TrueHadith

ظہر کا وقت زوال کے (بعد ہوجاتا ہے)، جابر کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھیک دوپہر کو نماز پڑھتے تھے

Sahih BukhariHadith 507

Narrated by Anas bin Malik

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّی الظُّهْرَ فَقَامَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَذَکَرَ السَّاعَةَ فَذَکَرَ أَنَّ فِيهَا أُمُورًا عِظَامًا ثُمَّ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَ عَنْ شَيْئٍ فَلْيَسْأَلْ فَلَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْئٍ إِلَّا أَخْبَرْتُکُمْ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا فَأَکْثَرَ النَّاسُ فِي الْبُکَائِ وَأَکْثَرَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ السَّهْمِيُّ فَقَالَ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوکَ حُذَافَةُ ثُمَّ أَکْثَرَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي فَبَرَکَ عُمَرُ عَلَی رُکْبَتَيْهِ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا فَسَکَتَ ثُمَّ قَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ فَلَمْ أَرَ کَالْخَيْرِ وَالشَّرِّ

ابوالیمان، شعیب، زہری، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آفتاب ڈھل گیا، باہر تشریف لائے اور آپ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر آپ منبر پر تشریف لائے اور آپ نے قیامت کا ذکر شروع کیا، فرمایا کہ اس میں بڑے بڑے حوادث ہوں گے، اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جو شخص کچھ پوچھنا چاہے وہ پوچھ لے، جب تک کہ اپنے اس معلم میں ہوں، جو شخص مجھ سے کچھ پوچھنا چاہے گا، میں اسے بتاؤں گا، تو لوگوں نے کثرت سے رونا شروع کر دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قول کی کثرت کی فرمایا! کہ سلونی! پھر عبداللہ بن حذافہ کھڑے ہو گئے، انہوں نے پوچھا کہ میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تمہارا باب حذافہ ہے، آپ پھر بار بار یہ فرمانے لگے کہ سلونی! تب عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے، اور عرض کیا کہ ہم اللہ سے راضی ہیں، جو (ہمارا) پروردگار ہے، اور اسلام سے، جو (ہمارا) دین ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جو (ہمارے) نبی ہیں، اس وقت آپ ساکت ہو گئے، اس کے بعد فرمایا کہ جنت اور دوزخ میرے سامنے ابھی اس دیوار کے گوشے میں پیش کی گئی ہے، ایسی عمدہ چیز(جیسی جنت ہے) اور ایسی بری چیز(جیسی دوزخ ہے) کبھی نہیں دیکھنے میں آئی۔

Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle came out as the sun declined at mid-day and offered the Zuhr prayer. He then stood on the pulpit and spoke about the Hour (Day of Judgment) and said that in it there would be tremendous things. He then said, "Whoever likes to ask me about anything he can do so and I shall reply as long as I am at this place of mine. Most of the people wept and the Prophet said repeatedly, "Ask me." Abdullah bin Hudhafa As-Sahmi stood up and said, "Who is my father?" The Prophet said, "Your father is Hudhafa." The Prophet repeatedly said, "Ask me." Then Umar knelt before him and said, "We are pleased with Allah as our Lord, Islam as our religion, and Muhammad as our Prophet." The Prophet then became quiet and said, "Paradise and Hell-fire were displayed in front of me on this wall just now and I have never seen a better thing (than the former) and a worse thing (than the latter)."

Permalink

Sahih BukhariHadith 508

Narrated by Abu Al-Minhal

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصُّبْحَ وَأَحَدُنَا يَعْرِفُ جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ فِيهَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَی الْمِائَةِ وَيُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ وَأَحَدُنَا يَذْهَبُ إِلَی أَقْصَی الْمَدِينَةِ رَجَعَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ وَلَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَائِ إِلَی ثُلُثِ اللَّيْلِ ثُمَّ قَالَ إِلَی شَطْرِ اللَّيْلِ وَقَالَ مُعَاذٌ قَالَ شُعْبَةُ لَقِيتُهُ مَرَّةً فَقَالَ أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ

حفص بن عمر، شعبہ، ابومنہال، ابوبرزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز ایسے وقت پڑھاتے تھے، کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے پاس بیٹھنے والے کو پہچان لیتا تھا، اس میں ساٹھ سے سو آیتوں کے درمیان میں قرآت کرتے تھے، ظہر کی نماز جب آفتاب ڈھل جاتا تھا، پڑھاتے تھے، اور عصر کی (نماز) ایسے وقت کہ ہم میں سے کوئی مدینہ کے کنارہ تک جا کر لوٹ آئے، اور آفتاب متغیر نہ ہو، ابومنہال کہتے ہیں اور مغرب کے بارے میں جو کچھ ابوہریرہ نے کہا تھا، میں بھول گیا، اور عشاء کی تاخیر میں تہائی رات تک آپ کچھ پرواہ نہ کرتے تھے، اس کے بعد ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ نصف شب تک، اور معاذ کہتے ہیں کہ شعبہ نے بیان کیا کہ اس کے بعد ایک مرتبہ میں نے ابومنہال سے ملاقات کی، تو انہوں نے کہا یا تہائی شب تک۔

Narrated Abu Al-Minhal: Abu Barza said, "The Prophet used to offer the Fajr (prayer) when one could recognize the person sitting by him (after the prayer) and he used to recite between 60 to 100 Ayat (verses) of the Qur'an. He used to offer the Zuhr prayer as soon as the sun declined (at noon) and the 'Asr at a time when a man might go and return from the farthest place in Medina and find the sun still hot. (The sub-narrator forgot what was said about the Maghrib). He did not mind delaying the 'Isha prayer to one third of the night or the middle of the night."

Permalink

Sahih BukhariHadith 509

Narrated by Anas bin Malik

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنَ مُقَاتِلٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظَّهَائِرِ فَسَجَدْنَا عَلَی ثِيَابِنَا اتِّقَائَ الْحَرِّ

محمد بن مقاتل، عبداللہ ، خالد بن عبدالرحمن، غالب قطان، بکر بن عبداللہ مزنی، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے، تو گرمی (کی تکلیف) سے بچنے کے لئے اپنے کپڑوں پر سجدہ کیا کرتے تھے۔

Narrated Anas bin Malik: When we offered the Zuhr prayers behind Allah's Apostle we used to prostrate on our clothes to protect ourselves from the heat.

Permalink