حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ يَحْيَی بْنِ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ أَبِي الزَّعْرَائِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي مِنْ أَصْحَابِي أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عَمَّارٍ وَتَمَسَّکُوا بِعَهْدِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَی بْنِ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ وَيَحْيَی بْنُ سَلَمَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَأَبُو الزَّعْرَائِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ وَأَبُو الزَّعْرَائِ الَّذِي رَوَی عَنْهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَابْنُ عُيَيْنَةَ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ أَخِي أَبِي الْأَحْوَصِ صَاحِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
ابراہیم بن اسماعیل بن یحیی بن سلمہ بن کہیل، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد میرے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ابوبکر وعمر کی اقتداء (پیروی) کرنا، عمار کے راستے پر چلنا اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے عہد کو لازم پکڑنا (یعنی نصیحت پر عمل کرنا) یہ حدیث اس سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ کی روایت سے غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف یحیی بن سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور وہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ ابوزعراء کا نام عبداللہ بن ہانی ہے لیکن زعراء جن سے شعبہ، ثوری اور ابن عیینہ روایت کرتے ہیں وہ عمرو بن عمرو ہیں۔ وہ ابوحوص کے بھتیجے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے دوست ہیں۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allahs Messenger (SAW) said, After me, follow those of my sahabah Abu Bakr and Umar, and follow the path of Ammar and stick to the advice of Ibn Masud.’
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مُوسَی يَقُولُ لَقَدْ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ وَمَا نُرَی حِينًا إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا نَرَی مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ
ابوکریب، ابراہیم بن یوسف بن ابواسحاق، یوسف، ابواسحاق ، اسود بن یزید، حضرت ابواسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابوموسی کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اور میرے بھائی جب یمن سے آئے تو صرف عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی کے متعلق معلوم ہوتا تھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں۔ کیوں کہ وہ اور ان کی والدہ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ سفیان ثوری اسے ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں۔
Abu Aswad ibn Yazid reported that he heard Abu Musa say, When I and my brother came from Yaman, we heard only of Abdullah ibn Masud that he was a man of the household of the Prophet from what we saw of his going with his mother to the Prophet (SAW). [Bukhari 3763, Muslim 2460]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ أَتَيْنَا عَلَی حُذَيْفَةَ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا مَنْ أَقْرَبُ النَّاسِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا وَدَلًّا فَنَأْخُذَ عَنْهُ وَنَسْمَعَ مِنْهُ قَالَ کَانَ أَقْرَبُ النَّاسِ هَدْيًا وَدَلًّا وَسَمْتًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ حَتَّی يَتَوَارَی مِنَّا فِي بَيْتِهِ وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ هُوَ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَی اللَّهِ زُلْفَی قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، اسرائیل، ابواسحاق ، عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہمیں وہ شخص بتایئے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسرے لوگوں کی نسبت چال چلن میں زیادہ قریب تھا تاکہ ہم اس سے علم حاصل کریں اور احادیث سنیں۔ انہوں نے فرمایا وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پوشیدہ خانگی حالات سے بھی واقف ہوتے تھے جن کا ہمیں علم تک نہ ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھوٹ سے محفوظ صحابہ کرام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان سب میں ام عبد کے بیٹے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اللہ تعالیٰ سے اتنا قریب نہیں جتنے وہ ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abdur Rahman ibn Yazid reported that they went to Hudhayfah (RA)and requested him to narrate to them about one who was most close of all people to Allah’s Messenger in style of living and habits that they might learn from him and listen to him.’ He said, “The closest of men to Allah’s Messenger (SAW) in way of life and habits is Ibn Mas’ud so much so that he would visit his house more regularly than us and knew his confidential affairs more than other sahabah. Indeed, Ibn Umm Abd (Abdullah ibn Mas’ud) was the closest to Allah than the others.’ [Ahmed 23468, Bukhari 3762]
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا صَاعِدٌ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ کُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْهُمْ لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ
عبداللہ بن عبدالرحمن، صاعد حرانی، زہیر، منصور، ابواسحاق ، حارث، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں بغیر مشورے کے کسی لشکر کا امیر مقرر کرتا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو کرتا۔ اس حدیث کو ہم صرف حارث کی علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Sayyidina Ali (RA) reported that Allah’s Messenger(SAW) said, “Were Ito appoint one of them as a commander (of an army) without consulting others then I would surely appoint the son of Umm Abd.” (He is Abdullah ibn Mas’ud). [Ahmed 566]
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ کُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَأَمَّرْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ
سفیان بن وکیع، سفیان ثوری، ابواسحاق، حارث، حضرت علی رضی اللہ عنہم سے روایت کی سفیان بن وکیع نے انہوں نے اپنے والد سے وہ سفیان ثوری سے وہ ابواسحاق سے وہ حارث سے اور وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میں کسی کو بغیر مشورے کے امیر مقرر کرتا تو ام عبد کے بیٹے (ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کرتا) ۔
Sufyan ibn Waki’ narrated on the authority of his father, from Sufyan Thawri, from Abu Ishaq, from Harith, from Sayyidina Ali (RA) that Allah’s Messenger (SAW) said, “Were I to appoint anyone a commander without consulting anyone then I would surely appoint the son of Umm Abd.”
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَسَالِمٍ مَوْلَی أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
ہناد، ابومعاویہ، اعمش، شقیق بن سلمہ، مسروق، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قرآن چار آدمیوں سے سیکھو۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ، معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولی سالم سے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr reported that Allah’s Messenger (SAW) said, “Take the Qur’an from four (men) : Ibn Masud, Ubayy ibn Ka’b, Mu’adh ibn Jabal, and Saalim the freedman of Abu Hudhayfah.” [Bukhari 4999, Muslim 2464]
حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَيَسَّرَ لِي أَبَا هُرَيْرَةَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَوُفِّقْتَ لِي فَقَالَ لِي مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْکُوفَةِ جِئْتُ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ وَأَطْلُبُهُ قَالَ أَلَيْسَ فِيکُمْ سَعْدُ بْنُ مَالِکٍ مُجَابُ الدَّعْوَةِ وَابْنُ مَسْعُودٍ صَاحِبُ طَهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَعْلَيْهِ وَحُذَيْفَةُ صَاحِبُ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمَّارٌ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنْ الشَّيْطَانِ عَلَی لِسَانِ نَبِيِّهِ وَسَلْمَانُ صَاحِبُ الْکِتَابَيْنِ قَالَ قَتَادَةُ وَالْکِتَابَانِ الْإِنْجِيلُ وَالْفُرْقَانُ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَخَيْثَمَةُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ إِنَّمَا نُسِبَ إِلَی جَدِّهِ
جراح بن مخلد بصری، معاذ بن ہشام، ہشام، قتادة، حضرت خثیمہ بن ابی سبرہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے کوئی نیک دوست عطاء فرما۔ اللہ تعالیٰ نے مجھیابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملوا دیا۔ انکے پاس بیٹھا اور اپنی دعا کے متعلق بتایا۔ انہوں نے پوچھا کہاں کے رہنے والے ہوں؟ میں نے عرض کیا کہ کوفہ کا رہنے والا ہوں اور خیر کی طلب مجھے یہاں لائی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کیا تمہارے پاس سعد بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں جنکی دعا قبول ہوتی ہے۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے وضو کا پانی رکھنے اور جوتیاں سیدھی کرنے والے ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں؟ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رازدار حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں؟ کیا عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کے مطابق شیطان سے دور کر دیا ہے۔؟ اور کیا دو کتابوں والے سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں ہیں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ دو کتابوں سے مراد انجیل اور قرآن ہیں۔ یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ اور خثیمہ، عبدالرحمن بن سبرہ کے بیٹے ہیں سند میں وہ اپنے دادا کی طرف منسوب ہیں۔
Khaythamah ibn Abu Sayrah narrated: I came to Madinah and prayed to Allah to get me a righteous companion. He made easy for me the company of Abu Hurayrah (RA). I sat down with him and said to him, “I prayed to Allah that He should make easy for me the company of a righteous men and he brought you and me toghether.” He asked me, “From where are you?” I said, “I am from Kufah. I have come seking good.” He asked, “Is not there among you Sa’d ibn Maalik whose prayers are answered, and Ibn Mas’ud who carried water for the Prophet’s ablution and his shoes, and Hudhayfah who was the Prophet’s confidant, and Ammar whom Allah kept away from the devil in answer to the Prophets I’ prayer, and Salman who is the man of two Books?” Qatadah explained, “The two Books are the Injil and the Qur’an.” [Bukhari 3758] --------------------------------------------------------------------------------