TrueHadith

اللہ تعالیٰ کا قول کہ شراب جوا اور بت اور فال کے تیر سب ناپاک اور شیطانی کام ہیں ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ ازلام سے مراد فال کھولنے کے تیر ہیں جن سے کہ قسمت کا حال معلوم کیا کرتے تھے اور نصب سے تھان مراد ہیں جن پر کافر لوگ قربانیاں کیا کرتے تھے دوسرے لوگوں نے کہا کہ ازلام زلم کی جمع ہے زلم کہتے ہیں بے پر کی تیر کا پھر انا مراد ہے اگر منع کی فال نکلتی تو وہ کام نہ کرتے اور اگر حکم کی فال نکلتی تو اس کام کو کرتے ان تیروں پر مشرکوں نے قسم قسم کی تصویریں بنا رکھی تھیں جن سے اپنی اپنی قسمت کا حال دریافت کیا کرتے تھے استقسام کے معنی کو متکلم کے صیغہ میں لے جاؤ تو کہیں گے قسمت اور قسوم مصدر ہے۔

Sahih BukhariHadith 4251

Narrated by Anas bin Malik

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا کَانَ لَنَا خَمْرٌ غَيْرُ فَضِيخِکُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ فَإِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَفُلَانًا وَفُلَانًا إِذْ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ وَهَلْ بَلَغَکُمْ الْخَبَرُ فَقَالُوا وَمَا ذَاکَ قَالَ حُرِّمَتْ الْخَمْرُ قَالُوا أَهْرِقْ هَذِهِ الْقِلَالَ يَا أَنَسُ قَالَ فَمَا سَأَلُوا عَنْهَا وَلَا رَاجَعُوهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ

یعقوب بن ابراہیم، ابن علیہ، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک دن میرے گھر میں سوائے کھجور کی شراب کے اور کوئی شراب نہیں تھی، میں طلحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے لوگوں کو فضیح (یعنی کھجور کی شراب) پلا رہا تھا کہ ایک شخص آئے اور کہنے لگے کہ کیا تم کو معلوم نہیں، پوچھا کیا؟ تو کہنے لگے کہ شراب حرام کردی گئی ہے، تو انہوں نے کہا اے انس! ان مٹکوں کو بہادو انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ پھر کسی نے کوئی بات نہیں پوچھی اور نہ اس بات کے خلاف کوئی کام کیا۔

Narrated Anas bin Malik: We had no alcoholic drink except that which was produced from dates and which you call Fadikh. While I was standing offering drinks to Abu Talh and so-and-so and so-and-so, a man cam and said, "Has the news reached you? They said, "What is that?" He said. "Alcoholic drinks have been prohibited. They said, "Spill (the contents of these pots, O Anas! "Then they neither asked about it (alcoholic drinks) nor returned it after the news from that man.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4252

Narrated by Jabir

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ قَالَ صَبَّحَ أُنَاسٌ غَدَاةَ أُحُدٍ الْخَمْرَ فَقُتِلُوا مِنْ يَوْمِهِمْ جَمِيعًا شُهَدَائَ وَذَلِکَ قَبْلَ تَحْرِيمِهَا

صدقہ بن فضل، ابن عیینہ، عمرو، حضرت جابر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے صبح کے وقت جنگ احد میں شراب پی پھر اب میدان میں مارے گئے یہ قصہ اس وقت پیش آیا جب کہ حرمت شراب کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔

Narrated Jabir: Some people drank alcoholic beverages in the morning (of the day) of the Uhud battle and on the same day they were killed as martyrs, and that was before wine was prohibited.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4253

Narrated by Ibn Umar

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی وَابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَی مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهْيَ مِنْ خَمْسَةٍ مِنْ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ

اسحاق بن ابراہیم الحنظلی، عیسیٰ وابن ادریس، ابن حیان، شعبی، حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت کے زمانہ میں منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تقریر کرتے ہوئے سنا کہ آپ کہہ رہے تھے کہ لوگوں! شراب کی حرمت نازل ہو چکی ہے اور یہ پانچ چیزوں سے تیار کی جاتی ہے انگور، گیہوں، کھجور، شہد اور جو، شراب کی خاصیت یہ ہے کہ عقل کو زائل کردیتی ہے۔

Narrated Ibn Umar: I heard 'Umar while he was on the pulpit of the Prophet saying, "Now then O people! The revelation about the prohibition of alcoholic drinks was revealed; and alcoholic drinks are extracted from five things: Grapes, dates, honey, wheat and barley. And the alcoholic drink is that which confuses and stupefies the mind."

Permalink