TrueHadith

اولاد کو بوسہ دینا اظہار محبت کا ذریعہ ہے۔

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940626)

وعن عائشة رضي الله عنها قالت ما رأيت أحدا كان أشبه سمتا وهديا ودلا . وفي رواية حديثا وكلاما برسول الله صلى الله عليه وسلم من فاطمة كانت إذا دخلت عليه قام إليها فأخذ بيدها فقبلها وأجلسها في مجلسه وكان إذا دخل عليها قامت إليه فأخذت بيده فقبلته وأجلسته في مجلسها . رواه أبو داود .

" اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے طور طریقہ، عادات و روش اور نیک خصلتی اور ایک روایت میں ہے کہ بات چیت اور کلام میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مشابہت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ کسی شخص میں نہیں دیکھی۔ یعنی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ان امور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مشابہ تھیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بیان کرنے کے بعد اس محبت و تعلق خاطر کو بیان کر رہی ہیں جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دوسرے سے تھا اور جس وجہ سے دونوں کے درمیان کمال مشابہت ظاہر ہوتی ہے چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے ان کی طرف متوجہ ہو جاتے پھر ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتے ، ان کو بوسہ دیتے (یعنی ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان پیشانی کو چومتے) اور پھر ان کو اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے یعنی جگہ ان کے بیٹھنے کے لیے چھوڑ دیتے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ آپ کو دیکھ کر کھڑی ہو جاتیں آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتیں پھر آپ کو بوسہ دیتیں یعنی آپ کے دست مبارک کو چومتیں، یا کسی اور جگہ بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ (ابوداؤد)

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940627)

وعن البراء قال دخلت مع أبي بكر رضي الله عنهما أول ما قدم المدينة فإذا عائشة مضطجعة قد أصابتها حمى فأتاها أبو بكر فقال كيف أنت يا بنية ؟ وقبل خدها . رواه أبو داود .

" اور حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ کسی غزوہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مدینہ آتے ہی ان کے ساتھ ان کے گھر گیا تو دیکھتا ہوں کہ ان کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی ہیں اور بخار میں مبتلا ہیں چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور پوچھا کہ میری بیٹی تمہاری طبعیت کیسی ہے اور انہوں نے (از راہ محبت و شفقت ) ان کے رخسار پر بوسہ دیا۔ (ابوداؤد)

-

Permalink