Sahih Bukhari — Hadith 6821
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا الْأُوَيْسِيُّ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ وَابْنُ الْمُسَيَّبِ وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْکِ مَا قَالُوا قَالَتْ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ يَسْأَلُهُمَا وَهُوَ يَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ فَأَمَّا أُسَامَةُ فَأَشَارَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَائَةِ أَهْلِهِ وَأَمَّا عَلِيٌّ فَقَالَ لَمْ يُضَيِّقْ اللَّهُ عَلَيْکَ وَالنِّسَائُ سِوَاهَا کَثِيرٌ وَسَلْ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْکَ فَقَالَ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَيْئٍ يَرِيبُکِ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ أَمْرًا أَکْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْکُلُهُ فَقَامَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَی أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا فَذَکَرَ بَرَائَةَ عَائِشَةَ وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ
اویسی ابراہیم، صالح، ابن شہاب، عروہ بن مسیب، و علقمہ بن وقاص، و عبیداللہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں جب بہتان باندھنے والوں نے ان کے متعلق کہا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید کو بلا بھیجا، جب کہ وحی اترنے میں دیر ہوئی تاکہ ان دونوں سے پوچھیں، آپ نے ان دونوں سے اپنی بیوی کو جدا کرنے کے متعلق مشورہ لینے لگے، حضرت اسامہ نے تو جس بنا پر وہ جانتے تھے، ان کی بیوی کی پاک دامنی کا مشورہ دیا لیکن حضرت علی نے کہا کہ اللہ نے آپ پر تنگی نہیں کی ان کے علاوہ بہت سی عورتیں ہیں، آپ لونڈی سے دریافت کر لیں، وہ آپ سے سچ سچ بیان کر دے گی، آپ نے فرمایا کیا تو نے کوئی ایسی بات دیکھی جو تجھے شبہ میں ڈالے، اس نے کہا کہ میں نے اس سے زیادہ نہیں دیکھا وہ کمسن ہے اپنے گھر کا آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں، بکری آ کر کھا جاتی ہے، آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اے مسلمانو!، کون ایسا ہے جو اس شخص کو سزا دے کر میری مدد کرے، جس نے مجھے میری بیوی کے متعلق تکلیف دی، بخدا میں اپنی بیوی کے متعلق سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں جانتا، پھر آپ نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی برات بیان فرمائی اور ابواسامہ نے ہشام سے نقل کیا۔
Narrated 'Aisha: After the slanderers had given a forged statement against her, Allah's Apostle called 'Ali bin Abi Talib and Usama bin Zaid when the Divine Inspiration was delayed. He wanted to ask them and consult them about the question of divorcing me. Usama gave his evidence that was based on what he knew about my innocence, but 'Ali said, "Allah has not put restrictions on you and there are many women other than her. Furthermore you may ask the slave girl who will tell you the truth." So the Prophet asked Barira (my salve girl), "Have you seen anything that may arouse your suspicion?" She replied, "I have not seen anything more than that she is a little girl who sleeps, leaving the dough of her family (unguarded) that the domestic goats come and eat it." Then the Prophet stood on the pulpit and said, "O Muslims! Who will help me against the man who has harmed me by slandering my wife? By Allah, I know nothing about my family except good." The narrator added: Then the Prophet mentioned the innocence of 'Aisha. (See Hadith No. 274, Vol. 6)