Narrated by 'Aisha and Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَا لَبِثَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَکَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَا
عبیداللہ بن موسی، شیبان، یحیی ، ابوسلمہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں ان دونوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دس سال تک اور مدینہ میں دس سال تک ٹھہرے اس حال میں کہ آپ پر قرآن نازل ہوتا رہا۔
Narrated 'Aisha and Ibn 'Abbas: The Prophet remained in Mecca for ten years, during which the Qur'an used to be revealed to him; and he stayed in Medina for ten years.
Narrated by Abu 'Uthman
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ أُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلَ يَتَحَدَّثُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ سَلَمَةَ مَنْ هَذَا أَوْ کَمَا قَالَ قَالَتْ هَذَا دِحْيَةُ فَلَمَّا قَامَ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلَّا إِيَّاهُ حَتَّی سَمِعْتُ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ خَبَرَ جِبْرِيلَ أَوْ کَمَا قَالَ قَالَ أَبِي قُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا قَالَ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
موسی بن اسماعیل، معتمر، معتمر کے والد، ابوعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ مجھے خبر دی گئی کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اس وقت آپ کے پاس ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی تھیں وہ گفتگو کرنے لگے نبی صلی اللہ علیہ سلم نے ام سلمہ سے فرمایا کہ یہ کون ہے؟ یا اسی طرح آپ نے کچھ فرمایا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا یہ دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جب جبریل علیہ السلام کھڑے ہوئے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ میں ان کو دحیہ ہی خیال کرتی رہی حتیٰ کہ میں نے آپ کا خطبہ سنا کہ آپ جبریل کی خبر دے رہے ہیں یا اسی طرح آپ نے کچھ فرمایا معتمر کا بیان ہے کہ میرے والد نے کہا میں نے ابوعثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی؟ انہوں نے کہا اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔
Narrated Abu 'Uthman: I was informed that Gabriel came to the Prophet while Um Salama was with him. Gabriel started talking (to the Prophet). Then the Prophet asked Um Salama, "Who is this?" She replied, "He is Dihya (al-Kalbi)." When Gabriel had left, Um Salama said, "By Allah, I did not take him for anybody other than him (i.e. Dihya) till I heard the sermon of the Prophet wherein he informed about the news of Gabriel." The subnarrator asked Abu 'Uthman: From whom have you heard that? Abu 'Uthman said: From Usama bin Zaid.
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ الْأَنْبِيَائِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ مَا مِثْلهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا کَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ فَأَرْجُو أَنْ أَکُونَ أَکْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
عبداللہ بن یوسف، لیث، سعید مقبری، اپنے والد سے، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو اس کے مثل (معجزات) دیئے گئے ہیں جس قدر لوگ ان پر ایمان لائے اور مجھے جو چیز دی گئی ہے وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف بھیجی ہے اس لئے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے سب سے زیادہ ہوں گے۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "Every Prophet was given miracles because of which people believed, but what I have been given, is Divine Inspiration which Allah has revealed to me. So I hope that my followers will outnumber the followers of the other Prophets on the Day of Resurrection."
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَی تَابَعَ عَلَی رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّی تَوَفَّاهُ أَکْثَرَ مَا کَانَ الْوَحْيُ ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ
عمرو بن محمد، یعقوب بن ابراہیم، ابراہیم، صالح بن کیسان، ابن شہاب، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی وفات سے پہلے متواتر وحی بھیجی یہاں تک کہ آپ کی آخری عمر میں پہلے کے اعتبار سے وحی کثرت سے آنے لگی پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔
Narrated Anas bin Malik: Allah sent down His Divine Inspiration to His Apostle continuously and abundantly during the period preceding his death till He took him unto Him. That was the period of the greatest part of revelation; and Allah's Apostle died after that.
Narrated by Jundub
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا يَقُولُ اشْتَکَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا مُحَمَّدُ مَا أُرَی شَيْطَانَکَ إِلَّا قَدْ تَرَکَکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحَی وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی
ابو نعیم، سفیان، اسود بن قیس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے جندب کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے تو ایک یا دورات آپ (تہجد کے لئے) کھڑے نہیں ہو سکے ایک عورت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں یہی دیکھتی ہوں کہ تمہارے شیطان نے تم کو چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت (وَالضُّحَی وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی) 93۔ الضحی) نازل فرمائی۔
Narrated Jundub: Once the Prophet fell ill and did not offer the night prayer (Tahajjud prayer) for a night or two. A woman (the wife of Abu Lahab) came to him and said, "O Muhammad ! I do not see but that your Satan has left you." Then Allah revealed (Surat-Ad-Duha): 'By the fore-noon, and by the night when it darkens (or is still); Your Lord has not forsaken you, nor hated you.' (93)