائے گئے تو آپ نے ہمارے لئے تین سفید کوہان والے اونٹ دینے کا حکم دیا ۔ جب ہم چلنے لگے تو ہم نے کہا یا ہمارے بعض نے بعض سے کہا ہمیں اللہ برکت نہ دے گا۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آ کر آپ سے سواری طلب کی تو آپ نے ہمیں سوار نہ کرنے کی قسم اٹھائی۔ پر ہمیں سواری دے دی تو انہوں نے آپ کے پاس آکر آپ کو اس کی خبر دی ۔ تو آپ نے فرمایا میں نے تمہیں سوار نہیں کیا بلکہ اللہ نے تمہیں سوار کیا ہے اور اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو میں کسی بات پر قسم نہ اٹھاؤں گا پھر میں اسے بہتر دیکھوں تو میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کروں گا اور وہی کام بجا لاؤں گا جو بہتر ہے
Abu Musa al-Ash'ari reported: I came to Allah's Apostle (may peace be upon him) along with a group of Ash'arites requesting to give us a mount. He (the Holy Prophet) said: By Allah, I cannot provide you with a mount, and there is nothing with me which I should give you as a ride. He (the narrator) said: We stayed there as long as Allah willed. Then there were brought to him (to the Holy Prophet) camels. He (the Holy Prophet) then ordered to give us three white humped camels, We started and said (or some of us said to the others): Allah will not bless us. We came to Allah's Messenger (may peace be upon him) begging him to provide us with riding camels. He swore that he could not provide us with a mount, but later on he provided us with that. They (some of the Prophet's Companions) came and informed him about this (rankling of theirs), whereupon he said: It was not I who provided you with a mount, but Allah has provided you with that. So far as I am concerned, by Allah, if He so wills, I would not swear, but if, later on, I would see better than it, I (would break the vow) and expiate it and do that which is better.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ لَهُمْ الْحُمْلَانَ إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوکَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْکَ لِتَحْمِلَهُمْ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُکُمْ عَلَی شَيْئٍ وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلَا أَشْعُرُ فَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَکُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَی أَصْحَابِي فَأَخْبَرْتُهُمْ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ بِلَالًا يُنَادِي أَيْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوکَ فَلَمَّا أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُذْ هَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَی أَصْحَابِکَ فَقُلْ إِنَّ اللَّهَ أَوْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُکُمْ عَلَی هَؤُلَائِ فَارْکَبُوهُنَّ قَالَ أَبُو مُوسَی فَانْطَلَقْتُ إِلَی أَصْحَابِي بِهِنَّ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُکُمْ عَلَی هَؤُلَائِ وَلَکِنْ وَاللَّهِ لَا أَدَعُکُمْ حَتَّی يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُکُمْ إِلَی مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلْتُهُ لَکُمْ وَمَنْعَهُ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ ثُمَّ إِعْطَائَهُ إِيَّايَ بَعْدَ ذَلِکَ لَا تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُکُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ فَقَالُوا لِي وَاللَّهِ إِنَّکَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَی بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّی أَتَوْا الَّذِينَ سَمِعُوا قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْعَهُ إِيَّاهُمْ ثُمَّ إِعْطَائَهُمْ بَعْدُ فَحَدَّثُوهُمْ بِمَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسَی سَوَائً
عبداللہ بن براد اشعری، محمد بن العلاء ہمدانی، ابواسامہ، برید، ابی بردہ، حضرت موسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے میرے سا تھیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے لیے سواری مانگوں۔ جس وقت وہ جیش العسرہ یعنی غزوہ تبوک میں آپ کے ساتھ تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کی طرف اس لیے بھیجا ہے تاکہ آپ ان کو سواری دے دیں تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم! میں تمہیں کسی چیز پر سوار نہیں کروں گا اور میں نے آپ کے غصہ کی حالت میں آپ سے موافقت (بات) کی اور مجھے علم نہ تھا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انکار کی وجہ سے ڈر کی وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں مجھ پر اپنے دل میں کچھ بوجھ محسوس کریں غمگین لوٹا میں نے اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آ کر انہیں اس بات کی خبر دی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی میں تھوڑی دیر ہی ٹھہرا تھا کہا اچانک میں نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پکارنے کی آواز اے عبداللہ بن قیس سنی۔ میں نے اسے جواب دیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ وہ تجھے بلا رہے ہیں جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ ان دونوں کا جوڑا اور یہ ان دونوں کا جوڑا اور یہ ان دونوں کا جوڑا لے لو چھ اونٹوں کے لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی وقت حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خریدے تھے اور انہیں اپنے سا تھیوں کے پاس لے جا اور کہہ بے شک اللہ یا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں ان پر سوار کر رہے ہیں تو تم ان پر سوار ہو جاؤ ابومو سی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا انہیں لے کر میں اپنے سا تھیوں کی طرف چلا تو میں نے کہا بے شک اللہ کے رسول تمہیں ان پر سوار کرتے ہیں لیکن اللہ کی قسم میں تمہیں نہ چھوڑوں گا جب تک کہ تم میں سے چند لوگ میرے ساتھ ان لوگوں کی طرف نہ چلیں جنہوں نے رسول اللہ کا قول اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منع کرنا اس وقت سنا جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تمہارے لیے سوال کیا تھا پہلی مرتبہ میں پھر اس کے بعد وہی اونٹ آپ نے عطا کردئیے اور تم اس بات کا گمان بھی نہ کرنا کہ میں نے تم سے وہ حدیث بیان کی جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو انہوں نے مجھے کہا اللہ کی قسم تم ہمارے نزدیک البتہ تصدیق کیے ہوئے ہو اور ہم اسی طرح کریں گے جیسے تم نے پسند کیا ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان میں سے بعض آدمیوں کو لے چلے یہاں تک کہ ان لوگوں کے پاس آئے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار سنا پھر انہیں اس کے بعد عطا کردیا تو تم بھی انہیں اس طرح حدیث بیان کرو جیسے ابوموسی نے انہیں برابر برابر بیان کر دی۔
Abu Musa reported: My friends sent me to Allah's Messenger (may peace be upon him) asking him to provide them with mounts as they were going along with him in jaish al-'Usrah (the army of destitutes or of meagre means or army setting out during the hard times and that is the occasion of the expedition of Tabuk) I said: Apostle of Allah, my friends have sent me to you so that you may provide them with mounts. He (the Holy Prophet) said: By Allah, I cannot provide you with anything to ride. And it so happened that he was at that time much perturbed. I little knew of it, so I came back with a heavy heart on account of the refusal of Allah's Messenger (may peace be upon him), and the fear that Allah's Messenger (may peace be upon him) might have some feelings against me. I returned to my friends and informed them about what Allah's Messenger (may peace be upon him) had said. I had hardly stayed for a little that I heard Bilal calling: 'Abdullah b. Qais. I responded to his call. He said: Hasten to Allah's Messenger (may peace be upon him), he is calling you. When I came to the Holy Prophet (may peace be upon him) he said: Take this pair, this pair, and this pair (i. e. six camels which he had bought from Sa'd), and take them to your friends and say: Verily Allah (or he said: Verily Allah's Messenger (may peace be upon him) has provided you with these animals. So ride upon them. Abu Musa said: I went along with them to my friends and said: Verily Allah's messenger (may peace be upon him) has provided you with these animals for riding; but by Allah, I shall not leave you until some of you go along with me to him who had heard the talk of Allah's Messenger (may peace be upon him) when I asked him for you, and his refusal for the first time, and then his granting them to me subsequently; so you should not think that I narrated to you something which he did not say. They said to me: By Allah, in our opinion you are certainly truthful, and we would do as you like. So Abu Musa went along with some of the men from them until they came to those who had heard the words of Allah's Messenger (may peace be upon him) and his refusal to (provide) them with (animals); and subsequently his granting (the animals) to them; and they narrated to them exactly as Abu Musa had narrated to them.
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَعَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ أَيُّوبُ وَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ مِنِّي لِحَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَی فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ وَعَلَيْهَا لَحْمُ دَجَاجٍ فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ شَبِيهٌ بِالْمَوَالِي فَقَالَ لَهُ هَلُمَّ فَتَلَکَّأَ فَقَالَ هَلُمَّ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْکُلُ مِنْهُ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْکُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ فَقَالَ هَلُمَّ أُحَدِّثْکَ عَنْ ذَلِکَ إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُکُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَيْهِ فَلَبِثْنَا مَا شَائَ اللَّهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ فَدَعَا بِنَا فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَی قَالَ فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ أَغْفَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا يُبَارَکُ لَنَا فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَتَيْنَاکَ نَسْتَحْمِلُکَ وَإِنَّکَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلْتَنَا أَفَنَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَی يَمِينٍ فَأَرَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا حَمَلَکُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ابوربیع عتکی، حماد یعنی ابن زید، ایوب، ابی قلابہ، قاسم بن عاصم، حضرت زہدم جرمی سے روایت ہے کہ ہم حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے دسترخوان منگوایا اور اس میں مرغ کا گوشت تھا بنی تیم اللہ میں سے ایک آدمی سرخ رنگ غلام کی مشابہت رکھنے والا آیا ابوموسی رضی اللہ نے کہا : آؤ اس نے تکلف کیا تو ابوموسی رضی اللہ نے کہا آؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اس سے کھاتے ہوئے دیکھا تو اس آدمی نے کہا میں نے اسے (مرغیوں کو) کوئی چیز (گندگی) کھاتے دیکھا تو مجھے اس سے گھن آئی میں نے اسے نہ کھانے کی قسم اٹھائی تو ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا آؤ میں تجھے اس بارے میں حدیث بیان کروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اشعری قبیلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری طلب کرنے کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہیں سوار نہ کروں گا نہ ہی میرے پاس ایسی چیز ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں پس ہم ٹھہرے رہے جتنا اللہ نے چاہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مال غنیمت کے اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بلوایا اور ہمارے لیے سفید کوہان والے پانچ اونٹوں کا حکم دیا کہتے ہیں جب ہم چلے تو بعض نے ایک دوسرے سے کہا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی قسم سے غافل کردیا ہمارے لیے برکت نہ ہوگی ہم نے آپ کے پاس لوٹ کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ہم آپ سے سواری طلب کرنے کے لیے آئے اور آپ نے ہمیں سواری نہ دنیے کی قسم اٹھائی پھر آپ بھول گئے آپ نے فرمایا اللہ کی قسم اگر اللہ نے چاہا تو میں قسم نہ اٹھاؤں گا کسی چیز کی پھر میں اس کے علاوہ میں خیر دیکھوں تو میں وہی کام کروں گا جو بہتر ہوگا اور قسم کا کفارہ دوں گا پس تم جاؤ بے شک اللہ نے تمہیں سواری دی ہے۔
Ayyub said: We were sitting in the company of Abu Musa that he called for food and it consisted of flesh of fowl. It was then that a person from Banu Tamim visited him. His complexion was red having the resemblance of a slave. He said to him: Come and (join me in food). He showed reluctance. He (Abu Musa) said: Come on, for I saw Allah's Messenger (may peace be upon him) eating it (fowl's meat), whereupon that person said: I saw it eating something (of filth and rubbish) and I found it repugnant and took an oath that I would never eat that. He (Abu Muds) said: Come, so that I would narrate to you about that (the incident pertaining to vow). (And he narrated thus): I came to Allah's Messenger (may peace be upon him) along with a group of people belonging to the tribe of Ash'ari, asking him to provide us with riding camels. He (the Holy Prophet) said: By Allah, I cannot provide you with riding animals. And there is nothing with me with which I can provide you a mount. We stayed (for some time) there as Allah willed, and there was brought to Allah's Messenger (may peace be upon him) booty of camels. He called us and commanded that we should be given five white humped camels. As we were about to go back, some of us said to the other: As we made Allah's Messenger (may peace be upon him) forget oath, there would be no blessing for us (in his gift). We went back to him and said: Allah's Messenger, we came to you to provide us with riding animals and you took an oath that you would never equip us with mounts and then you have provided us with the riding beasts Allali's Messenger, have you forgotten? Thereupon he said: I swear by Allah that if Allah so wills, I shall not swear an oath, and then consider something else to be better than it without making atonement for my oath and doing the thing that is better. So you go; Allah, the Exalted and Glorious, has given you riding animals.
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ کَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَائٌ فَکُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ فَذَکَرَ نَحْوَهُ
ابن ابی عمر، عبدالوہاب ثقفی، ایوب، ابی قلابہ، قاسم تمیمی، حضرت زہدم جرمی سے روایت ہے کہ جرم کے اس قبیلہ اور شعروں کے درمیان دو تھی اور بھائی چارہ تھا ہم حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے تو کھانا ان کے قریب کیا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا باقی اسی طرح حدیث ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Musa al-Ash'ari with a slight variation of words.
و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَالْقَاسِمِ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ کُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَی وَاقْتَصُّوا جَمِيعًا الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ
علی بن حجر سعدی، اسحاق بن ابراہیم، ابن نمیر، اسماعیل بن علیہ، ایوب، قاسم تمیمی، زہدم الجرمی اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں ان سب نے حماد بن زید کی طرح حدیث بیان کی ہے۔
Zahdam al-Jarmi reported: We were in the company of Abu Musa. The rest of the hadith is the same.
و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا الصَّعْقُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا زَهْدَمٌ الْجَرْمِيُّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی أَبِي مُوسَی وَهُوَ يَأْکُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فِيهِ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا نَسِيتُهَا
شیبان بن فروخ، صعق یعنی ابن حزن، مطر الوراق، حضرت زہدم الجرمی سے روایت ہے کہ میں ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوا وہ مرغی کا گوشت کھا رہے تھے۔ باقی حدیث ان کی طرح گزر چکی ہے اور اس میں اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم میں (اس قسم کو) نہیں بھولا۔
Zahdam al-Jarmi reported: I visited Abu Musa and he was eating fowl's meat. The rest of the hadith is the same with this addition that he (the Holy Prophet) said: By Allah, I did not forget it.
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُکُمْ وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُکُمْ ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَةِ ذَوْدٍ بُقْعِ الذُّرَی فَقُلْنَا إِنَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا فَأَتَيْنَاهُ فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ إِنِّي لَا أَحْلِفُ عَلَی يَمِينٍ أَرَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
اسحاق بن ابراہیم، جریر، سلیمان تیمی، ضریب بن نفیر قیسی، زہدم، حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواریاں طلب کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس سواری نہیں جس پر میں تمہیں سوار کروں اللہ کی قسم! میں تمہیں سوار نہیں کروں گا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف تین چتکبری کوہان والے اونٹ بھیجے تو ہم نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری مانگنے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں سوار نہیں کریں گے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں کسی بات پر قسم نہیں اٹھاتا اور اس کے علاوہ میں اس سے بھلائی دیکھتا ہوں تو وہی کام کرتا ہوں جو بھلائی والا ہو
Abu Musa al-Ash'ari reported: We came to Allah's Messenger (may peace be upon him) requesting him to provide us with riding camels. He (the Holy Prophet) said: There is nothing with me with which I should equip you. By Allah, I would not provide you with (riding camels). Then Allah's Messenger (may peace be upon him) sent to us three camels with spotted bumps. We said: We came to Allah's Messenger (may peace be upon him) asking him to equip us with riding animals. He took an oath that he could not equip us. We came to him and informed him. He said: By Allah, I do not take an oath, but when I find the other thing better than that, I do that which is better.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ عَنْ زَهْدَمٍ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ کُنَّا مُشَاةً فَأَتَيْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ
محمد بن عبدالاعلی تیمی، معتمر، ابوسلیل، زہدم، حضرت ابومو سی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم پیدل چل کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری طلب کی باقی حدیث جریر کی حدیث کی طرح کی ہے
Abu Musa reported: We walked on foot and came to Allah's Apostle (may peace he upon him) asking him to provide us with mounts. The rest of the hadith is the same.
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَعْتَمَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی أَهْلِهِ فَوَجَدَ الصِّبْيَةَ قَدْ نَامُوا فَأَتَاهُ أَهْلُهُ بِطَعَامِهِ فَحَلَفَ لَا يَأْکُلُ مِنْ أَجْلِ صِبْيَتِهِ ثُمَّ بَدَا لَهُ فَأَکَلَ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ فَرَأَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِهَا وَلْيُکَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ
زہیر بن حرب، مروان بن معاویہ فزاری، یزید بن کیسان، ابی حازم، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو رات کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دیر ہوگئی پھر اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹا تو بچوں کو سوتا ہوا پایا اس کے پاس اس کی بیوی کھانا لائی اس نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنے بچوں کی وجہ سے نہ کھائے گا پھر اس کے لیے ظاہر ہوگیا تو اس نے کھا لیا ۔ پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بات پر قسم اٹھائے پھر اس کے علاوہ میں بھلائی وخیر دیکھے تو چاہے وہ بھلائی کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے
Abu Huraira reported: A person sat late in the night with Allah's Apostle (may peace be upon him), and then came to his family and found that his children had gone to sleep. His wife brought food for him, but he took an oath that he would not eat because of his children (having gone to sleep without food) He then gave precedence (of breaking the vow and then expiating it) and ate the food. He then came to Allah s Messenger (may peace be upon him) and made mention of that to him, whereupon Allah's Messenger (may peace he upon him) said: He who took an oath and (later on) found something better than that should do that, and expiate for (breaking) his vow.
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ فَرَأَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُکَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلْ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، مالک، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخض نے کس بات کی قسم اٹھائی پھر اس کے علاوہ میں اس سے بہتری دیکھی تو وہی عمل اختیار کرے جو بہتر ہو اور اپنے قسم کا کفارہ ادا کرے۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: He who took an oath and then found another thing better than (this) should expiate for the oath (broken) by him and do (the better thing).
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ فَرَأَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُکَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ
زہیر بن حرب، ابن ابی یونس، عبدالعزیز بن مطلب، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخض نے کسی بات کی قسم اٹھائی پھر اس کے غیر میں اس سے بہتری دیکھی تو وہی عمل اختیار کرے جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: He who took an oath and (later on) found another thing better than that, he should do that which is better, and expiate for the vow (broken by him).
و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِ مَالِکٍ فَلْيُکَفِّرْ يَمِينَهُ وَلْيَفْعَلْ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
قاسم بن زکریا، خالد بن مخلد، سلیمان یعنی ابن بلال، سہیل اسی حدیث کی دوسری سند ہے اس میں ہے چاہیے کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور وہی عمل سر انجام دے جو بہتر ہے۔
This hadith is narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters (with these words): "He should expiate for (breaking) the vow and do that which is better."
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ رُفَيْعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ قَالَ جَائَ سَائِلٌ إِلَی عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ فَسَأَلَهُ نَفَقَةً فِي ثَمَنِ خَادِمٍ أَوْ فِي بَعْضِ ثَمَنِ خَادِمٍ فَقَالَ لَيْسَ عِنْدِي مَا أُعْطِيکَ إِلَّا دِرْعِي وَمِغْفَرِي فَأَکْتُبُ إِلَی أَهْلِي أَنْ يُعْطُوکَهَا قَالَ فَلَمْ يَرْضَ فَغَضِبَ عَدِيٌّ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَا أُعْطِيکَ شَيْئًا ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ رَضِيَ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ ثُمَّ رَأَی أَتْقَی لِلَّهِ مِنْهَا فَلْيَأْتِ التَّقْوَی مَا حَنَّثْتُ يَمِينِي
قتیبہ بن سعید، جریر، عبدالعزیز یعنی ابن رفیع، حضرت تمیم بن طرفہ سے روایت ہے کہ ایک سائل عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور ان سے ایک غلام کی قیمت کا خرچ یا غلام کی قیمت کے بعض حصہ کا سوال کیا تو انہوں نے کہا میرے پاس تجھے عطا کرنے کے لیے سوائے زرہ اور میری خود کے کچھ نہیں ہے میں اپنے گھر والوں کو لکھتا ہوں کہ وہ تجھے کچھ عطا کردیں گے راوی کہتے ہیں وہ تو راضی ہوا لیکن عدی غصے میں آ گئے اور کہا اللہ کی قسم میں کچھ بھی نہ عطا کروں گا پھر وہ آدمی راضی ہوگیا تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا تو تجھے کچھ بھی نہ دیتا آپ فرماتے تھے جس نے کسی بات پر قسم اٹھائی پھر اس سے زیادہ پرہیزگاری کا عمل دیکھے تو وہی تقوی والا عمل اختیار کرلے تو میں اپنی قسم کو نہ توڑتا اور حانث نہ ہوتا۔
Tamim b. Tarafa reported: A beggar came to 'Adi b. Hatim and he begged him to give him the price of a slave, or some portion of the price of the slave. He ('Adi) said: I have nothing to give you except my coat-of-mail and helmet. I will, however, write to my family to give that to you, but he did not agree to that. Thereupon 'Adi was enraged, and said: By Allah, I will not give you anything. The person (then) agreed to accept that, whereupon he said: By Allah, had I not heard Allah's Messenger (may peace be upon him) saying: "He who took an oath, but then found something more pious in the sight of Allah, he should (break the oath) and do that which is more pious," I would not have broken the oath (and thus paid you anything).
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ فَرَأَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيَتْرُکْ يَمِينَهُ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، عبدالعزیز بن رفیع، تمیم بن طرفہ، حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے کسی بات پر قسم اٹھائی پھر اس کے علاوہ میں اس سے بہتری دیکھی تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے۔
'Adi b. Hatim reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: He who took an oath, but he found something else better than that, should do that which is better and break his oath.
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ طَرِيفٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَدِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ أَحَدُکُمْ عَلَی الْيَمِينِ فَرَأَی خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُکَفِّرْهَا وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن طریف بجلی، محمد بن فضیل، اعمش، عبدالعزیز بن رفیع، تمیم طائی، حضرت عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی کام پر قسمیں اٹھائے پھر اس سے بہتر عمل کو دیکھے تو قسم کا کفارہ دے اور وہی عمل اختیار کرے جو بہتر ہے۔
'Adi reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: When anyone amongst you takes an oath, but he finds (something) better than that he should expiate (the breaking of the oath), and do that which is better.
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِکَ
محمد بن طریف، محمد بن فضیل، شیبانی، عبدالعزیز بن رفیع، تمیم طائی، حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔
This hadith is reported on the authority of Adi b. Hatim through another chain of transmitters.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ مِائَةَ دِرْهَمٍ فَقَالَ تَسْأَلُنِي مِائَةَ دِرْهَمٍ وَأَنَا ابْنُ حَاتِمٍ وَاللَّهِ لَا أُعْطِيکَ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ ثُمَّ رَأَی خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سماک بن حرب، حضرت تمیم بن طرفہ سے روایت ہے کہ میں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ ایک آدمی ایک سو درہم مانگنے آیا انہوں نے کہا تو مجھ سے سو درہم کا سوال کرتا ہے حالانکہ میں ابن حاتم ہوں اللہ کی قسم میں تمہیں کچھ نہ دوں گا پھر کہا اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا جو آدمی کسی امر پر قسم اٹھائے پھر اس سے زیادہ بہتری کسی دوسری چیز میں دیکھے تو چاہے کہ وہی کام سرا نجام دے جو بہتر ہو
Tamim b. Tarafa reported that he beard 'Adi b. Hatim say that a person came to him and asked for one hundred dirhams. He ('Adi) said: You asked Me for one hundred dirhams and I am the son of Hatim; by Allah, I will not give you. But then he said: (I would have done that) if I had not heard Allah's Messenger (may peace be upon him) say: He who takes an oath, but then finds something better than that, should do that which is better.
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ تَمِيمَ بْنَ طَرَفَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَذَکَرَ مِثْلَهُ وَزَادَ وَلَکَ أَرْبَعمِائَة فِي عَطَائِي
محمد بن حاتم، بہز، شعبہ، سماک بن حرب، تمیم بن طرفہ، حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اس سے پوچھا۔ باقی حدیث اسی طرح ذکر کی ہے اور اس میں اضافہ یہ ہے اور تیرے لیے میری عطاء سے چار سو (درہم) ہیں
Tamim b. Tarafa reported: I heard 'Adi b. Hatim say that a person asked that and then narrated (the hadith) like one (mentioned above), but he made this addition: "Here are four hundred (dirhams) for you out of my gift."
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ لَا تَسْأَلْ الْإِمَارَةَ فَإِنَّکَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُکِلْتَ إِلَيْهَا وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَی يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَکَفِّرْ عَنْ يَمِينِکَ وَائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ الْجُلُودِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَاسَرْجَسِيُّ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ بِهَذَا الْحَدِيثِ
شیبان بن فروخ، جریر بن حازم، حسن، حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عبدالرحمن بن سمرہ سرادری کا سوال نہ کرنا کیونکہ اگر تجھے سرادری مانگنے سیدی گئی تو اس کے سپرد کردیا جائے گا اور اگر تجھے تیرے مانگنے کے بغیر عطا کی گئی تو اس پر تیری مدد کی جائے گی اور جب تو کسی بات پر قسم اٹھائے پھر تو نے اس کے علاوہ میں اس سے بہتری دیکھی تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر اور وہی عمل سرانجام دے جو بہتر ہو۔
Abd al-Rahman b. Samura reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said to me: Abd al-Rahman b. Samura, don't ask for authority for if it is granted to you for asking for it, you would be commissioned for it (without having the support of Allah), but if you are granted it without your asking for it. You would be helped (by Allah) in it. And when you take an oath and find something else better than that, expiate for (breaking) your oath, and do that which is better. This hadith has also been transmitted on the authority of Ibn Farrukh.
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يُونُسَ وَمَنْصُورٍ وَحُمَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سِمَاکِ بْنِ عَطِيَّةَ وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ فِي آخَرِينَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ ح و حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ کُلُّهُمْ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ أَبِيهِ ذِکْرُ الْإِمَارَةِ
علی بن حجر سعدی، ہشیم، یونس، منصور، حمید، ابوکامل حجدری، حماد بن زید، سماک بن عطیہ، یونس بن عبید، ہشام بن حسان، عبیداللہ بن معاذ، معتمر، عقبہ بن مکرم، سعید بن عامر، سعید قتادہ، حسن، عبدالرحمن بن سمرہ مذکورہ بالا حدیث ہی کی مزید دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of 'Abd al-Rahman b. Samura through another chain of transmitters but there is no mention of the word "authority".