دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
Explanation of Heart-Softening Matters
1.دل کو نرم کر نے والی باتوں کا بیان، اور یہ کہ آخرت ہی کی زندگی زندگی ہے ۔2.دل کو نرم کر نے والیل باتوں کا بیان، اور یہ کہ آخرت ہی کی زندگی زندگی ہے ۔3.آخرت میں دنیا کی مثال ( کیسی ہے) اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ دینوی زندگی کھیل کود ہے، اور زینت ہے اور ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد کی زیادتی طلب کرنا ہے، جیسے حالت ایک مینہ کی، جو خوش لگا کرتا ہے کسانوں کو اس کا سبزہ، پھر زور پر آتا ہے پھر دیکھے تو اس کو زرد ہو گیا، پھر ہو جاتا ہے روندا ہوا گھاس اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور معافی بھی ہے اللہ سے اور رضا مندی اور دنیا کی زندگی تو یہی ہے پونچی دغاکی ۔4.نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ دنیا میں اس طرح رہو گویا مسافر یا راستہ طے کرنے والے ہو۔5.امید اور اس کی درازی کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول، کو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا تو وہ کامیاب رہا، اور دینوی زندگی صرف دھو کے کا سامان ہے، ان کو چھوڑ دو کہ کھائیں اور فائدہ حاصل کریں، اور ان کو درازی عمر کی امید ایمان سے روکتی ہے، عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دنیا پیٹھ پھیر کر جانے والی ہے، اور آخرت آنے والی ہے، اور ان میں سے ہر ایک کے لئے فرزند میں بھی آخر تکت فرزند بنو، دنیا کے فرزند نہ بنو، اس لئے کہ آج عمل کا دن ہے حساب کا نہیں، اور کل حساب کا دن ہوگا، عمل کا نہیں مزحزحہ مباعدہ کے معنی میں ہے ۔6.جس کی عمر ساٹھ سال ہو جائے تو اللہ عمر کے متعلق اس کے عذر کو قبول نہ کرے گا، کیونکہ اللہ نے فرمایا، کیا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی، کہ جو اس میں نصیحت حاصل کرنا چاہتا، کر لیتا، اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا ۔7.اس عمل کا بیان، جو صرف خدا کی خوشنودی کے لئے کیا جائے، اس بات میں سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے ۔8.دنیا کی زینت سے بچنے، اور اس کی طرف رغبت کر نے کا بیان ۔9.اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے لوگو ! اللہ کا وعدہ سچا ہے تو تمہیں دنیا کی زند گی دھو کہ میں نہ ڈال دے، اور نہ تمہیں شیطان اللہ کی طرف سے غافل کردے، بے شک، شیطان تمہارا دشمن ہے تم اسے دشمن بناؤ، وہ صرف اپنی جماعت کو بلاتا ہے، تاکہ وہ یدوخوالوں میں سے ہوجائیں، سعیر کی جمع سعر ہے، مجاہد نے کہا غرور، سے شیطان مراد ہے ۔10.نیک لوگوں کے گزر جانے کا بیان ۔11.مال کے فتنے سے بچنے کا بیان، اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے فتنہ ہے12.نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا، کہ یہ مال تروتازہ اور شیریں ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگوں کے لئے مرغوب چیزوں کی، یعنی عورتوں اور اولاد، اور سونے چاندی کے ڈھیروں اور نشان لگائے ہوئے گھوڑوں اور چوپایوں، کھیتوں کی محبت خوشنما کر کے دکھائی گئی ہے، یہ دنیا کی زند گانی کا سامان ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اے اللہ جس چیز سے تو نے ہمیں زینت بخشی ہے، ہم اس سے خوش ہوتے ہیں اے اللہ ! میں تجھ سے دعا کرتا ہوں، کہ میں اس کو مناسب طور پر خرچ کروں ۔13.اپنا مال جو پہلے ( اپنی زندگی میں) خرچ کر چکا وہی اس کا ہے ۔14.زیادہ مال والے کم نیکی والے ہوتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو شخص دینوی زندگی اور اس کی زینت چاہتا ہے، تو ہم اس کے اعمال کا پوراپور ابدلہ اس دنیا میں ہی دے دیتے ہیں، اور اس میں ان لوگوں کو کچھ بھی کم نہیں دیا جائے گا، یہی لوگ ہیں، جن کے لئے آخرت میں صرف آگ ہے، اور جو کچھ ان لوگوں نے کیا وہ اکارت جائے گا، اور جو کچھ وہ لوگ کر رہے ہی، وہ سب باطل ہے ۔15.نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا، کہ میں پسند نہیں کرتا کہ میرے پاس احد پہاڑے کے برابر سونا ہو۔16.نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا، کہ میں پسند نہیں کرتا کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو۔17.تونگری دل کی تونگری ہے18.فقر کی فضیلت کا بیان ۔19.نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے زندگی گزارنے اور دنیا ( کی لذتوں) سے علیحدہ رہنے کا بیان ۔20.اعتدال اور عمل پر مداومت کا بیان ۔21.خوف کے ساتھ امید کا بیان، سفیان کے کہا کہ قرآن کی اس آیت سے زیادہ کسی آیت سے ہمیں خوف نہیں ہوتا، (وہ آیت یہ ہے) لستم علی شییء حتی تقیموا التوراۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم ۔22.محر مات الہیہ سے روکنے کا بیان (اللہ تعالیٰ کا قول کہ) صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے دیا جائے گا، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، کہ ہم بہتر زندگی صبر میں پائی ۔23.جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کو کافی ہے، ربیع بن خثیم نے کہا کہ (یہ) ہر اس مشکل میں (ہے) جو انسان کو پیش آئے ۔24.قیل وقال کے مکروہ ہونے کا بیان ۔25.زبان کی حفاظت کرنے کا بیان، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے، یا خاموش رہے ( اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ آدمی کوئی بات اپنے منہ سے نہیں نکالتا، جس کے لئے کوئی محافظ تیار ہو) ۔26.اللہ کے ڈر سے رو نے کا بیان ۔27.اللہ سے ڈرنے کا بیان ۔28.گناہوں سے باز رہنے کا بیان ۔29.آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جان لیتے تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے ۔30.دوزخ شہو توں سے ڈھانکی گئی ہے ۔31.جنت اور اسی طرح جہنم بھی تمہاری جوتہوں کے تسمہ سے زیادہ قریب ہے۔32.اس کی طرف نظر کرنا چاہئے جو ( مال ودولت میں) پست ہو اس کی طرف نظر نہ کرے جو (مال ودولت میں) بڑھا ہوا ہو ۔33.نیکی یا برائی کا ارادہ کر نے کا بیان ۔34.گناہوں کو حقیر سمجھنے سے بشنے کا بیان ۔35.اعمال خاتمے پر موقوف ہیں، اور خاتمے سے ڈرنے کا بیان ۔36.گوشہ نشینی برے ساتھیوں سے بچنے کا ذریعہ ہے ۔37.امانت اٹھ جانے کا بیان ۔38.ریاء اور شہرت کا بیان ۔39.اس شخص کا بیان جو اللہ کی اطاعت میں کوشش کرے ۔40.تواضع کا بیان ۔41.نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں جس طرح یہ دو انگلیاں، اور قیامت کا معاملہ بس آنکھ کے جھپکنے کی طرح بلکہ اس سے بھی جلد ہوگا، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔42.یہ بات ترجمۃ الباب سے خالی ہے۔43.جو شخص اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے ۔44.سکرات موت کا بیان ۔45.صور پھونکنے کا بیان، مجاہد نے کہا کہ صور بوق کی طرح ایک چیز ہے زجرۃ کے معنی چیخ کے ہیں اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ناقور سے مراد صور ہے راجفۃ سے مراد پہلی پھونک ہے اور رادفۃ سے مراد دوسری پھونک ہے ۔46.اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا، نافع نے اس کو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ۔47.حشر کی کیفیت کا بیان ۔48.اللہ تعالیٰ کا قول کہ بے شک قیامت کا زلزلہ ایک بڑی چیز ہے ( اللہ تعالیٰ کا قول کہ) آنے والی آگئی ( اور) قریب آگئی قیامت49.اللہ تعالیٰ کا قول، کہ وہ لوگ یقین نہیں کرتے ہیں کہ وہ لوگ بڑے دن میں اٹھائے جائیں گے جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا وتقطعت بھم الاسباب ( کافروں کے تمام اسباب منقطع ہوجائیں گے) اور کہا کہ میل جول صرف دنیا تک ہے ۔50.قیامت میں قصاص لئے جانے کا بیان اور اس کا نام حاقہ ہے اس لئے کہ اس دن تمام کاموں کا بدلہ دیا جائے گا حقہ اور حاقہ اور قارعہ اور غاشیہ اور کے ایک ہی معنی ہیں، اور تغابن کے معنی ہیں، اہل جنت کا دوزخ والوں کو فراموش کر دینا ۔51.جس کے حساب میں پوچھ گچھ کی گئی تو اس عذاب ہوگا ۔52.جنت میں ستر ہزار ( آدمی) بغیر حساب کے داخل ہوں گے ۔53.جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان، ابوسعید نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی سب سے پہلے کھا نا جو کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی ہوگی ۔ عدن کے معنی ہیں ہمیشہ رہنا، عدنت بارض کے معنی ہیں مکین نے اس زمین میں قیام کیا، مقعد صدق میں، معدن اسی سے ماخوذہے، یعنی سچائی پیدا ہونے کی جگہ ۔54.حوض کوثر کا بیان ۔ الخ