Narrated by Urwa bin Az-Zubair
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ لِي يَا حَکِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِکَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَکْ لَهُ فِيهِ وَکَانَ کَالَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی قَالَ حَکِيمٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَکَ شَيْئًا حَتَّی أُفَارِقَ الدُّنْيَا فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ يَدْعُو حَکِيمًا لِيُعْطِيَهُ الْعَطَائَ فَيَأْبَی أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ فَأَبَی أَنْ يَقْبَلَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ الَّذِي قَسَمَ اللَّهُ لَهُ مِنْ هَذَا الْفَيْئِ فَيَأْبَی أَنْ يَأْخُذَهُ فَلَمْ يَرْزَأْ حَکِيمٌ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ شَيْئًا بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی تُوُفِّيَ
محمد اوزاعی سعید بن مسیب و عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے کچھ طلب کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عنایت فرمایا اور پھر دوسری مرتبہ مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دے کر فرمایا کہ اے حکیم یہ مال سر سبز اور میٹھا ہے جو اس کو لالچ کے بغیر لے گا تو اس کے مال میں برکت ہوگی اور جو کوئی اس کو اپنے نفس و خواہش کی سیرابی کے لیے حاصل کرے گا تو اس کے مال میں کسی قسم کی کوئی برکت نہ ہوگی اور اس کی مثال ایسی ہوگی جو کھائے گا شکم سیر نہیں ہوگا اور (سنو) دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے زیادہ اچھا ہے اور میں (حکیم بن حزام) نے عرض کیا یا رسول اللہ! قسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں آپ کے بعد دنیا سے روانہ ہونے تک کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کروں گا حضرت ابوبکر صدیق اپنی خلافت کے زمانہ میں حکیم بن حزام کو بلاتے رہے تاکہ ان کی پنشن مقرر کردیں مگر وہ اس کے لینے سے انکار کرتے رہے پھر حضرت عمر فاروق نے اپنی خلافت کے زمانہ میں آپ کو رقم دینے کے لئے طلب کیا مگر آپ نے ان کے سامنے جانے سے بھی انکار کیا تو فاروق اعظم نے مسلمانوں کے مجمع میں کہا کہ اے مسلمانو! حکیم بن حزام کو ان کا وہ حق جو فئے میں سے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقرر کردیا ہے ان کو دینا چاہ رہا ہوں لیکن وہ اس کے لینے سے انکار کر رہے ہیں اور حکیم بن حزام نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد کبھی بھی اپنی زندگی کی آخری سانس تک کسی سے کوئی چیز طلب نہیں کی۔
Narrated Urwa bin Az-Zubair: Hakim bin Hizam said, "I asked Allah's Apostle for something, and he gave me. I asked him again, and he gave me, and said to me. 'O Hakim! This wealth is like green sweet (i.e. fruit), and if one takes it without greed, then one is blessed in it, and if one takes it with greediness, then one is not blessed in it, and will be like the one who eats without satisfaction. And an upper (i.e. giving) hand is better than a lower (i.e. taking) hand,' I said, 'O Allah's Apostle! By Him Who has sent you with the Truth. I will not ask anyone for anything after you till I leave this world." So, when Abu Bakr during his Caliphate, called Hakim to give him (some money), Hakim refused to accept anything from him. Once 'Umar called him (during his Caliphate) in order to give him something, but Hakim refused to accept it, whereupon 'Umar said, "O Muslims! I give him (i.e. Haklm) his right which Allah has assigned to him) from this Fai '(booty), but he refuses to take it." So Haklm never took anything from anybody after the Prophet till he died.
Narrated by Nafi
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ کَانَ عَلَيَّ اعْتِکَافُ يَوْمٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَفِيَ بِهِ قَالَ وَأَصَابَ عُمَرُ جَارِيَتَيْنِ مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ فَوَضَعَهُمَا فِي بَعْضِ بُيُوتِ مَکَّةَ قَالَ فَمَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی سَبْيِ حُنَيْنٍ فَجَعَلُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّکَکِ فَقَالَ عُمَرُ يَا عَبْدَ اللَّهِ انْظُرْ مَا هَذَا فَقَالَ مَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّبْيِ قَالَ اذْهَبْ فَأَرْسِلْ الْجَارِيَتَيْنِ قَالَ نَافِعٌ وَلَمْ يَعْتَمِرْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجِعْرَانَةِ وَلَوْ اعْتَمَرَ لَمْ يَخْفَ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ وَزَادَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مِنْ الْخُمُسِ وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ فِي النَّذْرِ وَلَمْ يَقُلْ يَوْمٍ
ابو نعمان حماد ایوب نافع سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! زمانہ جاہلیت کا میرے ذمہ ایک دن کا اعتکاف باقی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پورا کرنے کا حکم دیا نافع کا بیان ہے کہ حضرت فاروق اعظم کے حصہ میں حنین کے قیدیوں میں سے دو لونڈیاں آئی تھیں جن کو انہوں نے مکہ معظمہ میں کسی کے پاس چھوڑ دیا تھا۔ نافع کہتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کے قیدیوں پر جب احسان کیا تو لوگ گلیوں میں دوڑنے لگے جس پر حضرت فاروق اعظم نے اپنے فرزند حضرت عبداللہ سے کہا کہ دیکھو! یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیدیوں پر احسان کر کے ان کو آزاد کردیا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ جاؤ تم بھی ان دونوں لونڈیوں کو آزاد کردو نافع کا بیان ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام جعرانہ سے عمرہ نہیں کیا اور اگر آپ عمرہ کرتے تو یہ امر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مخفی نہ رہتا جریر بن حازم نے ایوب نافع اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعہ یہ اضافہ کیا ہے کہ خمس میں سے اور معمر نے ایوب نافع اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وسیلہ سے یہ بیان کیا ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نذریں پوری کرنے کے بارے میں لفظ یوم نہیں فرمایا ہے۔
Narrated Nafi: 'Umar bin Al-Khattab said, "O Allah's Apostle! I vowed to observe Itikaf for one day during the Pre-lslamic period." The Prophet ordered him to fulfill his vow. 'Umar gained two lady captives from the war prisoners of Hunain and he left them in some of the houses at Mecca. When Allah's Apostle freed the captives of Hunain without ransom, they came out walking in the streets. 'Umar said (to his son), "O Abdullah! See what is the matter." 'Abdullah replied, "Allah's Apostle has freed the captives without ransom." He said (to him), "Go and set free those two slave girls." (Nafi added:) Allah's Apostle did not perform the 'Umra from Al-Jarana, and if he had performed the 'Umra, it would not have been hidden from 'Abdullah.
Narrated by 'Amr bin Taghlib
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا وَمَنَعَ آخَرِينَ فَکَأَنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَيْهِ فَقَالَ إِنِّي أُعْطِي قَوْمًا أَخَافُ ظَلَعَهُمْ وَجَزَعَهُمْ وَأَکِلُ أَقْوَامًا إِلَی مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنْ الْخَيْرِ وَالْغِنَی مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِکَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ وَزَادَ أَبُو عَاصِمٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَالٍ أَوْ بِسَبْيٍ فَقَسَمَهُ بِهَذَا
موسی جریر حسن عمرو بن تغلب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض لوگوں کو دیا اور بعض کو نہیں دیا اور جن کو نہیں دیا تھا تو وہ خشمگین ہو گئے تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں بعض لوگوں کو ان کی کج روی اور بے صبری کی وجہ سے دے دیتا ہوں اور بعض لوگوں کو انکی اس نیکی اور استغناء نفس پر چھوڑ دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رکھ چھوڑی ہے اور انہی لوگوں میں سے عمر بن تغلب بھی ہیں اور عمر بن تغلب کہتے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے عوض یہ مناسب نہیں سمجھتا ہوں کہ مجھے سرخ اونٹ ملیں (اور مجھے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول بہت کافی ہے) ابوعاصم نے جریر حسن کے تو سط سے بیان کیا ہے کہ عمرو بن تغلب کہتے تھے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مال و زر اور قیدی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پہلے کی طرح بانٹ دیا۔
Narrated 'Amr bin Taghlib: Allah's Apostle gave (gifts) to some people to the exclusion of some others. The latter seemed to be displeased by that. The Prophet said, "I give to some people, lest they should deviate from True Faith or lose patience, while I refer other people to the goodness and contentment which Allah has put in their hearts, and 'Amr bin Taghlib is amongst them." 'Amr bin Taghlib said, "The statement of Allah's Apostle is dearer to me than red camels." Narrated Al-Hasan: 'Amr bin Taghlib told us that Allah's Apostle got some property or some war prisoners and he distributed them in the above way (i.e. giving to some people to the exclusion of others) .
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُعْطِي قُرَيْشًا أَتَأَلَّفُهُمْ لِأَنَّهُمْ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ
ابو الولید شعبہ قتادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں قریش کو ان کے دل اسلام پر مائل ہونے کے لئے دیتا کیونکہ یہ زمانہ جاہلیت سے زیادہ قریب ہیں۔
Narrated Anas: The Prophet said, "I give to Quraish people in order to let them adhere to Islam, for they are near to their life of Ignorance (i.e. they have newly embraced Islam and it is still not strong in their hearts."
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَائَ فَطَفِقَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنْ الْإِبِلِ فَقَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ قَالَ أَنَسٌ فَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ فَأَرْسَلَ إِلَی الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ أَحَدًا غَيْرَهُمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَائَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا کَانَ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْکُمْ قَالَ لَهُ فُقَهَاؤُهُمْ أَمَّا ذَوُو آرَائِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ فَقَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُکُ الْأَنْصَارَ وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِکُفْرٍ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُوا إِلَی رِحَالِکُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللَّهِ مَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ قَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا فَقَالَ لَهُمْ إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْحَوْضِ قَالَ أَنَسٌ فَلَمْ نَصْبِرْ
ابو الیمان شعیب زہری حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بعض انصاریوں نے کہا اللہ نے اپنے رسول کو بنو ہوازن کا مال و زر مفت میں اپنی مشیت کے موافق دے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش کے بعض لوگوں کو سو سو اونٹ دینے لگے بعض انصاری کہنے لگے اللہ اپنے رسول کو معاف کرے آپ قریش کو تو دیتے ہیں اور ہم کو ٹال جاتے ہیں حالانکہ ہماری تلواروں سے کافروں کا خون ٹپک رہا ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ انصاریوں کی یہ باتیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہی گئیں تو آپ نے انہیں بلوا کر چمڑے کے ایک خیمہ میں جمع کیا اور ان کے علاوہ کسی دوسرے کو طلب نہیں فرمایا جب وہ انصار اس خیمہ میں اکٹھے ہو گئے تو آپ نے ان کے پاس تشریف لا کر ارشاد فرمایا کہ یہ کیسی بات ہے جو مجھ کو تمہاری طرف سے معلوم ہوئی ہے! تو ان میں سے بعض سمجھ دار لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم میں جو سمجھ دار لوگ ہیں انہوں نے تو کچھ بھی نہیں کہا ہے لیکن بعض کم عمر لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو معاف کرے قریش کو دیتے ہیں اور انصار کو نہیں دیتے حالانکہ ہماری تلواریں خون ٹپکا رہی ہیں جس پر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے ایسے لوگوں کو دیا جن کا زمانہ تاحال کفر سے نزدیک ہے کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ یہ لوگ تو مال و دولت لے جائیں اور تم اپنے گھروں کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساتھ لے کر لوٹو اور اللہ کی قسم! جس چیز کو تم لئے جا رہے ہو وہ اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وہ لوگ لے کر جاتے ہیں تب انصار نے کہا یا رسول اللہ! ہم اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ (کہ اللہ اور اس کا رسول ہم کو مل جائے) اس کے بعد سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ میرے بعد عنقریب اپنے اوپر لوگوں کو ترجیح پاتا ہوا دیکھو گے اس وقت صبر کرنا کیونکہ حوض کوثر پر تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرو گے حضرت انس کا بیان ہے کہ ہم نے صبر نہیں کیا۔
Narrated Anas bin Malik: When Allah favored His Apostle with the properties of Hawazin tribe as Fai (booty), he started giving to some Quarries men even up to one-hundred camels each, whereupon some Ansari men said about Allah's Apostle, "May Allah forgive His Apostle! He is giving to (men of) Quraish and leaves us, in spite of the fact that our swords are still dropping blood (of the infidels)" When Allah's Apostle was informed of what they had said, he called the Ansar and gathered them in a leather tent and did not call anybody else along, with them. When they gathered, Allah's Apostle came to them and said, "What is the statement which, I have been informed, and that which you have said?" The learned ones among them replied," O Allah's Apostle! The wise ones amongst us did not say anything, but the youngsters amongst us said, 'May Allah forgive His Apostle; he gives the Quarish and leaves the Ansar, in spite of the fact that our swords are still dribbling (wet) with the blood of the infidels.' " Allah's Apostle replied, I give to such people as are still close to the period of Infidelity (i.e. they have recently embraced Islam and Faith is still weak in their hearts). Won't you be pleased to see people go with fortune, while you return with Allah's Apostle to your houses? By Allah, what you will return with, is better than what they are returning with." The Ansar replied, "Yes, O Allah's Apostle, we are satisfied' Then the Prophet said to them." You will find after me, others being preferred to you. Then be patient till you meet Allah and meet His Apostle at Al-Kauthar (i.e. a fount in Paradise)." (Anas added:) But we did not remain patient.
Narrated by Jubair bin Mutim
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَّاسُ مُقْبِلًا مِنْ حُنَيْنٍ عَلِقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّی اضْطَرُّوهُ إِلَی سَمُرَةٍ فَخَطِفَتْ رِدَائَهُ فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْطُونِي رِدَائِي فَلَوْ کَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَکُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا کَذُوبًا وَلَا جَبَانًا
عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی ابراہیم بن سعد صالح ابن شہاب عمرو بن محمد بن جبیر بن مطعم حضرت جبیر مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم رکاب حنین سے واپس آرہے تھے کہ بدؤوں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہ اصرار مانگنا شروع کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ببول کے درخت کے نیچے لے گئے اور آپ کی چادر مبارک اچک لی تو سرور عالم نے فرمایا کہ میری چادر مجھے دے دو اگر میرے پاس ان درختوں کی تعداد میں بکریاں ہوتیں تو میں تم میں وہ تقسیم کر دیتا اور تم مجھے کنجوس جھوٹا اور بزدل نہیں پاؤ گے۔
Narrated Jubair bin Mutim: That while he was with Allah's Apostle who was accompanied by the people on their way back from Hunain, the bedouins started begging things of Allah's Apostle so much so that they forced him to go under a Samura tree where his loose outer garment was snatched away. On that, Allah's Apostle stood up and said to them, "Return my garment to me. If I had as many camels as these trees, I would have distributed them amongst you; and you will not find me a miser or a liar or a coward."
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَکَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَذَبَهُ جَذْبَةً شَدِيدَةً حَتَّی نَظَرْتُ إِلَی صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَثَّرَتْ بِهِ حَاشِيَةُ الرِّدَائِ مِنْ شِدَّةِ جَذْبَتِهِ ثُمَّ قَالَ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَکَ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِکَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَائٍ
یحیی بن بکیر مالک اسحاق بن عبداللہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں (انس) رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا اور اس وقت آپ چوڑے حاشیہ کی ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے تو ایک اعرابی نے آپ سے مل کر آپ کو زور سے کھینچا اور میں نے دیکھا کہ اس اعرابی کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے آپ کی گردن پر چادر کے کنارے کا نشان پڑ گیا تھا اور اس بدو نے کہا کہ مجھے بھی آپ اللہ کے اس مال میں سے جو آپ کے پاس ہے کچھ دلوادیجئے تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور کچھ دینے کا حکم دیا۔
Narrated Anas bin Malik: While I was walking with the Prophet who was wearing a Najrani outer garment with a thick hem, a bedouin came upon the Prophet and pulled his garment so violently that I could recognize the impress of the hem of the garment on his shoulder, caused by the violence of his pull. Then the bedouin said, "Order for me something from Allah's Fortune which you have." The Prophet turned to him and smiled, and ordered that a gift be given to him.
Narrated by 'Abdullah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسًا فِي الْقِسْمَةِ فَأَعْطَی الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَأَعْطَی عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِکَ وَأَعْطَی أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ فَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ قَالَ رَجُلٌ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ مَا عُدِلَ فِيهَا وَمَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ يَعْدِلْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ رَحِمَ اللَّهُ مُوسَی قَدْ أُوذِيَ بِأَکْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ
عثمان جریر منصور ابووائل حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ یوم حنین میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں میں حصے تقسیم فرمائے اقرع بن حابس کو سو اونٹ دیئے اور عیینہ کو بھی اتنے ہی دیئے اور دوسرے معززین عرب کو بھی حصے دیئے اور ان کو حصے دینے میں ترجیح دی تو ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم اس تقسیم میں انصاف کو بروئے کار نہیں لایا گیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود نظر نہیں رکھی گئی تو میں نے کہا اللہ کی قسم رسالت مآب کو اس کی اطلاع دیتا ہوں چنانچہ میں نے جا کر سرور عالم سے پورا ماجرا عرض کیا تو فرمایا اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اگر انصاف نہ کریں گے تو اور کون ہے جو انصاف کرے گا۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر مہربانی کرے انہیں تو اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی اور انہوں نے صبر سے کام لیا۔
Narrated 'Abdullah: On the day (of the battle) of Hunain, Allah's Apostle favored some people in the distribution of the booty (to the exclusion of others); he gave Al-Aqra' bin Habis one-hundred camels and he gave 'Uyaina the same amount, and also gave to some of the eminent Arabs, giving them preference in this regard. Then a person came and said, "By Allah, in this distribution justice has not been observed, nor has Allah's Pleasure been aimed at." I said (to him), "By Allah, I will inform the Prophet (of what you have said), "I went and informed him, and he said, "If Allah and His Apostle did not act justly, who else would act justly. May Allah be merciful to Moses, for he was harmed with more than this, yet he kept patient."
Narrated by Asma bint Abu Bakr
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ کُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَی مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رَأْسِي وَهِيَ مِنِّي عَلَی ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ وَقَالَ أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ أَرْضًا مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ
محمود ابواسامہ ہشام اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو زمین دی تھی (اسما) اس میں سے کھجورں کی گٹھلیاں اپنے سر پر لاد کر لایا کرتی تھی اور وہ زمین میرے گھر سے تین فرسخ دور تھی ابوضمرہ نے ہشام اور ان کے والد کی زبانی بیان کیا ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو نضیر کے مال میں سے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو ایک قطعہ زمین کا عنایت فرمایا تھا۔
Narrated Asma bint Abu Bakr: I used to carry the date stones on my head from the land of Az-Zubair which Allah's Apostle had given to him, and it was at a distance of 2/3 of a Farsakh from my house. Narrated Hisham's father: The Prophet (gave Az-Zubair a piece of land from the property of Bani An-Nadir (gained as war booty).
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَی الْيَهُودَ وَالنَّصَارَی مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَی أَهْلِ خَيْبَرَ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ الْيَهُودَ مِنْهَا وَکَانَتْ الْأَرْضُ لَمَّا ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلْيَهُودِ وَلِلرَّسُولِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَسَأَلَ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتْرُکَهُمْ عَلَی أَنْ يَکْفُوا الْعَمَلَ وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُقِرُّکُمْ عَلَی ذَلِکَ مَا شِئْنَا فَأُقِرُّوا حَتَّی أَجْلَاهُمْ عُمَرُ فِي إِمَارَتِهِ إِلَی تَيْمَائَ وَأَرِيحَا
احمد بن مقدام فضیل بن سلیمان موسیٰ بن عقبہ نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہودیوں اور عیسائیوں کو ملک حجاز سے نکال دیا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کو فتح کیا تو آپ نے بھی ارادہ فرمایا کہ یہودیوں کو وہاں سے نکال باہر کریں اور یہودی مملکت پر قبضہ ہونے کے بعد وہ تمام مملکت مسلمانوں اور رسول اللہ کی ملکیت ہوگئی تھی تو یہودیوں نے آپ سے اس بات کی استدعا کی کہ آپ ہم کو اس شرط پر یہاں رہنے دیں کہ ہم کام کریں گے اور مسلمانوں کو پیداوار میں سے آدھی بٹائی کے پھل ملیں گے (یعنی ادھیائی پر بٹائی کا عمل کرلیا جائے) تو سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہم تم کو اس شرط پر جب تک چاہیں گے رکھیں گے تو وہ یہودی ٹھہرا لئے گئے اور پھر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ان یہودیوں کو مقام تیما اور اریحاء کی جانب نکال باہر کیا۔
Narrated Ibn 'Umar: Umar bin Al-Khattab expelled all the Jews and Christians from the land of Hijaz. Allah's Apostle after conquering Khaibar, thought of expelling the Jews from the land which, after he conquered it belonged to Allah, Allah's Apostle and the Muslims. But the Jews requested Allah's Apostle to leave them there on the condition that they would do the labor and get half of the fruits (the land would yield). Allah's Apostle said, "We shall keep you on these terms as long as we wish." Thus they stayed till the time of 'Umar's Caliphate when he expelled them to Taima and Ariha.