TrueHadith

برے نام کو بدل دینا مستحب ہے۔

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940698)

وعن ابن عمر أن بنتا كانت لعمر يقال لها عاصية فسماها رسول الله صلى الله عليه وسلم جميلة . رواه مسلم . ( متفق عليه )

" اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی تھی جس کا نام عاصیہ بمعنی گناہگار کہا جاتا تھا چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام جمیلہ رکھا۔ (مسلم) تشریح زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کا دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کا نام عاصی یا عاصیہ رکھتے تھے اس کے لفظی معنی نافرمان، سرکش، متکبر اور خدا اور اس کے دین کا مخالف ہیں چنانچہ زمانہ اسلام کے ظہور کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے نام رکھنے کو ناپسند فرمایا اور جس کسی کا نام عاصیہ یا عاصی تھا اس کو بدل کر دوسرا نام رکھ دیا اس سے معلوم ہوا کہ برے ناموں کو بدل دینا مستحب ہے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940699)

وعن سهل بن سعد قال أتي بالمنذر بن أبي أسيد إلى النبي صلى الله عليه وسلم حين ولد فوضعه على فخذه فقال وما اسمه ؟ قال فلان لاولكن اسمه المنذر . متفق عليه

" اور حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ منذر بن ابی اسید جب پیداہوئے تو ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا آپ نے ان کو اپنی ران مبارک پر رکھا اور پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے؟ لانے والے نے بتایا کہ فلاں نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نام اچھا نہیں بلکہ اس کا نام منذر ہے۔ (بخاری، مسلم) تشریح فلاں نام ہے" یعنی ماں باپ یا خاندان والوں نے جو لکھا تھا لانے والے اس کو بیان کیا چونکہ راوی کو وہ نام معلوم نہیں تھا اس لیے انہوں نے اس طرح نقل کیا ہے ۔ منذر اصل میں انذار سے مشتق ہے جس کے معنی تبلیغ احکام اور عذاب خداوندی سے ڈرانے والے کے ہیں۔

-

Permalink