Narrated by Ibn Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَی الْيَمَنِ فَقَالَ ادْعُهُمْ إِلَی شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِکَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي کُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِکَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِهِمْ
ابوعاصم، ضحاک بن مخلدر، زکریا بن اسحاق ، یحیی بن عبداللہ بن صیفی، ابوسعید، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو یمن بھیجا۔ اور فرمایا کہ تم انہیں یہ شہادت دینے کی دعوت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں اگر وہ اس کو مان لیں تو انہیں یہ بتلاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں کو دی جائے گی۔
Narrated Ibn Abbas: Thy Prophet sent Muadh to Yemen and said, "Invite the people to testify that none has the right to be worshipped but Allah and I am Allah's Apostle, and if they obey you to do so, then teach them that Allah has enjoined on them five prayers in every day and night (in twenty-four hours), and if they obey you to do so, then teach them that Allah has made it obligatory for them to pay the Zakat from their property and it is to be taken from the wealthy among them and given to the poor." ________________________________________
Narrated by Abu Aiyub
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ مَا لَهُ مَا لَهُ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَبٌ مَا لَهُ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّکَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ وَقَالَ بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ وَأَبُوهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَی بْنَ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ أَخْشَی أَنْ يَکُونَ مُحَمَّدٌ غَيْرَ مَحْفُوظٍ إِنَّمَا هُوَ عَمْرٌو
حفص بن عمرو، شعبہ، محمد بن عثمان بن عبداللہ بن موہب، موسیٰ بن طلحہ، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے عرض کیا کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کردے؟ آپ نے فرمایا کہ اس کو کیا ہوگیا، اس کو کیا ہوگیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صاحب ضرورت ہے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اس کا کسی کو شریک نہ بنا، نماز قائم کر اور زکوۃ دے اور صلہ رحمی کر، اور بہز کا بیان ہے کہ مجھ سے شعبہ نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے محمد بن عثمان اور ان کے والد عثمان بن عبداللہ نے بیان کیا کہ موسیٰ بن طلحہ سے انہوں نے ابوایوب سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا ابوعبداللہ نے کہا کہ مجھے خوف ہے کہ محمد غیر محفوظ ہو بلکہ وہ عمرو ہو۔
Narrated Abu Aiyub: A man said to the Prophet "Tell me of such a deed as will make me enter Paradise." The people said, "What is the matter with him? What is the matter with him?" The Prophet said, "He has something to ask. (What he needs greatly) The Prophet said: (In order to enter Paradise) you should worship Allah and do not ascribe any partners to Him, offer prayer perfectly, pay the Zakat and keep good relations with your Kith and kin." (See Hadith No. 12, Vol 8). ________________________________________
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دُلَّنِي عَلَی عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَکْتُوبَةَ وَتُؤَدِّي الزَّکَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَزِيدُ عَلَی هَذَا فَلَمَّا وَلَّی قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَی رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَی هَذَا
محمد بن عبدالرحیم، عفان بن مسلم، وہیب، یحیی بن سعید بن حیان، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ جب میں اس کو کروں تو جنت میں داخل ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ تو اللہ کی عبادت کر اور کسی کو اس کا شریک نہ بنا اور فرض نماز قائم کر اور فرض زکوۃ اداء کر اور رمضان کے روزے رکھ۔ تو اس اعرابی نے کہا کہ قسم اس ذات پاک کی جسکے قبضہ میں میری جان ہے میں اس پر زیادتی نہ کروں گا جب وہ چلا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کو کوئی جنتی دیکھنا اچھا معلوم ہو تو وہ اس شخص کو دیکھے۔
Narrated Abu Huraira: A Bedouin came to the Prophet and said, "Tell me of such a deed as will make me enter Paradise, if I do it." The Prophet (p.b.u.h) said, "Worship Allah, and worship none along with Him, offer the (five) prescribed compulsory prayers perfectly, pay the compulsory Zakat, and fast the month of Ramadan." The Bedouin said, "By Him, in Whose Hands my life is, I will not do more than this." When he (the Bedouin) left, the Prophet said, "Whoever likes to see a man of Paradise, then he may look at this man." ________________________________________
Narrated by Abu Zur'a
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي حَيَّانَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو زُرْعَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا
مسدد، یحیی، ابی حیان، ابوزرعہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی روایت کرتے ہیں۔
Narrated Abu Zur'a: from the Prophet the same as above. ________________________________________
Narrated by Ibn Abbas
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ بن منهال قال حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَکَ کُفَّارُ مُضَرَ وَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْکَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِشَيْئٍ نَأْخُذُهُ عَنْکَ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَائَنَا قَالَ آمُرُکُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَعَقَدَ بِيَدِهِ هَکَذَا وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَقَالَ سُلَيْمَانُ وَأَبُو النُّعْمَانِ عَنْ حَمَّادٍ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
حجاج بن منہال، حماد بن زید، ابوحمزہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابن عباس کو کہتے ہوئے سنا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ قبیلہ ربیعہ کی ایک شاخ ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر حائل ہیں اور ہم آپ کی طرف صرف حرام کے مہینوں میں آنے کا موقع پاتے ہیں اس لئے آپ ہمیں ایسی بات کا حکم دیں کہ ہم اس پر عمل کریں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو اس کی طرف دعوت دیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں۔ اللہ پر ایمان لانا اور گواہی دینا کہ معبود سوائے خدا کے کوئی نہیں، اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا۔۔ نماز قائم کرنا۔۔ زکوۃ دینا۔۔ اور یہ کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ اداء کرو اور میں تمہیں، دباء، حنتم، نقیر، اور مزفت کے استعمال سے روکتا ہوں اور سلیمان اور ابوالنعمان نے حماد سے روایت کیا ہے کہ اللہ پر ایمان لانا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
Narrated Ibn Abbas: A delegation of the tribe of 'Abdul Qais came to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! We are from the tribe of Rabi'a, and the infidels of the tribe of Mudar stands between us and you; so we cannot come to you except during the Sacred Months. Please order us to do something (religious deeds) which we may carry out and also invite to it our people whom we have left behind." The Prophet said, "I order you to do four things and forbid you four others: (I order you) to have faith in Allah, and confess that none has the right to be worshipped but Allah, (and the Prophet gestured with his hand like this (i.e. one knot) and to offer prayers perfectly and to pay the Zakat, and to pay one-fifth of the booty in Allah's Cause. And I forbid you to use Dubba', Hantam, Naqir and Muzaffat (all these are the names of utensils used for preparing alcoholic drinks)." ________________________________________
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَکَفَرَ مَنْ کَفَرَ مِنْ الْعَرَبِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَی اللَّهِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّکَاةِ فَإِنَّ الزَّکَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا کَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَی مَنْعِهَا قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَدْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ
ابوالیمان حکم بن نافع، شعیب بن ابی حمزہ، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور عرب کے بعض قبیلہ کافر ہوگئے، تو عمر نے کہا کہ آپ لوگوں سے کس طرح جنگ کریں گے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حکم دیا گیا ہوں کہ لوگوں سے جہاد کروں یہاں تک کہ وہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہیں جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا اس نے مجھ سے اپنا جان ومال بچالیا مگر کسی حق کے عوض اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا و اللہ میں اس شخص سے جہاد کروں گا جس نے نماز اور زکوۃ کے درمیان تفریق ڈالی زکوۃ تو مال کا حق ہے بخدا اگر انہوں نے ایک رسی بھی روکی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیتے تھے تو اس کے نہ دینے سے میں ان سے جنگ کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بخدا اللہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا تھا۔ تو میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے۔
Narrated Abu Huraira: When Allah's Apostle died and Abu Bakr became the caliph some Arabs renegade (reverted to disbelief) (Abu Bakr decided to declare war against them), 'Umar, said to Abu Bakr, "How can you fight with these people although Allah's Apostle said, 'I have been ordered (by Allah) to fight the people till they say: "None has the right to be worshipped but Allah, and whoever said it then he will save his life and property from me except on trespassing the law (rights and conditions for which he will be punished justly), and his accounts will be with Allah.' " Abu Bakr said, "By Allah! I will fight those who differentiate between the prayer and the Zakat as Zakat is the compulsory right to be taken from the property (according to Allah's orders) By Allah! If they refuse to pay me even a she-kid which they used to pay at the time of Allah's Apostle . I would fight with them for withholding it" Then 'Umar said, "By Allah, it was nothing, but Allah opened Abu Bakr's chest towards the decision (to fight) and I came to know that his decision was right."