Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَسِيرُ فِي رَکْبٍ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ فَقَالَ أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِکُمْ مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ
عبداللہ بن مسلمہ مالک، نافع، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے اس وقت وہ گھوڑے پر سوار تھے، اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے، آپ نے فرمایا خبردار اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے منع فرماتا ہے کہ اپنے باپوں کی قسم کھاؤ جس شخص کو قسم کھانا ہے تو وہ اللہ کی قسم کھائے یا خاموش رہے۔
Narrated Ibn 'Umar: Allah's Apostle met 'Umar bin Al-Khattab while the latter was going with a group of camel-riders, and he was swearing by his father. The Prophet said, "Lo! Allah forbids you to swear by your fathers, so whoever has to take an oath, he should swear by Allah or keep quiet."
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَ سَالِمٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا قَالَ مُجَاهِدٌ أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ يَأْثُرُ عِلْمًا تَابَعَهُ عُقَيْلٌ وَالزُّبَيْدِيُّ وَإِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَمَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ
سعید بن عفیر، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ان کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپوں کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے۔ حضرت عمر کا بیان ہے کہ قسم ہے خدا کی جب سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے نہ قصدا اور نہ بھول کر میں نے (باپ کی) قسم کھائی، مجاہد نے کہا، اواثارہ من علم سے مراد یاثر علما ہے، عقیل وزبیدی اور اسحاق کلبی نے زہری سے اس کی متابعت میں روایت کی ہے، اور ابن عینیہ اور معمر نے بواسطہ سالم، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
Narrated Ibn 'Umar: Allah's Apostle met 'Umar bin Al-Khattab while the latter was going with a group of camel-riders, and he was swearing by his father. The Prophet said, "Lo! Allah forbids you to swear by your fathers, so whoever has to take an oath, he should swear by Allah or keep quiet."
Narrated by 'Abdullah bin 'Umar
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِکُمْ
موسی بن اسماعیل ، عبدالعزیز بن مسلم ، عبداللہ بن دینار، عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے باپوں کی قسم نہ کھایا کرو
Narrated 'Abdullah bin 'Umar: Allah's Apostle said, "Do not swear by your fathers."
Narrated by Zahdam
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ قَالَ کَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَائٌ فَکُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ کَأَنَّهُ مِنْ الْمَوَالِي فَدَعَاهُ إِلَی الطَّعَامِ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْکُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا آکُلَهُ فَقَالَ قُمْ فَلَأُحَدِّثَنَّکَ عَنْ ذَاکَ إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُکُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَيْهِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ فَسَأَلَ عَنَّا فَقَالَ أَيْنَ النَّفَرُ الْأَشْعَرِيُّونَ فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَی فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا مَا صَنَعْنَا حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْمِلُنَا وَمَا عِنْدَهُ مَا يَحْمِلُنَا ثُمَّ حَمَلَنَا تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ وَاللَّهِ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّا أَتَيْنَاکَ لِتَحْمِلَنَا فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا وَمَا عِنْدَکَ مَا تَحْمِلُنَا فَقَالَ إِنِّي لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُکُمْ وَلَکِنَّ اللَّهَ حَمَلَکُمْ وَاللَّهِ لَا أَحْلِفُ عَلَی يَمِينٍ فَأَرَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا
قتیبہ، عبدالوہاب، ایوب، ابوقلابہ، قاسم تمیمی، زہدم سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جرم اور اشعریوں کے قبیلوں کے درمیان بھائی چارہ اور دوستی تھی ہم ابوموسی اشعری کے پاس تھے کہ ان کے پاس کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا، بنی تمیم کا ایک شخص انکے پاس تھا جس کا رنگ سرخ تھا اس کو کھانے پر بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے اس کو نجاست کھاتے ہوئے دیکھا ہے تو میری طبیعت متنفر ہوگئی میں نے قسم کھائی کہ مرغی نہیں کھاؤں گا، انہوں نے کہا کہ اٹھ میں تجھ سے اس کی بابت حدیث بیان کروں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چند اشعریوں کے ساتھ سواری مانگنے کے لئے آیا آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں تمہیں سوار نہیں کروں گا، اور نہ میرے پاس کوئی چیز ہے جس پر میں تم کو سوار کروں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مال غنیمت کے اونٹ آئے آپ نے ہمارے متعلق دریافت فرمایا کہ اشعری کہاں ہیں؟ اور ہمارے لئے پانچ اچھی اونٹنیوں کے دینے کا حکم دیا، جب ہم چلے تو ہم نے کہا کہ ہم نے یہ کیا کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ ہم سواری نہیں دیں گے اور نہ ان کے پاس کوئی سواری ہے، جس پر ہمیں سوار کریں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو سواری عنایت کی شاید ہم قسم بھول گئے، خدا کی قسم اس صورت میں ہم لوگ فلاح نہیں پائیں گے ہم لوگ آپ کے پاس واپس لوٹے تو ہم لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس سواری کی غرض سے آئے تھے، آپ نے قسم کھائی کہ ہم لوگوں کو سواری نہیں دیں گے، اور نہ آپ کے پاس کوئی چیز ہے جس پر آپ سوار کریں، آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں سوار نہیں کیا لیکن اللہ نے تمہیں سوار کیا، بخدا میں کسی بات پر قسم کھاتا ہوں اور اس کے سوا دوسری بات میں بھلائی ہو تو میں اس صورت کو اختیار کرتا ہوں جو بہتر ہے اور میں قسم توڑ دیتا ہوں۔
Narrated Zahdam: There was a relation of love and brotherhood between this tribe of Jarm and Al-Ash'ariyin. Once we were with Abu Musa Al-Ash'ari, and then a meal containing chicken was brought to Abu Musa, and there was present, a man from the tribe of Taimillah who was of red complexion as if he were from non-Arab freed slaves. Abu Musa invited him to the meal. He said, "I have seen chickens eating dirty things, so I deemed it filthy and took an oath that I would never eat chicken." On that, Abu Musa said, "Get up, I will narrate to you about that. Once a group of the Ash'ariyin and I went to Allah's Apostle and asked him to provide us with mounts; he said, 'By Allah, I will never give you any mounts nor do I have anything to mount you on.' Then a few camels of war booty were brought to Allah's Apostle , and he asked about us, saying, 'Where are the Ash-'ariyin?' He then ordered five nice camels to be given to us, and when we had departed, we said, 'What have we done? Allah's Apostle had taken the oath not to give us any mounts, and that he had nothing to mount us on, and later he gave us that we might ride? Did we take advantage of the fact that Allah's Apostle had forgotten his oath? By Allah, we will never succeed.' So we went back to him and said to him, 'We came to you to give us mounts, and you took an oath that you would not give us any mounts and that you had nothing to mount us on.' On that he said, 'I did not provide you with mounts, but Allah did. By Allah, if I take an oath to do something, and then find something else better than it, I do that which is better and make expiation for the dissolution of the oath.' "