TrueHadith

بازو کا گوشت چھڑا کر کھانے کا بیان

Sahih BukhariHadith 4986

Narrated by Abu Qatada

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ مَكَّةَ

محمد بن مثنیٰ، عثمان بن عمر، فلیج، ابوحازم مدنی، عبداللہ بن ابی قتادہ، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوئے

Narrated Abu Qatada: We went out towards Mecca with the Prophet. Narrated Abu Qatada: Once, while I was sitting with the companions of the Prophet at a station on the road to Mecca and Allah's Apostle was stationing ahead of us and all the people were assuming Ihram while I was not. My companion, saw an onager while I was busy Mending my shoes. They did not Inform me of the onager but they wished that I would see it Suddenly I looked and saw the onager Then I headed towards my horse, saddled it and rode, but I forgot to take the lash and the spear. So I said to them my companions), "Give me the lash and the spear." But they said, "No, by Allah we will not help you in any way to hunt it ' I got angry, dismounted, took it the spear and the lash), rode (the horse chased the onager and wounded it Then I brought it when it had dyed. My companions started eating of its (cooked) meat, but they suspected that it might be unlawful to eat of its meat while they were in a state of Ihram Then I proceeded further and I kept one of its forelegs with me. When we met Allah's Apostle we asked him about that. He said, "Have you some of its meat with you?" I gave him that foreleg and he ate the meat till he stripped the bone of its flesh although he was in a state of Ihram.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4987

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ السَّلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ يَوْمًا جَالِسًا مَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلٍ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلٌ أَمَامَنَا وَالْقَوْمُ مُحْرِمُونَ وَأَنَا غَيْرُ مُحْرِمٍ فَأَبْصَرُوا حِمَارًا وَحْشِيًّا وَأَنَا مَشْغُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِي فَلَمْ يُؤْذِنُونِي لَهُ وَأَحَبُّوا لَوْ أَنِّي أَبْصَرْتُهُ فَالْتَفَتُّ فَأَبْصَرْتُهُ فَقُمْتُ إِلَى الْفَرَسِ فَأَسْرَجْتُهُ ثُمَّ رَكِبْتُ وَنَسِيتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ فَقُلْتُ لَهُمْ نَاوِلُونِي السَّوْطَ وَالرُّمْحَ فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ فَغَضِبْتُ فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُمَا ثُمَّ رَكِبْتُ فَشَدَدْتُ عَلَى الْحِمَارِ فَعَقَرْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ وَقَدْ مَاتَ فَوَقَعُوا فِيهِ يَأْكُلُونَهُ ثُمَّ إِنَّهُمْ شَكُّوا فِي أَكْلِهِمْ إِيَّاهُ وَهُمْ حُرُمٌ فَرُحْنَا وَخَبَأْتُ الْعَضُدَ مَعِي فَأَدْرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَنَاوَلْتُهُ الْعَضُدَ فَأَكَلَهَا حَتَّى تَعَرَّقَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ مِثْلَهُ

عبدالعزیز بن عبداللہ ، محمد بن جعفر، ابوحازم ، عبداللہ بن ابی قتادہ سلمی اپنے والد سے کہتے ہیں کہ میں ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کے ساتھ بیٹھا تھا جب کہ ہم مکہ کی طرف جا رہے تھے اور ایک منزل میں ٹھہرے ہوئے تھے تمام لوگ حالت احرام میں تھے لیکن میں حالت احرام میں نہیں تھا، لوگوں نے ایک گورخر کو دیکھا اس وقت میں اپنے جوتے کے ٹانکنے میں مصروف تھا ان لوگوں نے مجھے خبر نہیں دی لیکن چاہتے تھے کہ کاش! میں اسے دیکھ لیتا، میں نے نگاہ پھیری تو میں نے اس کو دیکھ لیا میں گھوڑے کی طرف گیا اس پر زین کسا پھر میں اس پر سوار ہو گیا لیکن نیزہ اور کوڑا لینا بھول گیا، میں نے لوگوں سے کہا مجھے کوڑا اور نیزہ دے دوں لوگوں نے جواب دیا کہ نہیں، خدا کی قسم! ہم تمہاری کچھ بھی مدد نہیں کریں گے، مجھے غصہ آ گیا اور میں نے گھوڑے سے اتر کر دونوں چیزیں لے لیں پھر میں سوار ہوا اور اس پر حملہ کرکے اس کو مار ڈالا بعد جب کہ وہ مردہ ہوچکا تھا لے کر آیا لوگ اس کے کھانے میں مشغول ہوگئے، پھر ان لوگوں کو حالت احرام میں کھانے کے متعلق شک ہوا اس کے بعد ہم روانہ ہوئے اور ایک شانہ میں نے چھپا کر رکھ لیا جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا، آپ نے فرمایا تمہارے پاس کچھ اس کا بچا ہوا بھی ہے، میں نے وہ بازو آپ کو دے دیا اس کا گوشت آپ نے دانتوں سے چھڑا کر کھایا حالانکہ آپ احرام کی حالت میں تھے، محمد بن جعفر اور زید بن اسلم نے بواسطہ عطاء بن یسار ابوقتادہ اسی طرح حدیث بیان کی ہے۔

-

Permalink