TrueHadith

احصار کے وقت احرام کھولنے کے جوازقران اور قارن کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کے جواز کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 2164

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا خَرَجَ فِي الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا وَقَالَ إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ صَنَعْنَا کَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَسَارَ حَتَّی إِذَا ظَهَرَ عَلَی الْبَيْدَائِ الْتَفَتَ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ فَخَرَجَ حَتَّی إِذَا جَائَ الْبَيْتَ طَافَ بِهِ سَبْعًا وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ وَرَأَی أَنَّهُ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَهْدَی

یحیی بن یحیی، مالک، نافع، رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فتنہ کے دور میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے نکلے اور فرمایا کہ اگر ہمیں بیت اللہ تک جانے سے روک دیا گیا جس طرح کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا تھا وہ نکلے اور عمرہ کا احرام باندھا اور چلے یہاں تک کہ جب مقام حج اور عمرہ یبداء پر آئے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا حج اور عمرہ دونوں کا ایک ہی حکم ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج کو واجب کرلیا ہے تو وہ نکلے یہاں تک کہ جب وہ بیت اللہ پر آئے تو اس کے سات چکر لگائے اور صفا اور مروہ کے درمیان بھی سات چکر لگائے اس پر کچھ زیادہ نہیں کیا اور اسی کو کافی خیال کیا اور قربانی کی۔

Nafi' reported that 'Abdullah b. Umar (Allah be pleased with them) set out for Umra during the turmoil, and he said: If I am detained (from going to) the House, we would do the same as we did with Allah's Messenger (may peace be upon him). So he went out and put on Ihram for 'Umra and moved on until he reached al-Baida'. He turned towards his Companions and said: There is one command for both of them and I call you as my witness (and say) that verify I have made Hajj with 'Umra compulsory for me. He proceeded until, when he came to the House, he circumambulated it seven times and ran between al-Safa' and al-Marwa seven times, and made no addition to it and thought it to be sufficient for him and offered sacrifice.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2165

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ کَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَا لَا يَضُرُّکَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ فَإِنَّا نَخْشَی أَنْ يَکُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ يُحَالُ بَيْنَکَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ قَالَ فَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ حِينَ حَالَتْ کُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً فَانْطَلَقَ حَتَّی أَتَی ذَا الْحُلَيْفَةِ فَلَبَّی بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ قَالَ إِنْ خُلِّيَ سَبِيلِي قَضَيْتُ عُمْرَتِي وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ ثُمَّ تَلَا لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ثُمَّ سَارَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَائِ قَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْحَجِّ أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَةٍ فَانْطَلَقَ حَتَّی ابْتَاعَ بِقُدَيْدٍ هَدْيًا ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّی حَلَّ مِنْهُمَا بِحَجَّةٍ يَوْمَ النَّحْرِ

محمد بن مثنی، یحیی (قطان)، عبید اللہ، نافع، عبداللہ بن عبد اللہ، سالم بن عبد اللہ، حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا جس وقت کہ حجاج حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قتال کے لئے آیا کہ آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا اگر آپ اس سال حج نہ کریں کیونکہ ہمیں ڈر ہے کہ لوگوں کے درمیان قتال واقع نہ ہو جائے حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان یہ چیز حائل ہوئی تو میں بھی اسی طرح کروں گا جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا جس وقت کہ کفار قریش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے تھے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کرلیا ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ چلے جب ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے عمرہ کا تلبیہ پڑھا۔ اس کے بعد فرمایا کہ اگر میرا راستہ چھوڑ دیا گیا تو میں اپنا عمرہ پورا کرلوں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ پیدا کردی گئی تو میں وہی کروں گا جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ پھر یہ آیت تلاوت کی ، (لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ) 33۔ الأحزاب : 21)، پھر چلے یہاں تک کہ جب بیداء کے مقام پر آئے تو فرمایا کہ حج اور عمرہ دونوں کا ایک ہی حکم ہے اگر میرے اور عمرہ کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تو حج کے درمیان بھی رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔ تو میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج کو بھی واجب کرلیا ہے۔ تو آپ نکلے اور مقام قدید سے قربانی خریدی اور حج اور عمرہ دونوں کے لیے بیت اللہ کا ایک طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی پھر ان سے حلال نہیں ہوئے یہاں تک کہ یوم النحر کے دن حج کے ساتھ دونوں سے حلال ہوئے۔

Nafi' reported that 'Abdullah b. 'Abdullah and Salim b. Abdullah said to 'Abdullah (b. 'Umar) at the time when Hajjaj came to fight against Ibn Zubair: There would be no harm if you do not (proceed) for Hajj this year, for we fear that there would be fight among people which would cause obstruction between you and the House, whereupon he said: If there would be obstruction between me and that (Ka'ba), I would do as Allah's Messenger (may peace be upon him) did. I was with him (the Holy Prophet) when the infidels of Quraish caused obstructions between him (the Holy Prophet) and the House. I call you as my witness (to the fact) that I have made 'Umra essential for me. He proceeded until he came to Dhu'l-Hulaifa and pronounced Talbiya for Umra, and said: If the way Is clear forme, I would then complete my 'Umra but If there is some obstruction between me and that (the Ka'ba). I would then do what Allah's Messenger (may peace be upon him) had done (at the occasion of Hudaibiya), and I was with him (the Holy Prophet). and then recited: "Verily in the Messenger of Allah, there is a model pattern for you" (xxxiii. 21). He then moved on until he came to the rear side of al-Baida' and said: There is one command for both of them automatically) (Hajj and Umra). If I am detained (in the performance) of 'Umra, I am ( automatically detained (in the performance) of Hajj (too). I call you as witness that Hajj along with 'Umra I had made essential for me. (I am performing Hajj and 'Umra as Qiran.) He then bought sacrificial animals at Qudaid and then circumambulated the House and ran between al-Safa' and al-Marwa once (covering both Hajj and Umra), and did not put off Ihram until on the Day of Sacrifice in the month of Dhu'l-Hijja.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1220497)

و حَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَکَانَ يَقُولُ مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ کَفَاهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّی يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا

ابن نمیر، عبید اللہ، حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس وقت حج کا ارادہ فرمایا جس وقت کہ حجاج حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قتال کرنے کے لئے آیا اور اس سے آگے حدیث اسی طرح سے ہے جیسے گزری اور اس کے آخر میں ہے کہ جو حج اور عمرہ دونوں کو اکٹھا کرے گا اس کے لئے ایک طواف کافی ہے اور حلال نہ ہو یہاں تک کہ ان دونوں سے حلال نہ ہو جائے یعنی احرام نہ کھولے۔

Nafi' reported that Ibn Umar intended to go to Hajj (during the year) when Hajjaj attacked Ibn Zubair, and he narrated the account as (narrated above), and he used to say at the end of the hadith: He who combines Hajj with Umra, for him one single circumambulation is sufficient, and he did not put off Ihram until he had completed both of them.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2166

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ النَّاسَ کَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوکَ فَقَالَ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ أَصْنَعُ کَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً ثُمَّ خَرَجَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَائِ قَالَ مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ اشْهَدُوا قَالَ ابْنُ رُمْحٍ أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي وَأَهْدَی هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ ثُمَّ انْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا حَتَّی قَدِمَ مَکَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَی ذَلِکَ وَلَمْ يَنْحَرْ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْئٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّی کَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ وَحَلَقَ وَرَأَی أَنْ قَدْ قَضَی طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ کَذَلِکَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن رمح، لیث، قتیبہ، حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس سال کہ حجاج نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر نزول کیا حج کا ارادہ کیا ان سے کہا گیا کہ لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کے امکانات ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں وہ آپ کو حج سے نہ روک دیں تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ( لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی اتباع بہترین چیز ہے میں بھی اسی طرح کروں گا جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے تھے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ کو واجب کرلیا ہے پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نکلے یہاں تک کہ بیداء مقام پر آئے تو فرمایا کہ حج اور عمرہ کا ایک ہی حکم ہے تو میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ کے ساتھ حج بھی واجب کرلیا ہے اور مقام قدید سے ایک قربانی کا جانور خرید کر ساتھ رکھ لیا اور پھر چلے اور حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھتے تھے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ آئے اور بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی اور اس پر کچھ زیادہ نہیں کیا اور نہ قربانی کی اور نہ سر منڈایا اور نہ ہی بال چھوٹے کروائے اور نہ ہی ان چیزوں میں سے کسی چیز سے حلال ہوئے جن کو احرام کی وجہ سے حرام کیا تھا یہاں تک کہ جب قربانی کا دن ہوا تو قربانی کی اور سر منڈایا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے وہی پہلے والے طواف کو حج اور عمرہ کے لیے کافی سمجھا اور حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اسی طرح کیا ہے۔

Nafi' reported that Ibn Umar intended to go for Hajj during the year when Hajjaj attacked Ibn Zubair. It was said to him: There is a state of war between people and we fear that they would detain you, whereupon he ('Abdullah b. Umar) said: "Verily in the Messenger of Allah there is a model pattern for you." I would do as Allah's Messenger (may peace be upon him) did. I call you as witness that I have undertaken to perform 'Umra. He then set out until, when he reached the rear side of al-Baida', he said: There is one command both for Hajj and Umra. so bear witness. Ibn Rumh said: I call you as witness that I have undertaken to perform my Hajj along with my Umra (i. e. I am performing both of them as Qiran), and he offered the sacrifice of animals which he had bought at Qudaid. He then proceeded pronouncing Talbiya for both of them together until he reached Mecca, He circumambulated the House. and (ran) between al-Safa' and al-Marwa and made no addition to it. He neither sacrificed the animal, nor got his head shaved, nor got his hair clipped, nor did he make anything lawful which was unlawful (due to Ihram) until it was the Day of Sacrifice (10th of Dhu'l-Hijja). He then offered sacrifice, and got his hair cut, and saw that circumambulation of Hajj and 'Umra was complete with the first circumambulation. Ibn 'Umar said: This is how Allah's Messenger (may peace be upon him) had done.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1220499)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ وَلَمْ يَذْکُرْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ حِينَ قِيلَ لَهُ يَصُدُّوکَ عَنْ الْبَيْتِ قَالَ إِذَنْ أَفْعَلَ کَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ هَکَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا ذَکَرَهُ اللَّيْثُ

ابوربیع زہرانی، ابوکامل، حماد، زہیر بن حرب، اسماعیل، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی واقعہ نقل کیا گیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر نہیں کیا سوائے پہلی حدیث کے جس وقت ان سے کہا گیا کہ لوگ آپ کو بیت اللہ سے روک دیں گے انہوں نے فرمایا کہ میں وہی کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا اور حدیث کے آخر میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کیا ہے جس طرح کہ لیث نے اس سے ذکر کیا ہے۔

This hadith has been narrated from Ibn Umar through another chain of transmitters except with (this variation) that Allah's Apostle (may peace be upon him) was mentioned in the first part of the hadith, i.e. when it was said to him: They would bar you (from going) to the House. He said: In that, case I would do what Allah's Messenger (may peace be upon him) had done. He did not mention at the end of this hadith (i. e. these words): "This is how the Messenger of Allah (may peace be upon him) had done," as it Is narrated by al-Laith.

Permalink