حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُوَرُهُمْ عَلَی صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَا يَبْصُقُونَ فِيهَا وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ فِيهَا آنِيَتُهُمْ وَأَمْشَاطُهُمْ مِنْ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمَجَامِرُهُمْ مِنْ الْأَلُوَّةِ وَرَشْحُهُمْ الْمِسْکُ وَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ يُرَی مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَرَائِ اللَّحْمِ مِنْ الْحُسْنِ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ قُلُوبُهُمْ قَلْبٌ وَاحِدٌ يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُکْرَةً وَعَشِيًّا
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا ان کی صورتیں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی وہ جنت میں نہ تھوکیں گے اور نہ ہی ناک صاف کریں گے اور نہ ہی پاخانہ کریں گے ان کے برتن اور ان کی انکی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیوں میں عود سلگ رہی ہوگی اور ان کا پسینہ مشک کی طرح ہوگا اور ان جنیتوں میں سے ہر ایک کے لئے دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا مغز خوبصورتی کی وجہ سے گوشت کے اندر سے دکھائی دے گا نہ ہی جنت والے آپس میں اختلاف کریں گے اور نہ ہی آپس میں بغض رکھیں گے ان کے دل ایک دل کی طرح ہوں گے صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کریں گے۔
Hammam b. Munabbih reported: These are some of the ahidith which Abu Huraira reported from Allah's Messenger (may peace be upon him) and one is this that he is reported to have said: The (members of the) first group that would be admitted to Paradise would have their faces as bright as full moon during the night. They would neither spit nor suffer catarrh, nor void excrement. They would have their utensils and their combs made of gold and silver and the fuel of their braziers would be aloes and their sweat would be musk and every one of them would have two spouses (so beautiful) that the marrow of their shanks would be visible through the flesh. There would be no dissension amongst them and no enmity in their hearts. Their hearts would be like one heart, glorifying Allah morning and evening.
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْکُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ قَالُوا فَمَا بَالُ الطَّعَامِ قَالَ جُشَائٌ وَرَشْحٌ کَرَشْحِ الْمِسْکِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ کَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، عثمان عثمان اسحاق جریر، اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت والے جنت میں کھائیں گے اور پئیں گے اور تھوکیں گے نہیں اور نہ ہی پیشاب کریں گے اور نہ ہی پاخانہ کریں گے اور نہ ہی ناک صاف کریں گے صحابہ کرام نے عرض کیا تو پھر کھانا کدھر جائے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ڈکار اور پسینہ آئے گا اور پسینہ مشک کی طرح خوشبودار ہوگا اور ان کو تسبیح یعنی سُبْحَانَ اللَّهِ اور تحمید یعنی اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کا الہام ہوگا جس طرح کہ انہیں سانس کا الہام ہوتا ہے۔
Jabir reported: I heard Allah's Apostle (may peace be upon him) as saying that the inmates of Paradise would eat and drink but would neither spit, nor pass water, nor void excrement, nor suffer catarrah. It was said: Then, what would happen with food? Thereupon he said: They would belch and sweat (and it would be over with their food), and their sweat would be that of musk and they would glorify and praise Allah as easily as you breathe.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ کَرَشْحِ الْمِسْکِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ، حضرت اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ کشح المسک یعنی جنت والوں کا پسنیہ مشک کی طرح خوشبو دار ہوگا تک روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of A'mash with a slight variation of wording.
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ قَالَ حَسَنٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْکُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَکِنْ طَعَامُهُمْ ذَاکَ جُشَائٌ کَرَشْحِ الْمِسْکِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالْحَمْدَ کَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ قَالَ وَفِي حَدِيثِ حَجَّاجٍ طَعَامُهُمْ ذَلِکَ
حسن بن علی حلوانی حجاج بن شاعر، ابوعاصم، حسن ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جنت والے جنت میں کھائیں گے اور پئیں گے لیکن وہ اس میں پاخانہ نہیں کریں گے لیکن ان کا کھانا ایک ڈکار کی صورت میں تحلیل ہو جائے گا جس سے مشک کی طرح خوشبو آئے گی اور ان کو تسبیح و تحمید اس طرح سکھائی جائے گی جس طرح تمہیں سانس لینا سکھایا گیا ہے اور حجاج کی حدیث میں طَعَامُهُمْ ذَلِکَ یعنی ان کا کھانا کے الفاظ ہیں۔
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said that the inmates of Paradise would eat therein and they would also drink, but they would neither void excrement, nor suffer catarrh, nor pass water, and their eating (would be digested) in the form of belching and their sweat would be musk aged they would glorify and praise Allah as easily ai you breathe.
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّکْبِيرَ کَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ
سعید بن یحیی اموی ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے سوائے اس کے کہ اس میں انہوں نے کہا اور ان کو تسبح و تکبیر سکھائی جائے گی جسطرح کہ تمہیں سانس لینا سکھایا جاتا ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Jabir with a slight variation of wording.