TrueHadith

باب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات اور خصوصیات کے متعلق

Jami' TirmidhiHadith 3557

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَا أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِمَکَّةَ حَجَرًا کَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ لَيَالِيَ بُعِثْتُ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

محمد بن بشار و محمود بن غیلان، ابوداؤد طیالسی، سلیمان بن معاذ ضبی، سماک بن حرب، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مکہ مکرمہ میں ایک پتھر تھا جو مجھے ان راتوں میں سلام کیا کرتا تھا جن دنوں میں معبوث ہوا۔ میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

Sayyidina Jabir ibn Samurah (RA) reported that Allah’s Messenger said, ‘There is a stone in Makkah that used to greet me in the nights when I was commissioned. I know it even now.’ [Ahmed 20867, Muslim 2277]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3558

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَائِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَدَاوَلُ فِي قَصْعَةٍ مِنْ غَدْوَةٍ حَتَّی اللَّيْلِ يَقُومُ عَشَرَةٌ وَيَقْعُدُ عَشَرَةٌ قُلْنَا فَمَا کَانَتْ تُمَدُّ قَالَ مِنْ أَيِّ شَيْئٍ تَعْجَبُ مَا کَانَتْ تُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَاهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَی السَّمَائِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو الْعَلَائِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ

محمد بن بشار، یزید بن ہارون، سلیمان تیمی، ابوالعلاء، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک پیالے میں صبح سے شام تک کھایا کرتے تھے۔ وہ اس طرح کہ دس آدمی کھا کر اٹھتے اور دس بیٹھ جاتے۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کیا اس میں مزید نہیں ڈالا جاتا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ تم کس بات پر تعجب کر رہے ہو اس میں اسی طرف سے بڑھایا جارہا تھا۔ اور ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابوعلاء کا نام یزید بن عبداللہ الشخیر ہے۔

Sayyidina Samurah ibn Jundub narrated: We were with the Prophet once. We ate from a bowl from morning to night, ten would get up and ten would take the seat. The narrator said that they asked Samurah, “Was not the bowl replenished?” He said, “With what are you surprised? It was not replenished but from here,” and he pointed to the heaven. [Ahmed 201551]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3559

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْکُوفِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَکَّةَ فَخَرَجْنَا فِي بَعْضِ نَوَاحِيهَا فَمَا اسْتَقْبَلَهُ جَبَلٌ وَلَا شَجَرٌ إِلَّا وَهُوَ يَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ وَقَالُوا عَنْ عَبَّادٍ أَبِي يَزِيدَ مِنْهُمْ فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَائِ

عباد بن یعقوب کوفی، ولید ابوثور، سدی، عباد بن ابی یزید، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ کی گلیوں میں نکلا تو ہر درخت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرتا کہ اے اللہ کے رسول آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام ہو۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ کئی حضرات اس حدیث کو ولید بن ابی ثور سے اور وہ عباد بن ابی زید سے نقل کرتے ہیں۔ فروہ بھی انہی میں ہیں جب کی کنیت ابومغراء ہے۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib narrated: I came forth with the Prophet through the suroundings of Makkah. Every rock and tree welcomed him, saying, “Peace be on you, 0 Messenger of Allah.” --------------------------------------------------------------------------------

Permalink