TrueHadith

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اور کنیت دونوں کو ایک ساتھ اختیار کرنے کی ممانعت

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940708)

وعن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى أن يجمع أحد بين اسمه وكنيته ويسمى أبا القاسم . رواه الترمذي .

" اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص آپ کے نام اور کنیت کو ایک ساتھ اختیار کرے اور جس شخص کا نام محمد ہو اس کو ابوالقاسم بھی کہا جائے۔ (ترمذی) تشریح مذکورہ ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب کہ لفظ محمد مرفوع اور یسمی بصیغہ مجہول ہو جیسا کہ ترمذی اور شرح السنہ اور مصابیح کے اکثر نسخوں میں نقل کیا گیا ہے لیکن جامع الاصول اور مصابیح کے بعض نسخوں میں محمد کو نصب کے ساتھ نقل کیا گیا ہے اس صورت میں یسمی صیغہ معروف کے ساتھ ہوگا اور ترجمہ یوں کیا جائے گا کہ کوئی شخص اس آدمی کو ابوالقاسم کہے جس کا نام محمد ہو، حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کا نام محمد ہو۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کا نام محمد ہو تو نہ خود اس کے لیے روا ہے کہ وہ اپنی کنیت ابوالقاسم مقرر کرے اور نہ کسی دوسرے شخص کے لیے مناسب ہے کہ وہ محمد نامی کو ابوالقاسم کہے اس مسئلہ کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940709)

وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا سميتم باسمي فلا تكتنوا بكنيتي . رواه الترمذي وابن ماجه . وقال الترمذي هذا حديث غريب . وفي رواية أبي داود قال من تسمى باسمي فلا يكتن بكنيتي ومن تكنى بكنيتي فلا يتسم باسمي

" اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میرے نام پر اپنا نام محمد رکھو تو میری کنیت پر کنیت (ابوالقاسم) مقرر نہ کرو۔ (ترمذی، ابن ماجہ) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے نیز ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص میرے نام پر نام رکھے تو وہ میری کنیت پر کنیت نہ مقرر کرے اور جو شخص میری کنیت پر کنیت مقرر کرے تو میرے نام پر نام نہ رکھے۔ تشریح یہ حدیث بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اور کنیت کو ایک ساتھ اختیار کرنے کی صریح ممانعت کو ظاہر کرتی ہے تاہم ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا یعنی صرف نام پر نام رکھنا یا صرف کنیت پر کنیت مقرر کرنا ممنوع نہیں ہے۔

-

Permalink