TrueHadith

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حلم

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940572)

وعن عائشة قالت استأذن رهط من اليهود على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا السام عليكم . فقلت بل عليكم السام واللعنة . فقال يا عائشة إن الله رفيق يحب الرفق في الأمر كله قلت أولم تسمع ما قالوا ؟ قال قد قلت وعليكم . وفي رواية عليكم ولم يذكر الواو . وفي رواية للبخاري . قالت إن اليهود أتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا السام عليك . قال وعليكم فقالت عائشة السام عليكم ولعنكم الله وغضب عليكم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم مهلا يا عائشة عليك بالرفق وإياك والعنف والفحش . قالت أو لم تسمع ما قالوا ؟ قال أو لم تسمعي ما قلت رددت عليهم فيستجاب لي فيهم ولا يستجاب لهم في . وفي رواية لمسلم . قال لا تكوني فاحشة فإن الله لا يحب الفحش والتفحش . ( متفق عليه )

" اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن یہودی کی ایک جماعت نے نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی چنانچہ ان کو اجازت دے دی گئی اور جب وہ آپ کے پاس آئے تو کہا کہ بلکہ تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت ہو آنحضرت نے فرمایا عائشہ! اللہ تعالیٰ محبت و نرمی کرنے والا ہے اور ہر کام میں محبت و نرمی کو پسند کرتا ہے میں نے عرض کیا کیا آپ نے سنا نہیں انہوں نے سلام کے بجائے کیا لفظ کہا ہے؟ آنحضرت نے فرمایا بیشک میں نے سنا ہے اور میں نے ان کے جواب میں کہا ہے کہ وعلیکم اور ایک روایت میں یہ لفظ علیکم ہے یعنی واؤ کا ذکر نہیں ہے (بخاری ومسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ایک دن کچھ یہودی نبی کریم کے پاس آئے اور انہوں نے السلام علیکم کہنے کے بجائے یہ کہا کہ السام علیکم آنحضرت نے ان کے جواب میں فرمایا وعلیکم۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہودیوں کی یہ بدتمیزی مجھ سے برداشت نہ ہوئی اور میں نے ان کے جواب میں کہا کہ تمہیں موت آئے اور تم پر اللہ کی لعنت ہو، اور تم پر اللہ کا غضب ٹوٹے۔ آنحضرت نے جب میری زبان سے ایسے الفاظ سنے تو فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا رک جاؤ! تمہیں نرمی اختیار کرنی چاہیے نیز سخت گوئی اور لچر باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا لفظ کہا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کیا تم نے نہیں سنا کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے میں نے اس پر کیا جواب دیا ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے حق میں میری دعا یا بددعا تو قبول ہوتی ہے لیکن میرے حق میں ان کی دعا یا بددعا قبول نہیں ہوتی اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ رضی اللہ عنہا تم لچر باتیں کرنے والی مت بنو کیونکہ اللہ تعالیٰ لچر باتوں کو اور بہ تکلف لچر باتیں بنانے کو پسند نہیں کرتا۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940817)

عن أنس قال إن كان النبي صلى الله عليه وسلم ليخالطنا حتى يقول لأخ لي صغير يا أبا عمير ما فعل النغير ؟ كان له نغير يلعب به فمات . متفق عليه

" اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اختلاط و خوش طبعی فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے از راہ مذاق فرماتے ابوعمیر! نغیر کہاں گیا؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے اس چھوٹے بھائی کے پاس ایک نغیر تھا جس سے وہ کھیلا کرتا تھا اور جو مر گیا تھا۔ (بخاری) تشریح حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے چھوٹے بھائی کا ذکر کیا ہے ان کا نام کبشہ تھا اور وہ ان کے اخیافی یعنی ماں شریک بھائی تھے ان کے باپ کا نام ابوطلحہ زید ابن سہیل انصاری تھا۔ نغیر تصغیر ہے نغر کی جو ایک چھوٹے پرندے کا نام ہے اور چھوٹی چڑیا کی طرح ہوتا ہے اور اس کی چونچ سرخ ہوتی ہے بعض حضرات نے یہ کہا کہ کہ وہ پرندہ چڑیا کی طرح سرخ سر والا ہوتا ہے نیز بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ اہل مدینہ اس پرندے کو بلبل کہتے تھے ہو سکتا ہے کہ یہ وہی پرندہ ہو جس کو ہمارے ہاں لال کہتے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے چھوٹے بھائی کبشہ اس پرندے کو لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے جیسا کہ چھوٹے بچوں کو جب کوئی چڑیا وغیرہ مل جاتی ہے تو اس کے ساتھ کھیلا کرتے ہیں اور اس کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں پھر ایک دن اچانک وہ پرندہ مر گیا اس کے بعد جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ ان کو از راہ مذاق چھیڑتے اور پوچھتے کہ اے ابوعمیر تمہارا نغیر کہاں گیا؟گویا ان کو مخاطب کرتے وقت ظرافت کے ساتھ تفنن کلام کا اسلوب بھی اختیار فرماتے یعنی نغیر کی مناسبت سے اور اس لفظ کے قافیہ کے طور پر ان کو ابوعمیر کی کنیت کے ذریعہ مخاطب فرماتے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچوں کو چڑیا وغیرہ سے دل بہلانا اور ان کے ساتھ کھیل کود کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس کو تکلیف و ایذاء نہ پہنچائیں نیز اس سے معلوم ہوا کہ کسی چھوٹے اور کمسن بچے کی کنیت مقرر کرنا جائز ہے اور یہ جھوٹ میں داخل نہیں ہے نیک فالی ہے۔

-

Permalink