TrueHadith

اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تمہیں جو رزق حلال دیاہے، اس میں سے کھاؤ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پاک چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک کام کرو، میں تمہارے کاموں کو جاننے والا ہوں

Sahih BukhariHadith 4954

Narrated by Abu Musa Al-Ash'ari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَعُودُوا الْمَرِيضَ وَفُکُّوا الْعَانِيَ قَالَ سُفْيَانُ وَالْعَانِي الْأَسِيرُ

محمد بن کثیر، سفیان، منصور، ابووائل، حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بھوکوں کو کھانا کھلاؤ اور مریضوں کی عیادت کرو اور قیدیوں کو چھڑاؤ سفیان نے کہا کہ عانی کے معانی قید کے ہیں۔

Narrated Abu Musa Al-Ash'ari: The Prophet said, "Give food to the hungry, pay a visit to the sick and release (set free) the one in captivity (by paying his ransom)."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4955

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَعَامٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّی قُبِضَ

یوسف بن عیسیٰ، محمد بن فضیل، فضیل، ابوحازم ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے گھر والوں نے تین دن بھی آسودہ ہو کر کھانا نہیں کھایا یہاں تک آپکی وفات ہو گئ۔

Narrated Abu Huraira: The family of Muhammad did not eat their fill for three successive days till he died. Narrated Abu Huraira: Once while I was in a state of fatigue (because of severe hunger), I met 'Umar bin Al-Khattab, so I asked him to recite a verse from Allah's Book to me. He entered his house and interpreted it to me. (Then I went out and) after walking for a short distance, I fell on my face because of fatigue and severe hunger. Suddenly I saw Allah's Apostle standing by my head. He said, "O Abu Huraira!" I replied, "Labbaik, O Allah's Apostle, and Sadaik!" Then he held me by the hand, and made me get up. Then he came to know what I was suffering from. He took me to his house, and ordered a big bowl of milk for me. I drank thereof and he said, "Drink more, O Abu Hirr!" So I drank again, whereupon he again said, "Drink more." So I drank more till my belly became full and looked like a bowl. Afterwards I met 'Umar and mentioned to him what had happened to me, and said to him, "Somebody, who had more right than you, O 'Umar, took over the case. By Allah, I asked you to recite a Verse to me while I knew it better than you." On that Umar said to me, "By Allah, if I admitted and entertained you, it would have been dearer to me than having nice red camels.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4956

وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَصَابَنِي جَهْدٌ شَدِيدٌ فَلَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَاسْتَقْرَأْتُهُ آيَةً مِنْ کِتَابِ اللَّهِ فَدَخَلَ دَارَهُ وَفَتَحَهَا عَلَيَّ فَمَشَيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ فَخَرَرْتُ لِوَجْهِي مِنْ الْجَهْدِ وَالْجُوعِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَی رَأْسِي فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي وَعَرَفَ الَّذِي بِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَی رَحْلِهِ فَأَمَرَ لِي بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ عُدْ يَا أَبَا هِرٍّ فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ ثُمَّ قَالَ عُدْ فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ حَتَّی اسْتَوَی بَطْنِي فَصَارَ کَالْقِدْحِ قَالَ فَلَقِيتُ عُمَرَ وَذَکَرْتُ لَهُ الَّذِي کَانَ مِنْ أَمْرِي وَقُلْتُ لَهُ فَوَلَّی اللَّهُ ذَلِکَ مَنْ کَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْکَ يَا عُمَرُ وَاللَّهِ لَقَدْ اسْتَقْرَأْتُکَ الْآيَةَ وَلَأَنَا أَقْرَأُ لَهَا مِنْکَ قَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَأَنْ أَکُونَ أَدْخَلْتُکَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَکُونَ لِي مِثْلُ حُمْرِ النَّعَمِ

ابوحازم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے سخت بھوک لگی، میں حضرت عمر بن خطاب کے پاس گیا اور قرآن کی آیتیں سنانے کی خواہش ظاہر کی، وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور میرے لئے دروازرہ کھولا، میں تھوڑی دور چلا تھا کہ اپنے منہ کے بل بھوک کی وجہ سے گر پڑا، دیکھا تو میرے سر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ! میں نے کہا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ! آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھڑا کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری حالت پہچان لی، چنانچہ مجھے اپنے گھر لے گئے، اور مجھے ایک پیالہ دودھ پینے کا حکم دیا، میں نے اس میں سے پی لیا، پھر فرمایا اور پیو اے ابوہریرہ! میں نے دوبارہ پیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اور پی لو، چنانچہ میں نے پی لیا، یہاں تک کہ میرا پیٹ پیالہ کی طرح ہوگیا، پھر میں عمر سے ملا اور ان سے اپنی حالت بیان کی اور میں نے کہا اے عمر اللہ نے اس کام کا اسے مالک بنا دیا جو اس کا زیادہ مستحق تھا، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بھوک کی تکلیف دور کی، بخدا میں نے تم سے آیت پڑھنے کو کہا تھا، حالانکہ میں تم سے زیادہ ان آیتوں کا پڑھنے والا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں (سمجھا نہیں تھا ورنہ) بخدا تمہیں اپنے گھر میں داخل کرنا (مہمان بنانا) مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میرے پاس سرخ اونٹ ہوں۔

-

Permalink