Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ يَکُنْ يَحْنَثُ فِي يَمِينٍ قَطُّ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّهُ کَفَّارَةَ الْيَمِينِ وَقَالَ لَا أَحْلِفُ عَلَی يَمِينٍ فَرَأَيْتُ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَکَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي
محمد بن مقاتل ابوالحسن، عبداللہ ، ہشام بن عروہ عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی قسم نہیں توڑتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے کفارہ یمین کی آیت نازل فرمائی اور انہوں نے کہا میں جس چیز کی بھی قسم کھاتا ہوں اور اس کے علاوہ میں خیر پاتا ہوں تو میں اسی چیز کو اختیار کرلیتا ہوں جو خیر ہوتی ہے اور میں اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔
Narrated 'Aisha: Abu Bakr As-Siddiq had never broken his oaths till Allah revealed the expiation for the oaths. Then he said, "If I take an oath to do something and later on I find something else better than the first one, then I do what is better and make expiation for my oath."
Narrated by 'Abdur-Rahman bin Samura
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ لَا تَسْأَلْ الْإِمَارَةَ فَإِنَّکَ إِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُکِلْتَ إِلَيْهَا وَإِنْ أُوتِيتَهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَی يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَکَفِّرْ عَنْ يَمِينِکَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
ابوالنعمان محمد بن فضل، جریر بن حازم، حسن عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ امارت طلب نہ کر اس لئے اگر تمہیں طلب کرنے کے بعد امارت دیدی گئی تو تم اس کے حوالے کردئیے جاؤ گے اور اگر بغیر مانگے تمہیں مل جائے تو تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھاو اور بھلائی اس کے علاوہ میں پاؤ تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو اور وہ چیز کرو جو اس سے بہتر ہے۔
Narrated 'Abdur-Rahman bin Samura: The Prophet said, "O 'Abdur-Rahman bin Samura! Do not seek to be a ruler, because if you are given authority for it, then you will be held responsible for it, but if you are given it without asking for it, then you will be helped in it (by Allah): and whenever you take an oath to do something and later you find that something else is better than the first, then do the better one and make expiation for your oath."
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُکُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَيْهِ قَالَ ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ نَلْبَثَ ثُمَّ أُتِيَ بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَی فَحَمَلَنَا عَلَيْهَا فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا أَوْ قَالَ بَعْضُنَا وَاللَّهِ لَا يُبَارَکُ لَنَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلَنَا فَارْجِعُوا بِنَا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُذَکِّرُهُ فَأَتَيْنَاهُ فَقَالَ مَا أَنَا حَمَلْتُکُمْ بَلْ اللَّهُ حَمَلَکُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَی يَمِينٍ فَأَرَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا کَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ أَوْ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَکَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي
ابوالنعمان، حماد بن زید، غیلان بن جریر، ابوبردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں میں نے نبی کی خدمت میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ آپ سے سواری مانگنے کو آیا تو آپ نے فرمایا بخدا میں تمہیں سواری نہیں دوں گا اور نہ میرے پاس کوئی چیز ہے جس پر میں تم کو سوار کروں، راوی کا بیان ہے کہ پھر ہم ٹھہرے جب تک اللہ نے چاہا کہ ہم ٹھہریں۔ پھر آپ کے پاس تین خوبصورت اونٹنیاں لائی گئیں ہم کو آپ نے اس پر سوار کیا جب ہم چلے تو ہم نے کہا یا ہم میں سے کسی نے کہا، کہ بخدا ہم کو برکت نہ ہوگی ہم نبی کی خدمت میں سواری مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھائی کہ ہمیں سواری نہ دیں گے، پھر ہم کو آپ نے سواری دے دی (تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ بھول گئے) اس لئے ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں سوار نہیں کیا ہے بلکہ اللہ نے تمہیں سوار کیا ہے اور بخدا میں جب بھی اللہ کی مشیت کے مطابق قسم کھاتا ہوں اور اس کے علاوہ میں بھلائی دیکھتا ہوں تو میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں اور جو بہتر ہے وہ کرلیتا ہوں، یا (یہ فرمایا کہ) میں وہ کرلیتا ہوں جو بہتر ہے، اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔
Narrated Abu Musa: I went to the Prophet along with a group of Al-Ash'ariyin in order to request him to provide us with mounts. He said, "By Allah, I will not provide you with mounts and I haven't got anything to mount you on." Then we stayed there as long as Allah wished us to stay, and then three very nice looking she-camels were brought to him and he made us ride them. When we left, we, or some of us, said, "By Allah, we will not be blessed, as we came to the Prophet asking him for mounts, and he swore that he would not give us any mounts but then he did give us. So let us go back to the Prophet and remind him (of his oath)." When we returned to him (and reminded him of the fact), he said, "I did not give you mounts, but it is Allah Who gave you. By Allah, Allah willing, if I ever take an oath to do something and then I find something else than the first, I will make expiation for my oath and do the thing which is better (or do something which is better and give the expiation for my oath)."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، ہمام بم منبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ ہم (ظہور کے اعتبار سے سب سے) آخر میں ہیں (لیکن) قیامت کے دن آگے ہوں گے۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "We (Muslims) are the last in the world, but will be foremost on the Day of Resurrection." Allah's Apostle also said, "By Allah, if anyone of you insists on fulfilling an oath by which he may harm his family, he commits a greater sin in Allah's sight than that of dissolving his oath and making expiation for it."
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَأَنْ يَلِجَّ أَحَدُکُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ کَفَّارَتَهُ الَّتِي افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِ
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ گھر والوں کے معاملہ میں تمہارا اپنی قسموں پر مصر رہنا زیادہ گناہ کی بات ہے بہ نسبت اس کے کفارہ ادا کردو جو اللہ تعالیٰ نے تم پر فرض کیا ہے۔
-
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ عَنْ يَحْيَی عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اسْتَلَجَّ فِي أَهْلِهِ بِيَمِينٍ فَهُوَ أَعْظَمُ إِثْمًا لِيَبَرَّ يَعْنِي الْکَفَّارَةَ
اسحاق بن ابراہیم، یحیی بن صالح، معاویہ، یحیی ، عکرمہ، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے گھر والوں کے معاملہ میں قسم پر مصر رہے تو وہ بہت گناہ گار ہے اس کو چاہیے کہ قسم کو پاک کرے یعنی کفارہ ادا کرے۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "Anyone who takes an oath through which his family may be harmed, and insists on keeping it, he surely commits a sin greater (than that of dissolving his oath). He should rather compensate for that oath by making expiation."