حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَی شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّی يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
یحیی بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو گیارہ رکعات پڑھا کرتے تھے کہ اس میں سے ایک رکعت کے ذریعہ وتر بنا لیتے تو جب اس سے فارغ ہوتے تو دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن آتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہلکی ہلکی دو رکعات پڑھتے۔
'A'isha reported that the Messenger of Allah (may peace be upon him) used to pray eleven rak'ahs at night, observing the Witr with a single rak'ah, and when he had finished them, he lay down on his right side, till the Mu'adhdhin came to him and he (the Holy Prophet) then observed two short rak'ahs (of Sunan of the dawn prayer).
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَائِ وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِلَی الْفَجْرِ إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُسَلِّمُ بَيْنَ کُلِّ رَکْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ وَجَائَهُ الْمُؤَذِّنُ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَی شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّی يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد سے فجر کی نماز کے درمیان تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے اور ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے اور ایک رکعت کے ذریعہ وتر بنا لیتے پھر جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہو جاتا تو فجر ظاہر ہو جاتی اور مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر ہلکی ہلکی دو رکعت پڑھتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن اقامت کہنے کے لئے آتا۔
'A'isha, the wife of the Apostle of Allah (may peace be upon him), said that between the time when the Messenger of Allah (may peace be upon him) finished the 'Isha' prayer which is called 'Atama by the people, he used to pray eleven rak'ahs, uttering the salutation at the end of every two rak'ahs, and observing the Witr with a single one. And when the Mu'adhdhin had finished the call (for the) dawn prayer and he saw the dawn clearly and the Mu'adhdhin had come to him, he stood up and prayed two short rak'ahs. Then he lay down on his right side till the Mu'adhdhin came to him for lqama.
حَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَسَاقَ حَرْمَلَةُ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ وَجَائَهُ الْمُؤَذِّنُ وَلَمْ يَذْکُرْ الْإِقَامَةَ وَسَائِرُ الْحَدِيثِ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرٍو سَوَائً
حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب سے اس سند کے ساتھ کچھ لفظی ردوبدل کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔
(This hadith has been narrated with the same chain of transmitters by Ibn Shihab, but in it no mention has been made of Iqama )
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً يُوتِرُ مِنْ ذَلِکَ بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ فِي شَيْئٍ إِلَّا فِي آخِرِهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، عبداللہ بن نمیر، ہشام، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے ان میں سے پانچ کو وتر بنا لیتے کسی میں نہ بیٹھتے سوائے اس کے آخر میں۔
'A'isha reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) used to observe thirteen rak'ahs of the night prayer. Five out of them consisted of Witr, and he did not sit, but at the end (for salutation).
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ابوکریب، وکیع، حضرت ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً بِرَکْعَتَيْ الْفَجْرِ
قتیبہ بن سعید، لیث، یزید بن ابی حبیب، عراک بن مالک، عروہ، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو رکعت کے ساتھ تیرہ رکعتیں نماز پڑھا کرتے تھے۔
'A'isha reported that the Messenger of Allah (may peace be upon him) used to pray thirteen rak'ahs during the night including the two rak'ahs (Sunan) of the dawn prayer.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ کَيْفَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ قَالَتْ مَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي
یحیی بن یحیی، مالک، سعید بن ابی سعید، ابوسلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک میں نماز کس طرح پڑھتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رمضان ہو یا رمضان کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گیارہ رکعتوں سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے، چار رکعتیں تو اس طرح پڑھتے کہ ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں کچھ نہ پوچھ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عرض کرتی ہیں، اے اللہ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ میری آنکھیں تو سوتی ہیں پر میرا دل نہیں سوتا۔
Abu Salama b. Abd al-Rahman asked 'A'isha about the (night) prayer of the Messenger of Allah (may peace be upon him) during the month of Ramadan. She said: The Messenger of Allah (may peace be upon him) did not observe either in Ramadan or in other months more than eleven rak'ahs (of the night prayer). He (in the first instance) observed four rak'ahs. Ask not about their excellence and their length (i. e. these were matchless in perfection and length). He again observed four rak'ahs, and ask not about their excellence and their length. He would then observe three rak'ahs (of the Witr prayer). 'A'isha again said: I said: Messenger of Allah, do you sleep before observing the Witr prayer? He said: O 'A'isha, my eyes sleep but my heart does not sleep.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً يُصَلِّي ثَمَانَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ يُوتِرُ ثُمَّ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْکَعَ قَامَ فَرَکَعَ ثُمَّ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَائِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ہشام، یحیی، ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، آٹھ رکعتیں اور پھر وتر پڑھتے، پھر بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے تو جب رکوع کا ارادہ ہوتا تو کھڑے ہو جاتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعت (سنت) پڑھتے۔
Abu Salama asked 'A'isha about the prayer of the Messenger of Allah (may peace be upon him) She said: He observed thirteen rak'ahs (in the night prayer). He observed eight rak'ahs and would then observe Witr and then observe two rak'ahs sitting, and when he wanted to bow he stood up and then bowed down, and then observed two rak'ahs in between the Adhan and lqama of the dawn prayer.
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَی قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ح و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا تِسْعَ رَکَعَاتِ قَائِمًا يُوتِرُ مِنْهُنَّ
زہیر بن حرب، حسین بن محمد، شیبان، یحیی، ابوسلمہ، یحیی بن بشر، معاویہ بن سلام، یحیی بن ابی کثیر، حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا، باقی حدیث اسی طرح سے بیان فرمائی اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو رکعتیں کھڑے ہو کر پڑھتے وتر انہی میں سے ہو تے۔
Abu Salama reported that he asked 'A'isha about the prayer of the Messenger of Allah (may peace he upon him) (during the night). The rest of the hadith is the same but with this exception that he (the Holy Prophet) observed nine rak'ahs including Witr.
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَيْ أُمّهْ أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَتْ صَلَاتُهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً بِاللَّيْلِ مِنْهَا رَکْعَتَا الْفَجْرِ
عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، عبداللہ بن ابی لبید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا، اے اماں جان! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں خبر دیجئے، تو انہوں نے فرمایا آپ کی نماز رمضان اور رمضان کے علاوہ رات کو تیرہ رکعتیں ہوتی تھیں انہی میں سے دو رکعات فجر کی بھی ہوتیں۔
Abu Salama is reported to have said. I came to 'A'isha. I said: O mother, inform me about the prayer of the Messenger of Allah (may peace be upon him). She said: His (night prayer) in Ramadan and (during other months) was thirteen rak'ahs at night including two rak'ahs of Fajr.
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ عَشَرَ رَکَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِسَجْدَةٍ وَيَرْکَعُ رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ فَتْلِکَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً
ابن نمیر، حنظلہ، قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کی نماز میں دس رکعتیں پڑھتے تھے اور ان کو ایک رکعت کے ذریعہ وتر بنالیتے اور فجر کی دو رکعت پڑھتے تو یہ تیرہ رکعتیں ہو گئیں۔
It is reported on the authority of 'A'isha that the prayer of Allah's Messenger (may peace be upon him) in the night consisted of ten rak'ahs. He observed a Witr and two rak'ahs (of Sunan) of the dawn prayer, and thus the total comes to thirteen rak'ahs.
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَأَلْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِ آخِرَهُ ثُمَّ إِنْ کَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَی أَهْلِهِ قَضَی حَاجَتَهُ ثُمَّ يَنَامُ فَإِذَا کَانَ عِنْدَ النِّدَائِ الْأَوَّلِ قَالَتْ وَثَبَ وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ قَامَ فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَائَ وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ وَإِنْ لَمْ يَکُنْ جُنُبًا تَوَضَّأَ وُضُوئَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّی الرَّکْعَتَيْنِ
احمد بن یونس، زہیر، ابواسحاق ، یحیی بن یحیی، ابوخیثمہ، ابواسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے اسود بن یزید سے ان احادیث کے بارے میں پوچھا جو ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کی ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شروع رات میں سو جاتے اور رات کے آخری حصہ میں جاگتے پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی ازواج مطہرات کی طرف کوئی حاجت ہوتی تو اس حاجت کو پورا فرما لیتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو جاتے اور جب پہلی اذان ہوتی تو فورا اٹھ جاتے، اللہ کی قسم! حضرت عائشہ نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل فرماتے اور میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا چاہتے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنبی نہ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے وضو فرماتے پھر دو رکعات نماز پڑھتے۔
'A'isha thus reported about the (night prayer) of the Messenger of Allah (may peace be upon him): He used to sleep in the early part of the night, and woke up in the latter part. If he then wished intercourse with his wife, he satisfied his desire, and then went to sleep; and when the first call to prayer was made he jumped up (by Allah, she, i. e. 'A'isha, did not say "he stood up" ), and poured water over him (by Allah she, i. e. 'A'isha, did not say that he took a bath but I know what she meant) and if he did not have an intercourse, he performed ablution, just as a man performs ablution for prayer and then observed two rak'ahs.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ حَتَّی يَکُونَ آخِرَ صَلَاتِهِ الْوِتْرُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحیی بن آدم، عمار بن زریق، ابواسحاق ، اسود، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں وتر پڑھتے۔
'A'isha observed that the Messenger of Allah (may peace be upon him) used to observe prayer in the night and the last of his (night) prayer was Witr.
حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ عَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَ يُحِبُّ الدَّائِمَ قَالَ قُلْتُ أَيَّ حِينٍ کَانَ يُصَلِّي فَقَالَتْ کَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ قَامَ فَصَلَّی
ہناد بن سری، ابواحوص، اشعث، مسروق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشگی کو اگرچہ تھوڑا ہو پسند فرماتے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کس وقت پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا جب مرغ کا چیخنا سنتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے۔
Masruq is reported to have asked 'A'isha about the action (most pleasing to) the Messenger of Allah (may peace be upon him). She said: He (the Holy Prophet) loved (that action) which one keeps on doing regularly. I said (to 'A'isha): When did he pray (at night)? She replied: When he heard the cock crow, he got up and observed prayer.
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا أَلْفَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّحَرُ الْأَعْلَی فِي بَيْتِي أَوْ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا
ابوکریب، ابن بشر، مسعر، سعد بن ابراہیم، ابی سلمہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رات کے آخری حصہ میں اپنے گھر میں یا اپنے پاس سوتے ہوئے ہی پایا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز پڑھ کر سو جاتے)۔
'A'isha reported: Never did the earlier part of the dawn find the Messenger of Allah (may peace be upon him) but sleeping in my house or near me.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ فَإِنْ کُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي وَإِلَّا اضْطَجَعَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، نصر بن علی، ابن ابی عمر، ابوبکر، سفیان بن عیینہ، ابونضر، ابوسلمہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ لیتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے باتیں فرماتے ورنہ لیٹ جاتے۔
'A'isha reported: When the Apostle of Allah (may peace be upon him) had prayed the two rak'ahs (Sunan) of the dawn prayer, he would talk to me if I was awake, otherwise he would lie down.
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي عَتَّابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ابن ابی عمر، سفیان، زیاد بن سعد، ابی عتاب، ابوسلمہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح روایت نقل کرتی ہیں۔
A hadith like this has been narrated by 'A'isha by another chain of transmitters.
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَإِذَا أَوْتَرَ قَالَ قُومِي فَأَوْتِرِي يَا عَائِشَةُ
زہیر بن حرب، جریر، اعمش، تمیم بن سلمہ، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ رات کی نماز پڑھ لیتے اور وتر پڑھنے لگتے تو مجھے فرماتے اے عائشہ اٹھو اور وتر پڑھو۔
'A'isha reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) used to pray in the night and when he observed Witr, he said to me: O 'A'isha, get up and observe Witr.
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ بِاللَّيْلِ وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ أَيْقَظَهَا فَأَوْتَرَتْ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، سلیمان بن بلال، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تھے اور وہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتیں تو جب وتر پڑھنے باقی رہ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جگا دیتے اور وہ وتر پڑھ لیتیں۔
'A'isha reported that the Messenger of Allah (may peace be upon him) used to offer prayer at night while she lay in front of him, and when the Witr prayer was yet to be observed, he would awaken her and she observed Witr.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ وَاسْمُهُ وَاقِدٌ وَلَقَبُهُ وَقْدَانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ کِلَاهُمَا عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مِنْ کُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَی وِتْرُهُ إِلَی السَّحَرِ
یحیی بن یحیی، سفیان بن عیینہ، ابویعفور، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، مسلم مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھی یہاں تک کہ سحر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتر کی نماز پہنچ گئی۔
'A'isha reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) observed the Witr prayer every night and he completed Witr at the time of dawn.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ وَثَّابٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مِنْ کُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ فَانْتَهَی وِتْرُهُ إِلَی السَّحَرِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، سفیان، ابی حصین، یحیی بن وثاب، مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وتر کی نماز رات کے ہر حصہ میں سے ابتدائی رات اور درمیانی رات اور رات کے آخر میں پڑھی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وتر سحر کے وقت پہنچ گئی۔
Masruq reported on the authority of 'A'isha that she said that the Messenger Of Allah (may peace be upon him) used to observe the Witr prayer every night, maybe in the early part of night, at midnight and in the latter part, finishing his Witr at dawn.
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا حَسَّانُ قَاضِي کِرْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُلَّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَی وِتْرُهُ إِلَی آخِرِ اللَّيْلِ
علی بن حجر، حسان قاضی، کرمان، سعید بن مسروق، ابی ضحی، مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وتر کی نماز رات کے آخر تک پہنچ گئی۔
'A'isha reported that the Messenger of Allah (may peace be upon him) used to observe Witr every night, and he would (at times) complete his Witr at the end of the night.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْکُرَاعِ وَيُجَاهِدَ الرُّومَ حَتَّی يَمُوتَ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَقِيَ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَنَهَوْهُ عَنْ ذَلِکَ وَأَخْبَرُوهُ أَنَّ رَهْطًا سِتَّةً أَرَادُوا ذَلِکَ فِي حَيَاةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَلَيْسَ لَکُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ فَلَمَّا حَدَّثُوهُ بِذَلِکَ رَاجَعَ امْرَأَتَهُ وَقَدْ کَانَ طَلَّقَهَا وَأَشْهَدَ عَلَی رَجْعَتِهَا فَأَتَی ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا أَدُلُّکَ عَلَی أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ عَائِشَةُ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا ثُمَّ ائْتِنِي فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْکَ فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهَا فَأَتَيْتُ عَلَی حَکِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِقَارِبِهَا لِأَنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيًّا قَالَ فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ فَجَائَ فَانْطَلَقْنَا إِلَی عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا فَأَذِنَتْ لَنَا فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَحَکِيمٌ فَعَرَفَتْهُ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ مَنْ مَعَکَ قَالَ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قَالَ ابْنُ عَامِرٍ فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ وَقَالَتْ خَيْرًا قَالَ قَتَادَةُ وَکَانَ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَی قَالَتْ فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ الْقُرْآنَ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْئٍ حَتَّی أَمُوتَ ثُمَّ بَدَا لِي فَقُلْتُ أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُلْتُ بَلَی قَالَتْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا وَأَمْسَکَ اللَّهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَائِ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّهُ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ التَّخْفِيفَ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاکَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ مَا شَائَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنْ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّکُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَکَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَذْکُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّ التَّاسِعَةَ ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْکُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَتِلْکَ إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا سَنَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَهُ اللَّحْمُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَنَعَ فِي الرَّکْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهِ الْأَوَّلِ فَتِلْکَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَکَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَکَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ صَلَّی مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَکْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ کُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَلَّی لَيْلَةً إِلَی الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شَهْرًا کَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا فَقَالَ صَدَقَتْ لَوْ کُنْتُ أَقْرَبُهَا أَوْ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّی تُشَافِهَنِي بِهِ قَالَ قُلْتُ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّکَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا حَدَّثْتُکَ حَدِيثَهَا
محمد بن مثنی، محمد بن ابی عدی، سعید بن قتادہ، زرارہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ہشام بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کا ارادہ کیا تو وہ مدینہ منورہ آگئے اور اپنی زمین وغیرہ بیچنے کا ارادہ کیا تاکہ اس کے زریعہ سے اسلحہ اور گھوڑے وغیرہ خرید سکیں اور مرتے دم تک روم والوں سے جہاد کریں تو جب وہ مدینہ منورہ میں آگئے اور مدینہ والوں میں سے کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے حضرت سعد کو اس طرح کرنے سے منع کیا اور ان کو بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاة طیبہ میں چھ آدمیوں نے بھی اسی طرح کا ارادہ کیا تھا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایسا کرنے سے روک دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہارے لئے میری زندگی میں نمونہ نہیں ہے؟ جب مدینہ والوں نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اپنی اس بیوی سے رجوع کیا جس کو وہ طلاق دے چکے تھے اور اپنے اس رجوع کرنے پر لوگوں کو گواہ بنالیا پھر وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف آئے تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتر کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کیا میں تجھے وہ آدمی نہ بتاؤں جو زمین والوں میں سے سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتر کے بارے میں جانتا ہے! حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا وہ کون ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، تو ان کی طرف جا اور ان سے پوچھ پھر اس کے بعد میرے پاس آ اور وہ جو جواب دیں مجھے بھی اس سے باخبر کرنا، حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف چلا، حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف لے کر چلو، وہ کہنے لگے کہ میں تجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف لے کر نہیں جا سکتا کیونکہ میں نے انہیں اس بات سے روکا تھا کہ وہ ان دو گروہوں (علی اور معاویہ) کے درمیان کچھ نہ کہیں تو انہوں نے نہ مانا اور چلی گئیں، حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان پر قسم ڈالی تو وہ ہمارے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف آنے کے لئے چل پڑے اور ہم نے اجازت طلب کی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہمیں اجازت دی اور ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حکیم بن افلح کو پہنچان لیا اور فرمایا : کیا یہ حکیم ہیں؟ حکیم کہنے لگے کہ جی ہاں! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : تیرے ساتھ کون ہے؟ حکیم نے کہا کہ سعد بن ہشام ہیں، آپ نے فرمایا ہشام کون ہے؟ حکیم نے کہا کہ عامر کا بیٹا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عامر پر رحم کی دعا فرمائی اور اچھے کلمات کہے، حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ عامر غزوہ احد میں شہید کر دئے گئے تھے، تو میں نے عرض کیا اے ام المومنین مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیے! حضرت عائشہ نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کیا ہاں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق قرآن ہی تو تھا، حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں اٹھ کھڑا ہو جاؤں اور مرتے دم تک کسی سے کچھ نہ پوچھوں پھر مجھے خیال آیا تو میں نے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کے بارے میں بتائیے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کیا تو نے (یَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ) نہیں پڑھی؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتداء ہی میں رات کے قیام کو فرض کردیا تھا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ایک سال رات کو قیام فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصہ کو بارہ مہینوں تک آسمان میں روک دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی تو پھر رات کا قیام فرض ہونے کے بعد نفل ہوگیا، حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ اے ام المومنین مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز وتر کے بارے میں بتائیے! تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رات کو جب چاہتا بیدار کر دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسواک فرماتے اور وضو فرماتے اور نو رکعات نماز پڑھتے ان رکعتوں میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھتے اور سلام نہ پھیر تے پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھتے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد بیان فرماتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیرتے سلام پھیرنا ہمیں سنا دیتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات نماز پڑھتے تو یہ گیارہ رکعتیں ہوگئیں، اے میرے بیٹے! پھر جب اللہ کے نبی کی عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک پر گوشت آ گیا تو سات رکعتیں وتر کی پڑھنے لگے اور دو رکعتیں اسی طرح پڑھتے جس طرح کہ پہلے بیان کیا تو یہ نو رکعتیں ہوئی اے میرے بیٹے! اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی کوئی نماز پڑھتے تو اس بات کو پسند فرماتے کہ اس پر دوام کیا جائے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نیند کا غلبہ ہوتا یا کوئی درد وغیرہ ہوتی کہ جس کی وجہ سے رات کو قیام نہ ہو سکتا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن کو بارہ رکعتیں پڑھتے اور مجھے نہیں معلوم کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی رات میں سارا قرآن مجید پڑھا ہو اور نہ ہی مجھے یہ معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورا مہینہ روزے رکھے ہوں سوائے رمضان کے، حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف گیا اور ان سے اس ساری حدیث کو بیان کیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سچ فرمایا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا یا ان کی خدمت میں حاضری دیتا تو میں یہ حدیث سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بالمشافہ (براہ راست) سنتا، راوی کہتے ہیں کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ انکے پاس نہیں جاتے تو میں انکی حدیث آپ کو بیان نہ کرتا۔
Sa'd b. Hisham b. 'Amir decided to participate in the expedition for the sake of Allah, so he came to Medina and he decided to dispose of his property there and buy arms and horses instead and fight against the Romans to the end of his life. When he came to Medina, he met the people of Medina. They dissuaded him to do such a thing, and informed him that a group of six men had decided to do so during the lifetime of the Apostle of Allah (may peace be upon him) and the Apostle of Allah (may peace be upon him) forbade them to do it, and said: Is there not for you a model pattern in me? And when they narrated this to him (Sa'd b. Hisham), he returned to his wife, though he had divorced her and made (people) witness to his reconciliation. He then came to Ibn 'Abbas and asked him about the Witr of the Messenger of Allah (may peace be upon him). Ibn 'Abbas said: Should I not lead you to one who knows best amongst the people of the world about the Witr of the Messenger of Allah (may peace be upon him)? He said: Who is it? He (Ibn 'Abbas) said: It is 'A'isha. So go to her and ask her (about Witr) and then come to me and inform me about her answer that she would give you. So I came to Hakim b. Aflah and requested him to take me to her. He said: I would not go to her, for I forbade her to speak anything (about the conflict) between the two groups, but she refused (to accept my advice) and went (to participate in that conflict). I (requested) him (Hakim) with an oath to lead me to her. So we went to 'A'isha and we begged permission to meet her. She granted us permission and we went in. She said: Are you Hakim? (She recognised him.) He replied: Yes. She said: Who is there with you? He said: He is Sa'd b. Hisham. She said: Which Hisham? He said: He is Hisham b. 'Amir. She blessed him ('Amir) with mercy from Allah and spoke good of him (Qatada said that he died as a martyr in Uhud). I said: Mother of the Faithful, tell me about the character of the Messenger of Allah (may peace be upon him). She said: Don't you read the Qur'an? I said: Yes. Upon this she said: The character of the Apostle of Allah (may peace be upon him) was the Qur'an. He said: I felt inclined to get up and not ask anything (further) till death. But then I changed my mind and said: Inform me about the observance (of the night prayer) of the Messenger of Allah (may peace be upon him). She said: Did you not recite:" O thou wrapped up"? He said: Yes. She said: Allah, the Exalted and the Glorious, made the observance of the night prayer at the beginning of this Surah obligatory. So the Apostle of Allah (may peace be upon him) and his Companions around him observed this (night prayer) for one year. Allah held back the concluding portion of this Surah for twelve months in the Heaven till (at the end of this period) Allah revealed the concluding verses of this Surah which lightened (the burden of this prayer), and the night prayer became a supererogatory prayer after being an obligatory one. I said: Mother of the Faithful, inform me about the Witr of the Messenger of Allah (may peace be upon him). She said: I used to prepare a tooth stick for him and water for his ablution, and Allah would rouse him to the extent He wished during the night. He would use the tooth stick, and perform ablution, and would offer nine rak'ahs, and would not sit but in the eighth one and would remember Allah, and praise Him and supplicate Him, then he would get up without uttering the salutation and pray the ninth rak'ah. He would then sit, remember, praise Him and supplicate Him and then utter a salutation loud enough for us to hear. He would then pray two rak'ahs sitting after uttering the salutation, and that made eleven rak'ahs. O my son, but when the Apostle of Allah (may peace be upon him) grew old and put on flesh, he observed Witr of seven, doing in the two rak'ahs as he had done formerly, and that made nine. O my son, and when the Apostle of Allah (may peace be upon him) observed prayer, he liked to keep on observing it, and when sleep or pain overpowered him and made it impossible (for him) to observe prayer in the night, he prayed twelve rak'ahs daring the day. I am not aware of Allah's Prophet (may peace be upon him) having recited the whole Qur'an during one single night, or praying through the night till morning, or fasting a complete month, except Ramadan. He (the narrator) said: I then went to Ibn 'Abbas and narrated to him the hadith (transmitted from her), and he said: She says the truth. If I went to her and got into her presence, I would have listened to it orally from her. He said: If I were to know that you do not go to her. I would not have transmitted this hadith to you narrated by her.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَی الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارَهُ فَذَکَرَ نَحْوَهُ
محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، قتادہ، زرارہ بن اوفی فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پھر وہ اپنی جائیداد بیچنے کے لئے مدینہ منورہ کی طرف چلے گئے اس کے بعد آگے حدیث اسی طرح ذکر کی۔
Zurara b. Aufa said that Sa'd b. Hisham divorced his wife, and then proceeded to Medina to sell his property, and the rest of the hadith is the same.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْوِتْرِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَقَالَ فِيهِ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قُلْتُ ابْنُ عَامِرٍ قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْئُ کَانَ عَامِرٌ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، سعد بن ہشام فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور ان سے وتر کے بارے میں پوچھا اور پوری حدیث بیان کی جس میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہشام کون ہے؟ میں نے عرض کیا ابن عامر، وہ کہنے لگیں وہ کتنے اچھے آدمی تھے یہ عامر غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔
Sa'd b. Hisham reported: I went to 'Abdullah b. 'Abbas and asked him about the Witr prayer, and the rest of the hadith is the same as recorded in this event. She (Hadrat 'A'isha) said: Who is that Hisham? I said: Son of 'Amir. She said: What a fine man 'Amir was! He died as a martyr in the Battle of Uhud.
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ کَانَ جَارًا لَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ سَعِيدٍ وَفِيهِ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قَالَ ابْنُ عَامِرٍ قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْئُ کَانَ أُصِيبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَفِيهِ فَقَالَ حَکِيمُ بْنُ أَفْلَحَ أَمَا إِنِّي لَوْ عَلِمْتُ أَنَّکَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا أَنْبَأْتُکَ بِحَدِيثِهَا
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، قتادہ، زرارہ بن اوفی فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ہمسائے تھے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے اور سعید کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، اس حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہشام کون ہے؟ وہ کہنے لگے کہ ابن عامر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرمانے لگیں کہ وہ کیا ہی اچھے آدمی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ حکیم بن افلح نے کہا کہ اگر مجھے پتہ چل جاتا کہ تو ان کے پاس نہیں جاتا تو میں ان کی حدیث تیرے سامنے بیان نہ کرتا۔
Zurara b. Aufa reported that Sa'd b. Hisham was his neighbour and he informed him that he had divorced his wife and he narrated the hadith like the one transmitted by Sa'd. She ('A'isha) said: Who is Hisham? He said: The son of 'Amir. She said: What a fine man he was; he participated in the Battle of Uhud along with the Messenger of Allah (may peace be upon him). Hakim b. Aflah said: If I ever knew that you do not go to 'A'isha, I would not have informed you about her hadith (So that you would have gone to her and heard it from her orally).
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنْ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ أَوْ غَيْرِهِ صَلَّی مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَکْعَةً
سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابی عوانہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کسی درد یا کسی اور وجہ سے فوت ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن میں بارہ رکعات پڑھ لیتے۔
'A'isha reported that when the Messenger of Allah (may peace be upon him) missed the night prayer due to pain or any other reason, he observed twelve rak'ahs during the daytime.
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ وَکَانَ إِذَا نَامَ مِنْ اللَّيْلِ أَوْ مَرِضَ صَلَّی مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَکْعَةً قَالَتْ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّی الصَّبَاحِ وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ
علی بن خشرم، عیسی، ابن یونس، شعبہ، قتادہ، زرارہ ابن اوفی، سعد بن ہشام انصاری، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی کوئی کام کرتے تو اس پر دوام فرماتے اور جب رات کو سو جاتے یا بیمار ہوتے تو دن میں بارہ رکعات نماز پڑھ لیتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری رات بیدار رہے ہوں اور نہ ہی رمضان کے علاوہ پورا مہینہ رو زے رکھے ہوں۔
'A'isha reported that when the Messenger of Allah (may peace be upon him) decided upon doing any act, he continued to do it, and when he slept at night or fell sick he observed twelve rak'ahs during the daytime. I am not aware of Allah's Messenger (may peace be upon him) observing prayer during the whole of the night till morning, or observing fast for a whole month continuously except that of Ramadan.
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْئٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ کُتِبَ لَهُ کَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنْ اللَّيْلِ
ہارون بن معروف، عبداللہ بن وہب، ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، سائب بن یزید، عبیداللہ بن عبدللہ، عبدالرحمن، بن عبدالقاری، حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی وظیفہ سے یا اس میں سے کسی عمل سے سو جائے تو فجر کی نماز اور ظہر کی نماز کے درمیان کر لے تو اس کے لئے اس طرح لکھ دیا جاتا ہے گویا کہ اس نے رات کو ہی پڑھ لیا۔
'Umar b. Khattab reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Should anyone fall asleep and fail to recite his portion of the Qur'an, or a part of it, if he recites it between the dawn prayer and the noon prayer, it will be recorded for him as though he had recited it during the night.