TrueHadith

شعراء اسلام کو کفار قریش کی ہجو کرنے کا حکم

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940728)

وعن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أهجوا قريشا فإنه أشد عليهم من رشق النبل . رواه مسلم

" اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے شعراء سے فرما دیا تھا کہ کفار قریش کی ہجو کیا کرو کیونکہ یہ ہجو ان پر تیر مارنے سے زیادہ سخت ہے۔ (مسلم) تشریح ہجو، کے معنی اشعار کے ذریعہ برائی بیان کرنا، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفار اور دشمنان دین کی ہجو کرنا جائز ہے لیکن اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ اگر کفار مسلمانوں کی ہجو کریں، تب ان کی ہجو کی جائے اس سے پہلے ان کی ہجو کرنا روا نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں وہ مسلمانوں کی ہجو کریں گے اور اس طرح سے مسلمانوں کے خلاف ان کی ہجو کا سبب خود مسلمان بنیں گے اس مسئلہ کی بنیاد پر یہ آیت کریمہ ہے کہ ، ا یت (وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوً ا بِغَيْرِ عِلْمٍ ) 6۔ الانعام : 108)۔ اے مسلمانوں ان لوگوں کو گالی نہ دو جو غیر اللہ کو پکارتے ہیں یعنی کفار و مشرکین ، نہیں وہ آگے بڑھ کر اللہ گالیاں دینے لگیں، بغیر علم کے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940729)

وعنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لحسان إن روح القدس لا يزال يؤيدك ما نافحت عن الله ورسوله . سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول هجاهم حسان فشفى واشتفى . رواه مسلم

" اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوا سنا کہ جب تک تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف کفار و مشرکین کی ہجو کا مقابلہ کرتے رہتے ہو حضرت جبرائیل برابر تمہاری مدد اعانت کرتے رہتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ حسان نے کفار کی ہجو کی تو اس ہجو سے مسلمانوں کو شفا دی اور خود بھی شفا پائی، یعنی انہوں نے کفار کی ہجو کا جواب ہجو سے دے کر مسلمانوں کے لیے بھی تسلی و تشفی کا سامان بہم پہنچایا اور خود بھی سکون و طمانیت حاصل کی۔ (مسلم)

-

Permalink