TrueHadith

پیر پر پیر رکھ کر لیٹنے کا مسئلہ

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940646)

وعن عباد بن تميم عن عمه قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد مستلقيا واضعا إحدى قدميه على الأخرى . متفق عليه .

اور حضرت عبادہ بن تمیم تابعی اپنے چچا حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ صحابی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا میں نے ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اس طرح چت لیٹے ہوئے دیکھا کہ آپ کا ایک قدم دوسرے قدم پر رکھا ہوا تھا ۔ (بخاری ومسلم) تشریح قدم کو قدم پر رکھ کر لیٹنے سے ستر نہیں کھلتا جب کہ اس طرح لیٹنا کہ پاؤں پر پاؤں رکھا ہوا ہو بسا اوقات ستر کھل جانے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس مطلب کے ذریعہ اس حدیث اور ان احادیث کے درمیان مطابقت پیدا ہو جاتی ہے جو آگے آ رہی ہے اور جن سے واضح ہوتا ہے کہ پاؤں کو پاؤں پر رکھ کر لیٹنا ممنوع ہے اس مسئلہ کی مزید تفصیل آگے بیان ہوگی۔ واضح رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح لیٹنا کبھی کبھی ہوتا تھا اور وہ بھی یا تو بیان جواز کی خاطر یا کچھ دیر آرام کر کے تکان کو دور کرنے کے لیے ورنہ جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معمول کا تعلق ہے آپ کسی بھی ایسی جگہ جہاں کچھ لوگ موجود ہوں چار زانو، باوقار اور تواضع و انکسار کے ساتھ بیٹھے رہتے تھے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940647)

وعن جابر قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يرفع الرجل إحدى رجليه على الأخرى وهو مستلق على ظهره . رواه مسلم . ( متفق عليه )

" اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص ایک پاؤں کھڑا کر کے دوسرا پاؤں اس پر رکھ لے درآنحالیکہ وہ چت ہوا ہو۔ مسلم

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940648)

وعنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یستلقین احد کم ثم یضع احدیٰ رجلیہ علی الاخریٰ(رواہ مسلم)

" اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس طرح چت نہ لیٹے کہ ایک پاؤں کھڑا کر کے اس پر دوسرا پاؤں رکھ لے۔ مسلم تشریح حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا دونوں حدیثیں بظاہر عباد بن تمیم کی روایت کے منافی معلوم ہوتی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان میں کوئی منافات و تضاد نہیں ہے کیوں کہ پاؤں پر پاؤں رکھ کر چت لیٹنا دو طرح سے ہوتا ہے کہ ایک تو یہ کہ دونوں ٹانگیں پھیلی ہوئی ہوں اور ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھی ہوئی ہو اس طریقہ سے لیٹنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیوں کہ اس صورت میں ستر کھل جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہذا عباد بن تمیم کی روایت میں جو یہ منقول ہے کہ آپ ایک قدم کو دوسرے قدم پر رکھ کر چت لیٹے ہوئے تھے تو اس سے یہی صورت مراد ہے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ چت لیٹ کر ایک ٹانگ کے گھٹنے کو کھڑا کر لیا جائے اور دوسری ٹانگ کے پیر کو اس کھڑے ہوئے گھٹنے پر رکھ لیا جائے یہ طریقہ ممنوع ہے لیکن یہ ممانعت بھی اس صورت میں ہے کہ جب ستر کھل جانے کا اندیشہ ہو مثلا کسی شخص نے پاجامہ نہ پہن رکھا ہو بلکہ نہ بند باندھ رکھا ہو اور وہ تہہ بند یا کرتے کا دامن اتنا چھوٹا ہو کہ اس طریقہ سے لیٹنے کی وجہ سے ستر کھل سکتا ہو اور اگر ستر کھلنے کا اندیشہ نہ ہو تو پھر اس طریقہ سے لیٹنا بھی جائز ہوگا حاصل یہ نکلا کہ ممانعت اور جواز کا اصل مدار ستر کے کھلنے یا ستر کے نہ کھلنے پر ہے چنانچہ علماء نے بھی یہی بیان کیا ہے۔

-

Permalink