حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ قِبَلَ الْيَمَنِ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ
عبداللہ بن ابی زیاد، ابوداؤد طیالسی، عمران قطان، قتادة، انس، حضرت زید ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن کی طرف دیکھ دعا فرمائی یا اللہ ! ان کے دل ہماری طرف پھر دے اور ہمارے صاع اور مد (وزن کے پیمانے) میں برکت عطا فرما۔ یہ حدیث حضرت زید بن ثابت کی روایت سے حسن غریب ہے۔ ہم اس کو صرف عمران قطان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Sayyidina Zayd ibn Thabit (RA) reported that the Prophet looked in the direction of Yemen and prayed: O Allah turn their hearts towards us, and bless us in our sa’ and our mudd. [Ahmed 21606]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاکُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِکْمَةُ يَمَانِيَةٌ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
قتیبہ، عبدالعزیز بن محمد، محمد بن عمرو، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں جو بہت کمزور دل اور نرم طبیعت والے ہیں۔ ایمان بھی یمن سے نکلا ہے اور حکمت بھی یمن ہی سے نکلی ہے۔ اس باب میں حضرت ابن عباس اور ابن مسعود سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “The people of Yemen have come to you. They have most mild thoughts and, most soft hearts. Faith comes from Yemen and wisdom is (also) from there.” [Ahmed 10982, Bukhari 3301, Muslim 52]
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَرْيَمَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُلْکُ فِي قُرَيْشٍ وَالْقَضَائُ فِي الْأَنْصَارِ وَالْأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ يَعْنِي الْيَمَنَ
احمد بن منیع، زید بن حباب، معاویہ بن صالح، ابومریم انصاری، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بادشاہت قریش میں، قضاء (فیصلہ) انصار میں، اذان حبشہ میں، اور امانت ازد یعنی یمن میں ہے۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Kingdom belongs to the Quraysh, judgement to the Ansar, adhan to Ethiopia and fidelity to the Azd, meaning Yemen.” [Ahmed 8769]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَبِي مَرْيَمَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ
محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، معاویہ بن صالح، ابومریم انصاری، ابوہریرہ ہم سے روایت کی محمد بن بشار نے انہوں نے عبدالرحمن بن مہدی انہوں نے معاویہ بن صالح انہوں نے ابومریم انصاری اور وہ ابوہریرہ سے اسی کی مانند حدیث نقل کرتے ہوئے اسے مرفوع نہیں کرتے یہ حدیث زید بن حباب کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ حَدَّثَنِي عَمِّي صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الْکَبِيرِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَزْدُ أُسْدُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يُرِيدُ النَّاسُ أَنْ يَضَعُوهُمْ وَيَأْبَی اللَّهُ إِلَّا أَنْ يَرْفَعَهُمْ وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ يَقُولُ الرَّجُلُ يَا لَيْتَ أَبِي کَانَ أَزْدِيًّا يَا لَيْتَ أُمِّي کَانَتْ أَزْدِيَّةً قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَنَسٍ مَوْقُوفًا وَهُوَ عِنْدَنَا أَصَحُّ
عبدالقدوس بن محمد عطار، صالح بن عبدالکبیر، بن شعیب، عبدالسلام بن شعیب، شعیب، حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ازد (یعنی) یمن کے رہنے والے اللہ کی زمین پر اس کے دین کے مددگار ہیں۔ لوگ ان کو پست کرنا چاہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ ان کی ایک نہ مانیں گا بلکہ انہیں اور بلند کرے گا لوگوں پر ضرور ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی کہے گا کاش میرا باپ یمنی ہوتا کاش میری ماں یمنی ہوتی۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اس کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور یہ انس سے مرفوعاً بھی مروی ہے اور وہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
Sayyidina Anas reported that Allah’s Messenger (SAW) said, “The Azd are Allah’s Azd (Aza or Asad meaning Lion) on earth. People wish to put them down, but Allah refuses every thing except that He should raise them. A time will come to the people when a man will lament: would that my father was an Azd. Would that my father was an Azd!”
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ قَال سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ إِنْ لَمْ نَکُنْ مِنْ الْأَزْدِ فَلَسْنَا مِنْ النَّاسِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
عبدالقدوس بن محمد عطار بصری، محمد بن کچیر، مہدی بن میمون، غیلان بن جریر، حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ اگر ہم ازدی (یمن والوں سے) نہ ہوتے تو کامل لوگوں میں سے نہ ہوتے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: If we were not of the Azd, we would not have been of the (perfect) people.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ بَغْدَادِيٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ مِينَائَ مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَال سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ کُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَائَ رَجُلٌ أَحْسِبُهُ مِنْ قَيْسٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَنْ حِمْيَرًا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَائَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَائَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَائَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرًا أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ وَهُمْ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَيُرْوَی عَنْ مِينَائَ هَذَا أَحَادِيثُ مَنَاکِيرُ
ابوبکر بن زنجویہ، عبدالرزاق، ان کے والد، میناء مولی عبدالرحمن بن عوف، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے ایک آدمی آیا میرا خیال ہے کہ وہ قیس میں سے تھا۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبیلہ حمیر پر لعنت بھیجئے۔ آپ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ وہ دوسری جانب سے آیا تو آپ نے ادھر سے منہ پھیر لیا۔ وہ تیسری جانب سے آیا اس مرتبہ بھی آپ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اور فرمایا اللہ تعالیٰ قبیلہ حمیر پر رحم فرمائے۔ ان کے منہ میں اسلام اور ہاتھوں میں طعام ہے پھر وہ امن وایمان والے ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں۔ میناء سے اکثر منکر احادیث مروی ہیں۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: We were with Allah’s Messenger (SAW) when a man came to him-I suppose, from the Qays. He said, “O Messenger of Allah, curse the Himyar.” But he turned away from him. Then he came from the other side, but the Prophet (SAW) again turned away. Again, he came from another side, but he turned away from him and said, ‘May Allah have mercy on the Himyar! May there be peace in their mouths and food in their hands! they are folk of peace and faith.” [Ahmed 7749]