حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلَی ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصَلَّی النَّاسُ قُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ضَعُوا لِي مَائً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوئَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّی النَّاسُ قُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعُوا لِي مَائً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوئَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّی النَّاسُ قُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعُوا لِي مَائً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوئَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّی النَّاسُ فَقُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ وَالنَّاسُ عُکُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَائِ الْآخِرَةِ قَالَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُکَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَکَانَ رَجُلًا رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِکَ قَالَتْ فَصَلَّی بِهِمْ أَبُو بَکْرٍ تِلْکَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَکْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ وَقَالَ لَهُمَا أَجْلِسَانِي إِلَی جَنْبِهِ فَأَجْلَسَاهُ إِلَی جَنْبِ أَبِي بَکْرٍ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَکْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَدَخَلْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْکَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَاتِ فَعَرَضْتُ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ فَمَا أَنْکَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَکَ الرَّجُلَ الَّذِي کَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَلِيٌّ
احمد بن عبداللہ بن یونس، موسیٰ بن ابی عائشہ، عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس حاضر ہوا تو میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض کے بارے میں نہیں بتائیں گی فرمایا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیماری سے افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز ادا کرلی ہے ہم نے عرض کیا نہیں وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے لئے برتن میں پانی رکھ دو ہم نے ایسا ہی کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے غسل فرمایا پھر آپ چلنے لگے تو بے ہوشی طاری ہوگئی پھر افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز ادا کرلی ہے ہم نے عرض کیا نہیں بلکہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے لئے برتن میں پانی رکھ دو ہم نے ایسا ہی کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوگئی پھر افاقہ ہوا تو پوچھا کیا لوگوں نے نماز ادا کرلی ہم نے عرض کیا نہیں بلکہ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتظار کر رہے ہیں سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا صحابہ مسجد میں بیٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عشاء کی نماز کے لئے انتظار کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو سیدنا ابوبکر کی طرف بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو اس نے جا کر کہا بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں اور ابوبکر نرم دل آدمی تھے اس لئے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں سیدہ نے فرمایا پھر ان کو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کی نماز پڑھائی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جان میں کچھ کمی محسوس کی تو دو آدمیوں کے سہارے ظہر کی نماز کے لئے نکلے ان میں ایک حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آتے دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو فرمایا مجھے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں بٹھا دو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز ادا کرتے رہے کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں اور صحابہ بیٹھے ہوئے تھے عبیداللہ نے کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا کیا میں آپ کی خدمت میں عائشہ کی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض کے بارے میں حدیث پیش نہ کروں جو آپ نے مجھے بیان کی ہے تو انہوں نے کہا لے آؤ تو میں نے سیدہ کی حدیث ان پر پیش کی تو انہوں نے اس سے کوئی انکار نہیں کیا سوائے اس کے کہ انہوں نے فرمایا کیا سیدہ نے تجھے عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جو آدمی تھا اس کا نام بتایا ہے میں نے کہا نہیں تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
Ubaidullah b. Abdullah reported: I visited 'A'isha and asked her to tell about the illness of the Messenger of Allah (may peace be upon him). She agreed and said: The Apostle (may peace be upon him) was seriously ill and he asked whether the people had prayed. We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: Put some water in the tub for me. We did accordingly and he (the Holy Prophet) took a bath; and, when he was about to move with difficulty, he fainted. When he came round, he again said: Have the people said prayer? We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) again said: Put some water for me in the tub. We did accordingly and he took a bath, but when he was about to move with difficulty he fainted. When he came round, he asked whether the people had prayed. We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He said: Put some water for me in the tub. We did accordingly and he took a bath and he was about to move with difficulty when he fainted. When he came round he said: Have the people said prayer? We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. She ('A'isha) said: The people were staying in the mosque and waiting for the Messenger of Allah (may peace be upon him) to lead the last (night) prayer. She ('A'isha) said: The Messenger of Allah (may peace be upon him) sent (instructions) to Abu Bakr to lead the people in prayer. When the messenger came, he told him (Abu Bakr): The Messenger of Allah (may peace be upon him) has ordered you to lead the people in prayer. Abu Bakr who was a man of very tenderly feelings asked Umar to lead the prayer. 'Umar said: You are more entitled to that. Abu Bakr led the prayers during those days. Afterwards the Messenger of Allah (may peace be upon him) felt some relief and he went out supported by two men, one of them was al-'Abbas, to the noon prayer. Abu Bakr was leading the people in prayer. When Abu Bakr saw him. he began to withdraw, but the Apostle of Allah (may peace be upon him) told him not to withdraw. He told his two (companions) to seat him down beside him (Abu Bakr). They seated him by the side of Abu Bakr. Abu Bakr said the prayer standing while following the prayer of the Apostle (may peace be upon him) and the people performed prayer (standing) while following the prayer of Abu Bakr. The Apostle (may peace be upon him) was seated. Ubaidullah said: I visited 'Abdullah b. 'Abbas, and said: Should I submit to you what 'A'isha had told about the illness of the Apostle (may peace be upon him)? He said: Go ahead. I submitted to him what had been transmitted by her ('A'isha). He objected to none of it, only asking whether she had named to him the man who accompanied al-'Abbas. I said: No. He said: It was 'Ali.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ أَوَّلُ مَا اشْتَکَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا وَأَذِنَّ لَهُ قَالَتْ فَخَرَجَ وَيَدٌ لَهُ عَلَی الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَيَدٌ لَهُ عَلَی رَجُلٍ آخَرَ وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الْأَرْضِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَنْ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ هُوَ عَلِيٌّ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابتدا میں سیدہ میمونہ کے گھر میں بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں ایام بیماری گزارنے کی اجازت طلب فرمائی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اجازت دے دی گئی سیدہ فرماتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں نکلے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ہاتھ فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اور دوسرا ہاتھ ایک دوسرے آدمی پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں گھسٹ رہے تھے حضرت عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا کیا تو جانتا ہے اس آدمی کو جس کا نام حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نہیں لیا وہ کون تھا وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
'A'isha reported: It was in the house of Maimuna that the Messenger of Allah (may peace be upon him) first fell ill. He asked permission from his wives to stay in her ('A'isha's) house during his illness. They granted him permission. She ('A'isha) narrated: He (the Holy Prophet) went out (for prayer) with his hand over al-Fadl b. 'Abbas and on the other hand there was another person and (due to weakness) his feet dragged on the earth. 'Ubaidullah said: I narrated this hadith to the son of 'Abbas ('Abdullah b. 'Abbas) and he said: Do you know who the man was whose name 'A'isha did not mention? It was 'Ali.
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ هَلْ تَدْرِي مَنْ الرَّجُلُ الْآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ عَلِيٌّ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود، زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف میں شدت ہوگئی تو آپ نے اپنی ازواج مطہرات سے اجازت طلب فرمائی کہ آپ اپنے ایام بیماری میرے گھر میں گزاریں انہوں نے آپ کو اجازت دیدی تو آپ دو آدمیوں کے درمیان نکلے اس حال میں کہ آپ کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے ایک حضرت عباس بن عبدالمطلب اور ایک دوسرے آدمی کے سہارے ۔ حضرت عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ کو سیدہ عائشہ کی اس بات کی خبر دی تو عبداللہ نے مجھے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ دوسرا آدمی کون تھا جس کا نام سیدہ عائشہ نے نہیں لیا؟ میں نے عرض کیا نہیں تو ابن عباس نے فرمایا وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
'A'isha, the wife of the Apostle (may peace be upon him), said: When the Messenger of Allah (may peace be upon him) fell ill and his illness became serious, he asked permission from his wives to stay in my house during his illness. They gave him permission to do so. He stepped out (of' A'isha's apartment for prayer) supported by two persons. (He was so much weak) that his feet dragged on the ground and he was being supported by 'Abbas b. 'Abd al-Muttalib and another person. 'Ubaidullah said: I informed 'Abdullah (b. 'Abbas) about that which 'A'isha had said. 'Abdullah b. 'Abbas said: Do you know the man whose name 'A'isha did not mention? He said: No. Ibn 'Abbas said: It was 'Ali.
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِکَ وَمَا حَمَلَنِي عَلَی کَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلًا قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا وَإِلَّا أَنِّي کُنْتُ أَرَی أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ إِلَّا تَشَائَمَ النَّاسُ بِهِ فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِي بَکْرٍ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود، عائشہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (ابوبکر صدیق کے امام نہ بنانے پر) اصرار کیا اور اس بار بار اصرار کی وجہ یہ تھی کہ مجھے اس بات کا خیال نہ تھا کہ آپ کے بعد لوگ اس سے محبت کریں گے جو آپ کے بعد آپ کی جگہ پر کھڑا ہوگا لیکن میرے دل میں یہ تھا کہ جو شخص آپ کی جگہ کھڑا ہوگا لوگ اس کو منحوس تصور کریں گے ۔ تو اسی لیے میں نے ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امام بنانے سے معاف رکھیں تو مناسب ہوگا۔
'A'isha, the wife of the Apostle of Allah (may peace be upon him), said: I tried to dissuade the Messenger of Allah (may peace be upon him) from it (i. e. from appointing Abu Bakr as the Imam.) and my insistence upon it was not due to the fact that I entertained any apprehension in my mind that the people would not love the man who would occupy his (Prophet's) place (i. e. who would be appointed as his caliph) and I feared that the people would be superstitious about one who would occupy his place. I, therefore, desired that the Messenger of Allah (may peace be upon him) should leave Abu Bakr aside in this matter.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي قَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَا يَمْلِکُ دَمْعَهُ فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا بِي إِلَّا کَرَاهِيَةُ أَنْ يَتَشَائَمَ النَّاسُ بِأَوَّلِ مَنْ يَقُومُ فِي مَقَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَرَاجَعْتُهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَکْرٍ فَإِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبد ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، حمزہ بن عبداللہ بن عمر، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں داخل ہوئے تو فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نرم دل آدمی ہیں جب قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو اپنے آنسوؤں کو روک نہیں سکتے اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر کے علاوہ کسی اور کو حکم دیں تو مناسب ہوگا۔ سیدہ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میرے لئے سوا اس بات کے کوئی بات پیش نظر نہ تھی کہ لوگ بد شگونی لیں گے اس سے جو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ کھڑا ہوگا فرماتی ہیں کہ میں نے دو یا تین مرتبہ اصرار کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر ہی لوگوں کو نماز پڑھائیں اور تم یوسف کے دور کی عورتوں جیسی ہو۔
'A'isha reported: When the Messenger of Allah (may peace be upon him) came to my house, he said: Ask Abu Bakr to lead people in prayer. 'A'isha narrated: I said, Messenger of Allah, Abu Bakr is a man of tenderly feelings; as he recites the Qur'an, he cannot help shedding tears: so better command anyone else to lead the prayer. By Allah, there is nothing disturbing in it for me but the idea that the people may not take evil omen with regard to one who is the first to occupy the place of the Messenger of Allah (may peace be upon him). I tried to dissuade him (the Holy Prophet) twice or thrice (from appointing my father as an Imam in prayer), but he ordered Abu Bakr to lead the people in prayer and said: You women are like those (who had) surrounded Yusuf.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَی يَقُمْ مَقَامَکَ لَا يُسْمِعْ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَی يَقُمْ مَقَامَکَ لَا يُسْمِعْ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَتْ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا بَکْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادَی بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُو بَکْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْ مَکَانَکَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَکْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَکْرٍ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي النَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَکْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، وکیع، یحیی بن یحیی، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے لئے بلانے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ وہ نماز پڑھائے سیدہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر بہت نرم دل آدمی ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہو کر لوگوں کو کب قرآن سنا سکیں گے کاش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمر کو حکم دیتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابوبکر کو حکم کرو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں سیدہ فرماتی ہیں میں نے حضرت حفصہ سے کہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہیں کہ ابوبکر نرم دل آدمی ہیں جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو قرآن نہ سنا سکیں گے کاش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمر کو حکم دیتے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم تو یوسف کے دور کی عورتوں جیسی ہو ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو میں نے کہا پس جب انہوں نے نماز شروع کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیماری میں تحفیف محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو آدمیوں کے سہارے اس حال میں آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں مبارک سے زمین میں لکیر سی پڑ رہی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آہٹ محسوس کرتے ہوئے پیچھے ہٹنا شروع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارے سے فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بائیں طرف آکر بیٹھ گئے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر کھڑے ہوئے اقتداء کر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی اور لوگ ابوبکر کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے۔
################
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِهِمَا لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ فَأُتِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أُجْلِسَ إِلَی جَنْبِهِ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَبُو بَکْرٍ يُسْمِعُهُمْ التَّکْبِيرَ وَفِي حَدِيثِ عِيسَی فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَبُو بَکْرٍ إِلَی جَنْبِهِ وَأَبُو بَکْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ
منجاب بن حارث، ابن مسہر، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے اس مرض میں کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا ابن مسہر کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لایا گیا یہاں تک کہ اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو تکبیر سنا رہے تھے۔
A'mash reported: When the Messenger of Allah (may peace be upon him) suffered from illness of which he died, and in the hadith transmitted by Ibn Mus-hir, the words are: The Messenger of Allah (may peace be upon him) was brought till he was seated by his (Abu Bakr's) side and the Apostle (may peace be upon him) led the people in prayer and Abu Bakr was making takbir audible to them, and in the hadith transmitted by 'Isa the (words are): "The Messenger of Allah (may peace be upon him) sat and led the people in prayer and Abu Bakr was by his side and he was making (takbir) audible to the people."
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَکْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ فَکَانَ يُصَلِّي بِهِمْ قَالَ عُرْوَةُ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ وَإِذَا أَبُو بَکْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَکْرٍ اسْتَأْخَرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ کَمَا أَنْتَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَائَ أَبِي بَکْرٍ إِلَی جَنْبِهِ فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَکْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، ہشام ابن نمیر، ہشام، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیماری میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں پس وہ ان کو نماز پڑھاتے رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طبیعت میں جب آرام محسوس کیا تو آپ باہر تشریف لائے اس وقت لوگوں کی امامت حضرت ابوبکر فرما رہے تھے جب ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو وہیں کھڑے رہنے کا اشارہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر کے پہلو میں بیٹھ گئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے اور صحابہ ابوبکر کی نماز کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے۔
'A'isha reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) ordered Abu Bakr that he should lead people in prayer during his illness, and he led them in prayer. 'Urwa said: The Messenger of Allah (may peace be upon him) felt relief and went (to the mosque) and Abu Bakr was leading the people in prayer. When Abu Bakr saw him he began to withdraw, but the Messenger of Allah (may peace be upon him) signed him to remain where he was. The Messenger of Allah (may peace be upon him) sat opposite to Abu Bakr by his side. Abu Bakr said prayer following the prayer of the Messenger of Allah (may peace be upon him), and the people said prayer following the prayer of Abu Bakr.
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ و حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ کَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلَاةِ کَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ فَنَظَرَ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ کَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ ثُمَّ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِکًا قَالَ فَبُهِتْنَا وَنَحْنُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ فَرَحٍ بِخُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَکَصَ أَبُو بَکْرٍ عَلَی عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ لِلصَّلَاةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَکُمْ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْخَی السِّتْرَ قَالَ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِکَ
عمرو ناقد، حسن حلوانی، عبد بن حمید، عبد، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، انس بن مالک حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض وفات میں ان کو نماز پڑھاتے رہے یہاں تک کہ سوموار کے دن جب تمام صحابہ صفوں میں نماز ادا کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجرہ کا پردہ ہٹایا پھر کھڑے ہو کر ہماری طرف دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ گویا کہ قرآن کے ورق کی طرح معلوم ہو رہا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور ہم لوگ نماز ہی میں بے انتہا خوش ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکلنے پر اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی ایڑیوں پر اس گمان سے پیچھے ہٹ کر صف میں ملنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے نکلنے والے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کرو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے حجرہ میں چلے گئے اور پردہ گرا دیا اور اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رحلت فرمائی۔
Anas b. Malik reported, Abu Bakr led them in prayer due to the illness of the Messenger of Allah (may peace be upon him) of which be died. It was a Monday and they stood in rows for prayer. The Messenger of Allah (may peace be upon him) drew aside the curtain of ('A'isha's) apartment and looked at us while he was standing, and his (Prophet's) face was (as bright) as the paper of the Holy Book. The Messenger of Allah (may peace be upon him) felt happy and smiled. And we were confounded with joy while in prayer due to the arrival (among our midst) of the Messenger of Allah (may peace be upon him), Abu Bakr stepped back upon his heels to say prayer in a row perceiving that the Messenger of Allah (may peace be upon him) had come out for prayer. The Messenger of Allah (may peace be upon him) with the help of his hand signed to them to complete their prayer. The Messenger of Allah (may peace be upon him) went back (to his apartment) and drew the curtain. He (the narrator) said: The Messenger of Allah (may peace be upon him) breathed his last on that very day.
حَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَشَفَ السِّتَارَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ وَحَدِيثُ صَالِحٍ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ
عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کا آخری دیدار سوموار کے دن پردہ کے اٹھانے کے وقت کیا اسی قصہ کے ساتھ باقی حدیث مبارکہ گزر چکی۔
Anas reported: The last glance that I have had of the Messenger of Allah (may peace be upon him) (before his death) was that when he on Monday drew the curtain aside. The hadith transmitted by Salih is perfect and complete.
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا
محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری سے یہی حدیث ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔
This hadith is narrated on the authority of Anas b. Malik by another chain of transmitters.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَذَهَبَ أَبُو بَکْرٍ يَتَقَدَّمُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ کَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَحَ لَنَا قَالَ فَأَوْمَأَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَی أَبِي بَکْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ وَأَرْخَی نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ حَتَّی مَاتَ
محمد بن مثنی، ہارون بن عبد اللہ، عبدالصمد، عبدالعزیز، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تین دن تک تشریف نہ لائے اور ان دنوں میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جماعت کراتے رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پردہ کے پاس کھڑے ہو کر اس کو اٹھایا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ ہمارے لئے واضح ہوگیا تو ہم نے اس منظر سے زیادہ کوئی منظر نہیں دیکھا جو ہمارے نزدیک نبی کے چہرہ اقدس سے زیادہ پسند ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اشارہ کیا کہ وہ نماز پڑھاتے رہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پردہ نیچے گرا دیا پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت پر قادر نہ ہو سکے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوگیا۔
Anas reported: The Apostle of Allah (may peace be upon him) did not come to us for three days. When the prayer was about to start. Abu Bakr stepped forward (to lead the prayer), and the Apostle of Allah (may peace be upon him) lifted the curtain. When the face of the Apostle of Allah (may peace be upon him) became visible to us, we (found) that no sight was more endearing to us than the face of the Apostle of Allah (may peace be upon him) as it appeared to us. The Apostle of Allah (may peace be upon him) with the gesture of his hand directed Abu Bakr to step forward (and lead the prayer). The Apostle of Allah (may peace be upon him) then drew the curtain, and we could not see him till he died.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ مَتَی يَقُمْ مَقَامَکَ لَا يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ مُرِي أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ قَالَ فَصَلَّی بِهِمْ أَبُو بَکْرٍ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی، زائدہ، عبدالملک بن عمیر، ابوبردہ، حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرض بڑھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر نرم دل آدمی ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز پڑھانے کی طاقت نہ پا سکیں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تم تو یوسف کے دور کی عورتوں کی طرح ہو تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔
Abu Musa reported: When the Messenger of Allah (may peace be upon him) became ill and illness became serious he ordered Abu Bakr to lead the people in prayer. Upon this 'A'isha said: Messenger of Allah, Abu Bakr is a man of tenderly feelings: when he would stand in your place (he would be so much overwhelmed -by grief that) he would not be able to lead the people in prayer. He (the Holy Prophet) said: You order Abu Bakr to lead the people in prayer, and added: You are like the female companions of Yusuf. So Abu Bakr led the prayer (during this period of illness) in the life of the Messenger of Allah (may peace be upon him).