Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْکُمْ أَنْ تَفْشَلَا بَنِي سَلِمَةَ وَبَنِي حَارِثَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ وَاللَّهُ يَقُولُ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا
محمد بن یوسف، ابن عیینہ، عمرو بن دینار، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ سورت آل عمران کی مندرجه بالا آیت میں دو گروه سے بنی سلمه اور بنی حارثه مراد ہیں اور یه آیت نازل ہونا مجھے پسند ہے کیونکه اس میں الله تعالیٰ نے دونوں کی مدد کا وعده کیا ہے۔
Narrated Jabir: This Verse: "When two of your parties almost Decided to fall away..." was revealed in our connection, i.e. Bani Salama and Bani Haritha and I would not have liked that, if it was not revealed, for Allah said:-- But Allah was their Protector.....(3.122)
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَکَحْتَ يَا جَابِرُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ مَاذَا أَبِکْرًا أَمْ ثَيِّبًا قُلْتُ لَا بَلْ ثَيِّبًا قَالَ فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُکَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَکَ تِسْعَ بَنَاتٍ کُنَّ لِي تِسْعَ أَخَوَاتٍ فَکَرِهْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً خَرْقَائَ مِثْلَهُنَّ وَلَکِنْ امْرَأَةً تَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ قَالَ أَصَبْتَ
قتیبہ، سفیان، عمروبن دینار، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا جابر کیا تم نے نکاح کرلیا ہے میں نے عرض کیا جی ہاں! فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے میں نے عرض کیا بیوہ سے، آپ نے فرمایا : کنواری سے (یعنی کم عمر والی) کرتے تو وہ تمہارا دل خوش کیا کرتی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے والد احد میں شہید ہوئے اور نو بیٹیاں اپنے بعد چھوڑیں لہذا نو بہنوں کی موجودگی میں یہ مناسب معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی طرح ایک اور نادان لڑکی کا ان میں اضافہ کردیا جائے میں نے چاہا کہ ایک لمبی عمر والی سمجھ دار عورت لاؤں تاکہ وہ ان کی کنگھی چوٹی اور خدمت کر سکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے بہت اچھا کیا۔
Narrated Jabir: "Allah's Apostle said to me, "Have you got married O Jabir?" I replied, "Yes." He asked "What, a virgin or a matron?" I replied, "Not a virgin but a matron." He said, "Why did you not marry a young girl who would have fondled with you?" I replied, "O Allah's Apostle! My father was martyred on the day of Uhud and left nine (orphan) daughters who are my nine sisters; so I disliked to have another young girl of their age, but (I sought) an (elderly) woman who could comb their hair and look after them." The Prophet said, "You have done the right thing."
Narrated by Jabir bin Abdullah
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَبَاهُ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَکَ عَلَيْهِ دَيْنًا وَتَرَکَ سِتَّ بَنَاتٍ فَلَمَّا حَضَرَ جِزَازُ النَّخْلِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي قَدْ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَکَ دَيْنًا کَثِيرًا وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَرَاکَ الْغُرَمَائُ فَقَالَ اذْهَبْ فَبَيْدِرْ کُلَّ تَمْرٍ عَلَی نَاحِيَةٍ فَفَعَلْتُ ثُمَّ دَعَوْتُهُ فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ کَأَنَّهُمْ أُغْرُوا بِي تِلْکَ السَّاعَةَ فَلَمَّا رَأَی مَا يَصْنَعُونَ أَطَافَ حَوْلَ أَعْظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي أَصْحَابَکَ فَمَا زَالَ يَکِيلُ لَهُمْ حَتَّی أَدَّی اللَّهُ عَنْ وَالِدِي أَمَانَتَهُ وَأَنَا أَرْضَی أَنْ يُؤَدِّيَ اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي وَلَا أَرْجِعَ إِلَی أَخَوَاتِي بِتَمْرَةٍ فَسَلَّمَ اللَّهُ الْبَيَادِرَ کُلَّهَا وَحَتَّی إِنِّي أَنْظُرُ إِلَی الْبَيْدَرِ الَّذِي کَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَأَنَّهَا لَمْ تَنْقُصْ تَمْرَةً وَاحِدَةً
احمد بن سریج، عبیداللہ بن موسی، شیبان، فراس بن یحیی شعبی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے والد احد کے دن شہید ہو گئے وہ قرض دار تھے اور چھ لڑکیاں کم عمر چھوڑ گئے جب کھجوریں توڑنے کا وقت آیا تو میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ جانتے ہیں کہ میرے والد احد میں شہید کر ہو گئے اور بہت قرض چھوڑ گئے ہیں اور میں یہ دوست رکھتا ہوں کہ آپ تشریف لے چلیں تاکہ قرض خواہ آپ کو دیکھیں آپ نے فرمایا اچھا تم باغ میں چلو اور الگ الگ کھجوروں کا ڈھیر لگاؤ چنانچہ میں نے یہی کیا پھر آپ تشریف لائے مگر قرض خواہ آپ کو دیکھ کر اور بھی ضد کرنے لگے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ حالت دیکھی تو ایک بڑے ڈھیر کے تین چکر لگائے اور بیٹھ گئے پھر فرمایا قرض خواہوں کو بلاؤ پھر ان کو ناپ ناپ کردیتے جاتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کا سب قرض بے باق کرا دیا اور میں یہی چاہتا تھا کہ جس طرح بھی ہو یہ قرض ادا ہوجائے خواہ میری بہنوں کے لئے کھجور کا ایک دانہ بھی نہ بچے اللہ تعالیٰ نے سب ڈھیروں کو بچادیا جس ڈھیر پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے میں اس کو دیکھ رہا تھا اور مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ اس میں سے ایک کھجور بھی کم نہیں ہوئی ہے (یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت اور معجزہ تھا اس قسم کے واقعات آپ کی نبوت کے دلائل میں سے ہیں) ۔
Narrated Jabir bin Abdullah: That his father was martyred on the day of the battle of Uhud and was in debt and left six (orphan) daughters. Jabir, added, "When the season of plucking the dates came, I went to Allah's Apostle and said, "You know that my father was martyred on the day of Uhud, and he was heavily in debt, and I would like that the creditors should see you." The Prophet said, "Go and pile every kind of dates apart." I did so and called him (i.e. the Prophet ). When the creditors saw him, they started claiming their debts from me then in such a harsh manner (as they had never done before). So when he saw their attitude, he went round the biggest heap of dates thrice, and then sat over it and said, 'O Jabir), call your companions (i.e. the creditors).' Then he kept on measuring (and giving) to the creditors (their due) till Allah paid all the debt of my father. I would have been satisfied to retain nothing of those dates for my sisters after Allah had paid the debts of my father. But Allah saved all the heaps (of dates), so that when I looked at the heap where the Prophet had been sitting, it seemed as if a single date had not been taken away thereof."
Narrated by Sad bin Abi Waqqas
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَمَعَهُ رَجُلَانِ يُقَاتِلَانِ عَنْهُ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ کَأَشَدِّ الْقِتَالِ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ
عبدالعزیز، عبداللہ، ابراہیم بن سعد اپنے والد سعد بن ابراہیم اور دادا عبدالرحمن بن عوف سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے احد کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے ہمراہ دو مرد سفید لباس والے تھے جو آپ کی حمایت میں بڑی مستعدی سے لڑ رہے تھے میں نے ان کو اس سے پہلے اور بعد کبھی نہیں دیکھا۔
Narrated Sad bin Abi Waqqas: I saw Allah's Apostle on the day of the battle of Uhud accompanied by two men fighting on his behalf. They were dressed in white and were fighting as bravely as possible. I had never seen them before, nor did I see them later on.
Narrated by Sad bin Abi Waqqas
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ السَّعْدِيُّ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ نَثَلَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کِنَانَتَهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ ارْمِ فِدَاکَ أَبِي وَأُمِّي
عبداللہ بن محمد، مروان بن معاویہ، ہاشم بن ہاشم سعدی، سعید بن مسیب، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا احد کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے ترکش سے تیر نکال کردیئے اور فرمایا اے سعد! تیر چلاؤ تم پر میرے ماں باپ قربان!
Narrated Sad bin Abi Waqqas: The Prophet took out a quiver (of arrows) for me on the day of Uhud and said, "Throw (arrows); let my father and mother be sacrificed for you."
Narrated by Sad
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا يَقُولُ جَمَعَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ
مسدد بن مسرہد، یحیی بن سعید قطان، یحیی بن سعید انصاری، سعید بن مسیب، سعد بن ابی وقاص سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتے تھے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے احد کے دن اپنے ماں باپ جمع کرکے فرمایا (فداک ابی و امی) یعنی میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔
Narrated Sad: Allah's Apostle mentioned both his father and mother for me on the day of the battle of Uhud.
Narrated by Ibn Al Musaiyab
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَحْيَی عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَبَوَيْهِ کِلَيْهِمَا يُرِيدُ حِينَ قَالَ فِدَاکَ أَبِي وَأُمِّي وَهُوَ يُقَاتِلُ
قتیبہ، لیث، یحیی ، ابن مسیب، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن اپنے ماں باپ دونوں کو میرے لئے جمع کیا سعد کا مطلب یہ تھا کہ میں لڑ رہا تھا اس وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے ماں باپ تجھ پر قربان۔
Narrated Ibn Al Musaiyab: Sad bin Abi Waqqas said, "Allah's Apostle mentioned both his father and mother for me on the day of the battle of Uhud." He meant when the Prophet said (to Sad) while the latter was fighting. "Let my father and mother be sacrificed for you!"
Narrated by 'Ali
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدٍ
ابونعیم، مسعربن کدام، سعد بن ابراہیم، عبداللہ بن شداد، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا میں نے نہیں سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کے سوا اور کسی سے اس طرح فرمایا ہو کہ میرے ماں باپ تجھ پر قربان۔
Narrated 'Ali: I have never heard the Prophet mentioning both his father and mother for anybody other than Sad.
Narrated by 'Ali
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدِ بْنِ مَالِکٍ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ يَا سَعْدُ ارْمِ فِدَاکَ أَبِي وَأُمِّي
بسرہ بن صفوان، ابراہیم بن سعد، وہ اپنے والد سے وہ عبداللہ بن شداد سے وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نہیں سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے لئے اپنے ماں باپ کو قربان کیا ہو سوائے سعد بن مالک کے کہ احد کے دن میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے سعد! تیر مارو تم پر میرے ماں باپ صدقے ہوں۔
Narrated 'Ali: I have never heard the Prophet mentioning his father and mother for anybody other than Sad bin Malik. I heard him saying on the day of Uhud, "O Sad throw (arrows)! Let my father and mother be sacrificed for you !"
Narrated by Mu'tamir's father
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُعْتَمِرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ زَعَمَ أَبُو عُثْمَانَ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْکَ الْأَيَّامِ الَّتِي يُقَاتِلُ فِيهِنَّ غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ عَنْ حَدِيثِهِمَا
موسی بن اسماعیل، معتمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ابوعثمان نہدی کہتے تھے کہ ایک جنگ میں، جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لڑے (یعنی احد کے دن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبیداللہ اور سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی وقاص کے سوا کوئی باقی نہ رہا ابوعثمان نے یہ بات طلحہ اور سعد سے سن کر بیان کی۔
Narrated Mu'tamir's father: 'Uthman said that on the day of the battle of Uhud, none remained with the Prophet but Talha and Sad.
Narrated by As-Saib bin Yazid
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ قَالَ صَحِبْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَالْمِقْدَادَ وَسَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ يَوْمِ أُحُدٍ
عبداللہ بن ابی الاسود، حاتم بن اسماعیل، محمد بن یوسف، حضرت سائب بن یزید سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں عبدالرحمن بن عوف اور طلحہ بن عبیداللہ، مقداد بن اسود اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت میں رہا ہوں میں نے ان میں سے کسی کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا البتہ ابوطلحہ کو جنگ احد کا واقعہ بیان کرتے سنا ہے۔
Narrated As-Saib bin Yazid: I have been in the company of 'AbdurRahman bin 'Auf, Talha bin 'Ubaidullah, Al-Miqdad and Sad, and I heard none of them narrating anything from the Prophet excepting the fact that I heard Talha narrating about the day of Uhud (battle) .
Narrated by Qais
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّائَ وَقَی بِهَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ
عبداللہ بن ابی شیبہ، وکیع بن جراح، اسماعیل بن خالد، قیس بن ابی حازم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک ہاتھ شل دیکھا تھا کیونکہ وہ احد کے دن اس ہاتھ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا رہے تھے۔
Narrated Qais: I saw Talha's paralyzed hand with which he had protected the Prophet on the day of Uhud.
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمَ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ لَهُ وَکَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا رَامِيًا شَدِيدَ النَّزْعِ کَسَرَ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَکَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ بِجَعْبَةٍ مِنْ النَّبْلِ فَيَقُولُ انْثُرْهَا لِأَبِي طَلْحَةَ قَالَ وَيُشْرِفُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَی الْقَوْمِ فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَا تُشْرِفْ يُصِيبُکَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ نَحْرِي دُونَ نَحْرِکَ وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَی خَدَمَ سُوقِهِمَا تُنْقِزَانِ الْقِرَبَ عَلَی مُتُونِهِمَا تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا ثُمَّ تَجِيئَانِ فَتُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلَاثًا
ابومعمر، عبدالوارث، عبدالعزیز، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب احد کا دن آیا تو لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگے مگر ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے اپنی ڈھال لگائے کھڑے تھے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے تیر انداز اور کماندار تھے انہوں نے اس دن دو تین کمانیں توڑ ڈالیں جو مسلمان تیروں کا ترکش لے کر گزرتا تو حضور اکرم اس سے فرماتے یہ تیر ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے رکھ دو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سر اٹھا کر کافروں کو دیکھتے تو ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کرتے یا رسول اللہ! میرے ماں باپ قربان ہوں اپنا سر نہ اٹھائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی تیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لگ جائے اگر میرے گلے پر لگ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ میرا گلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے پر قربان ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور اپنی ماں ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھا کہ کپڑے اٹھائے ہوئے پانی کی مشکیں بھر بھر کر لا رہی تھیں اور مردوں کو پلا رہی تھیں وہ پھر لوٹ کر جاتیں اور مشکیں بھر کر لاتیں اور لوگوں کے منہ میں ڈالتیں ان کے پاؤں کی پازیبیں دکھائی دے رہی تھیں اور پھر ایسا ہوا کہ حضرت ابوطلحہ کے ہاتھ سے دو یا تین مرتبہ تلوار چھوٹ کر گر پڑی۔
Narrated Anas: When it was the day of Uhud, the people left the Prophet while Abu Talha was in front of the Prophet shielding him with his leather shield. Abu Talha was a skillful archer who used to shoot violently. He broke two or three arrow bows on that day. If a man carrying a quiver full of arrows passed by, the Prophet would say (to him), put (scatter) its contents for Abu Talha." The Prophet would raise his head to look at the enemy, whereupon Abu Talha would say, "Let my father and mother be sacrificed for you ! Do not raise your head, lest an arrow of the enemy should hit you. (Let) my neck (be struck) rather than your neck." I saw 'Aisha, the daughter of Abu Bakr, and Um Sulaim rolling up their dresses so that I saw their leg-bangles while they were carrying water skins on their backs and emptying them in the mouths of the (wounded) people. They would return to refill them and again empty them in the mouths of the (wounded) people. The sword fell from Abu Talha's hand twice or thrice (on that day).
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا کَانَ يَوْمَ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِکُونَ فَصَرَخَ إِبْلِيسُ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاکُمْ فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ فَبَصُرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ الْيَمَانِ فَقَالَ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أَبِي أَبِي قَالَ قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّی قَتَلُوهُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لَکُمْ قَالَ عُرْوَةُ فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّی لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَصُرْتُ عَلِمْتُ مِنْ الْبَصِيرَةِ فِي الْأَمْرِ وَأَبْصَرْتُ مِنْ بَصَرِ الْعَيْنِ وَيُقَالُ بَصُرْتُ وَأَبْصَرْتُ وَاحِدٌ
عبیداللہ بن سعید، ابواسامہ، ہشام بن عروہ اپنے والد عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ احد کے دن جب مشرکین کو پہلی مرتبہ شکست ہوئی تو شیطان نے آواز دی کہ اے اللہ کے بندو! تمہارے عقب سے ایک جماعت آ رہی ہے اس سے بچو! یہ سن کو لوگ پلٹ پڑے اتنے میں دیکھا کہ حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد یمان کو مسلمان مارے ڈال رہے ہیں، چنانچہ حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلند آواز سے کہا کہ اے اللہ کے بندو! یہ تو میرے والد ہیں عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں خدا کی قسم! وہ نہ مانے یہاں تک کہ یمان کو مار ڈالا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا خدا تم کو بخش دے، عروہ کہتے ہیں بخدا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے آخر وقت تک ان کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہے امام بخاری کہتے ہیں بصرت، بصیرت سے ہے یعنی میں نے جانا اور ابصرت کے معنی آنکھ سے دیکھا بعض نے کہا کہ بصرت اور بصیرت کے ایک ہی معنی ہیں۔
Narrated 'Aisha: When it was the day of Uhud, the pagans were defeated. Then Satan, Allah's Curse be upon him, cried loudly, "O Allah's Worshippers, beware of what is behind!" On that, the front files of the (Muslim) forces turned their backs and started fighting with the back files. Hudhaifa looked, and on seeing his father Al-Yaman, he shouted, "O Allah's Worshippers, my father, my father!" But by Allah, they did not stop till they killed him. Hudhaifa said, "May Allah forgive you." (The sub-narrator, 'Urwa, said, "By Allah, Hudhaifa continued asking Allah's Forgiveness for the killers of his father till he departed to Allah (i.e. died).")