Narrated by Abu Wail
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ غَدَوْنَا عَلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ رَجُلٌ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ فَقَالَ هَذًّا کَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الْقِرَائَةَ وَإِنِّي لَأَحْفَظُ الْقُرَنَائَ الَّتِي کَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سُورَةً مِنْ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم
ابوالنعمان، مہدی بن میمون، واصل، ابووائل سے روایت کرتے ہیں کہ ہم چاشت کے وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ایک شخص نے کہا آج کی رات میں نے پوری مفصل سورتیں پڑھیں، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا یہ تو گھاس کاٹنی ہوئی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنا اور وہ مجھے خوب یاد ہے، جو سورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے، وہ اٹھارہ سورتیں مفصل کی ہوئی تھیں، جن میں سے دو سورتیں حم والی ہوئی تھیں۔
Narrated Abu Wail: We went to 'Abdullah in the morning and a man said, "Yesterday I recited all the Mufassal Suras." On that 'Abdullah said, "That is very quick, and we have the (Prophet's) recitation, and I remember very well the recitation of those Suras which the Prophet used to recite, and they were eighteen Suras from the Mufassal, and two Suras from the Suras that start with Ha Mim.
Narrated by Ibn Abbas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ وَکَانَ مِمَّا يُحَرِّکُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ وَکَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ الَّتِي فِي لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ فَإِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِکَ وَقُرْآنَهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ فَإِذَا أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ قَالَ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِکَ قَالَ وَکَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ کَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ
قتیبہ بن سعید، جریر، موسیٰ ابن ابی عائشہ، سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قول (لَا تُحَرِّكْ بِه لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِه ) 75۔ القیامۃ : 16) (زبان کو جلدی نہ چلایا کرو) کی تفسیر میں یوں روایت ہے کہ جبریل جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی لاتے تو آپ اپنی زبان اور ہونٹ جلد ہلاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بار گذرتا اور دوسرے لوگوں کو بھی اس کا علم ہوتا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ) 75۔ القیامۃ : 16) یعنی جلدی کے مارے زبان مت ہلاؤ، تیرے سینہ میں محفوظ رکھنا اور پڑھانا ہماری ذمہ داری ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے لفظ علینا جمعہ کی تفسیر جمعہ فی صدرک سے کی ہے یعنی تیرے سینہ میں اس کا محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے، (فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ) 75۔ القیامۃ : 17) یعنی جب ہم اس کو پڑھائیں تو کان لگا کر سن، (ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ) 75۔ القیامۃ : 18)یعنی پھر اس کا تیری زبان سے بیان کرانا ہمارے ذمہ ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس کے بعد جب جبریل وحی لاتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سر نیچا کرکے سنتے اور جب جبریل چلے جاتے تو آپ اللہ کے وعدے کے مطابق اسے پڑھ لیتے۔
Narrated Ibn Abbas: Regarding His (Allah's) Statement:-- 'Move not your tongue concerning (the Qur'an) to make haste therewith.' (75.16) And whenever Gabriel descended to Allah's Apostle with the Divine Inspiration, Allah's Apostle used to move his tongue and lips, and that used to be hard for him, and one could easily recognize that he was being inspired Divinely. So Allah revealed the Verse which occurs in the Surah starting with "I do swear by the Day of Resurrection.' (75.1) i.e. 'Move not your tongue concerning (the Qur'an) to make haste then with. It is for Us to collect it (in your mind) (O Muhammad) an give you the ability to recite it 'by heart.' (75.16-17) which means: It is for us to collect it (in your mind) and give you the ability to recite it by heart. And when We have recited it to you (O Muhammad) through Gabriel then follow you its recital. (75.18) means: 'When We reveal it (the Qur'an) to you, Listen to it.' for then: It is for Us to explain it and make it clear to you' (75.19) i.e. It is up to Us to explain it through your tongue. So, when Gabriel came to him, Allah's Apostle would listen to him attentively, and as soon as Gabriel left, he would recite the Revelations, as Allah had promised him.