TrueHadith

سلام کے ثواب میں اضافہ ، باعث بننے والے الفاظ

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940578)

وعن عمران بن حصين أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال السلام عليكم فرد عليه ثم جلس . فقال النبي صلى الله عليه وسلم عشر . ثم جاء لآخر فقال السلام عليكم ورحمة الله وبركاته فرد عليه فقال ثلاثون . رواه الترمذي وأبو داود .

اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص آیا اور کہا السلام علیکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کے جواب دیا پھر وہ شخص بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کے لیے دس نیکیاں لکھی گئی ہیں پھر ایک شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا بھی جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا کہ اس کے لیے بیس نیکیاں لکھی گئی ہیں اس کے بعد ایک شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی گئی ہیں۔ (ترمذی، ابوداؤد)۔ تشریح مذکورہ بالا ارشاد گرامی کا تعلق سلام کرنے والے کے ساتھ ہے اگر سلام کرنے والا السلام علیکم کہے اور جس کو سلام کیا گیا ہے وہ اس کے جواب میں ورحمۃ اللہ کے لفظ کا اضافہ کرے یعنی وعلیکم السلام ورحمہ اللہ کہے یا سلام کرنے والا السلام علیکم ورحمہ اللہ کہے اور جواب دینے والا وبرکاتہ کے لفظ کے اضافہ کرے یعنی یوں کہے وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اضافہ ثواب کے سلسلے میں اس کا حکم بھی یہی ہوگا اور یہی حکم مغفرتہ کے اضافہ کا بھی ہے جیسا کہ آگے آنے والی حدیث میں مذکور ہے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940579)

وعن معاذ بن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه وزاد ثم أتى آخر فقال السلام عليكم ورحمة الله وبركاته ومغفرته فقال أربعون وقال هكذا تكون الفضائل . رواه أبو داود . ( إسناده صحيح )

اور حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر کی حدیث کے ہم معنی روایت نقل کی ہے جس میں معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ مزید نقل کیے ہیں پھر ایک اور شخص یعنی چوتھا شخص آیا اور کہا کہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ۔ آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ اس کے لیے چالیس نیکیاں لکھی گئی ہیں۔ نیز یہ فرمایا کہ اسی طرح سے ثواب میں اضافہ ہوتا رہتا ہے یعنی سلام کرنے والا جس قدر الفاظ بڑھاتا جائے گا اسی قدر اس کے ثواب میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ (ابوداؤد) تشریح علماء نے لکھا ہے کہ سلام کرنے کے سلسلے میں افضل یہ ہے کہ سلام کرنے والا یوں کہے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ یعنی جمع کی ضمیر علیکم استعمال کی جائے اگرچہ جس کو سلام کیا جا رہا ہے وہ ایک ہی شخص کیوں نہ ہو اسی طرح جس شخص کو سلام کیا گیا ہے وہ جواب میں یوں کہے وعلیکم السلام یعنی وہ بھی جمع کی ضمیر استعمال کرے اور واؤ لگائے۔ واضح رہے کہ سلام کا ادنی درجہ السلام علیکم کہنا ہے اور اگر السلام علیک کہا جائے تو بھی کافی ہو گا اور جواب میں ادنی درجہ وعلیک السلام اور وعلیکم السلام ہے اور اگر واؤ نہ لگایا جائے تو بھی کافی ہوگا۔علماء کا اس بات پر تو اتفاق ہے کہ اگر جواب میں صرف علیکم کہا جائے تو جواب پورا نہیں ہوگا اور اگر جواب میں وعلیکم کہا جائے یعنی واؤ لگایا جائے تو اس صورت میں دونوں قول ہیں۔

-

Permalink