TrueHadith

صور پھونکنے کا بیان، مجاہد نے کہا کہ صور بوق کی طرح ایک چیز ہے زجرۃ کے معنی چیخ کے ہیں اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ناقور سے مراد صور ہے راجفۃ سے مراد پہلی پھونک ہے اور رادفۃ سے مراد دوسری پھونک ہے ۔

Sahih BukhariHadith 6036

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ الْمُسْلِمُ وَالَّذِي اصْطَفَی مُحَمَّدًا عَلَی الْعَالَمِينَ فَقَالَ الْيَهُودِيُّ وَالَّذِي اصْطَفَی مُوسَی عَلَی الْعَالَمِينَ قَالَ فَغَضِبَ الْمُسْلِمُ عِنْدَ ذَلِکَ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا کَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُخَيِّرُونِي عَلَی مُوسَی فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَکُونُ فِي أَوَّلِ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا مُوسَی بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَکَانَ مُوسَی فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَوْ کَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَی اللَّهُ

عبد العزیز بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا، ان میں سے ایک تو مسلمان تھا اور دوسرا یہودی تھا مسلمان نے کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام دنیا والوں پر فضیلت بخشی۔ یہودی نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام دنیا والوں پر فضیلت بخشی، مسلمان کو اس پر غصہ آگیا اور یہودی کے چہرے پر طمانچہ کھینچ مارا۔ یہودی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اپنا اور مسلمان کا معاملہ بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو اس لئے کہ سب لوگ قیامت کے دن بیہوش ہو جائیں گے تو میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا، اس وقت دیکھوں گا، کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا کنارہ پکڑے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا، کہ آیا موسیٰ علیہ السلام بیہوش ہو کر ہم سے پہلے ہوش میں آگئے، یا ان لوگوں میں سے ہوں گے جنھیں اللہ نے بیہوشی سے مستثنیٰ کردیا ہوگا۔

Narrated Abu Huraira: Two men, a Muslim and a Jew, abused each other. The Muslim said, "By Him Who gave superiority to Muhammad over all the people." On that, the Jew said, "By Him Who gave superiority to Moses over all the people." The Muslim became furious at that and slapped the Jew in the face. The Jew went to Allah's Apostle and informed him of what had happened between him and the Muslim. Allah's Apostle said, "Don't give me superiority over Moses, for the people will fall unconscious on the Day of Resurrection and I will be the first to gain consciousness, and behold ! Moses will be there holding the side of Allah's Throne. I will not know whether Moses has been among those people who have become unconscious and then has regained consciousness before me, or has been among those exempted by Allah from falling unconscious."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6037

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْعَقُ النَّاسُ حِينَ يَصْعَقُونَ فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ قَامَ فَإِذَا مُوسَی آخِذٌ بِالْعَرْشِ فَمَا أَدْرِي أَکَانَ فِيمَنْ صَعِقَ رَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوالیمان، شعیب، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب سارے لوگ بیہوش ہوجائیں گے تو میں سب سے پہلے ہوش میں آکر دیکھوں گا کہ موسیٰ عرش کا کنارہ پکڑے ہوئے ہیں اب میں نہیں جانتا کہ وہ بیہوش ہونے والوں میں سے تھے کہ نہیں۔ اسے ابوسعید نے نبی سے روایت کیا ہے۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "The people will fall down unconscious at the time when they should fall down (i.e., on the Day of Resurrection), and then I will be the first man to get up, and behold, Moses will be there holding (Allah's) Throne. I will not know whether he has been amongst those who have fallen unconscious."

Permalink