حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ وَلَا إِضَاعَةِ الْمَالِ وَلَکِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَکُونَ بِمَا فِي يَدَيْکَ أَوْثَقَ مِمَّا فِي يَدَيْ اللَّهِ وَأَنْ تَکُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أَنْتَ أُصِبْتَ بِهَا أَرْغَبَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَکَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ اسْمُهُ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ مُنْکَرُ الْحَدِيثِ
عبداللہ بن عبدالرحمن، محمد بن مبارک، عمرو بن واقد، یونس بن حلبس، ابوادریس خولانی، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ زہد صرف حلال کو حرام کر دینے اور مال کو ضائع کر دینے ہی کا نام نہیں بلکہ زہد یہ ہے کہ جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے وہ اس سے زیادہ قابل اعتماد نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور جب تجھے مصیبت پہنچے تو اس کے ثواب میں زیادہ رغبت رکھے اور یہ خواہش ہو کہ کاش یہ میرے لئے باقی رہتی یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اس سند سے جانتے ہیں کہ ابوادریس خولانی کا نام عائش بن عبداللہ ہے اور عمرو بن واقد منکرالحدیث تھا
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported from the Prophet (SAW) that he said, “Asceticism in this world is not to forbid the lawful to oneself or to waste property. But, asceticism in this world is that you rely more on what is in Allah’s hand than on what is in your hand and that you long for reward against hardship to such an extent that you wish that it would beset you continuously.” [Ibn e Majah 4100]
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حُرَيْثُ بْنُ السَّائِبِ قَال سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ حَدَّثَنِي حُمْرَانُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ لِابْنِ آدَمَ حَقٌّ فِي سِوَی هَذِهِ الْخِصَالِ بَيْتٌ يَسْکُنُهُ وَثَوْبٌ يُوَارِي عَوْرَتَهُ وَجِلْفُ الْخُبْزِ وَالْمَائِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ حَدِيثُ الْحُرَيْثِ بْنِ السَّائِبِ وَسَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ سُلَيْمَانَ بْنَ سَلْمٍ الْبَلْخِيَّ يَقُولُ قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ جِلْفُ الْخُبْزِ يَعْنِي لَيْسَ مَعَهُ إِدَامٌ
عبد بن حمید، عبدالصمد بن عبدالوارث، حریث بن سائب، حسن، حمران بن ابان، حضرت عثمان بن عفان نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ ابن آدم کو دنیا میں ان چیزوں کے علاوہ کوئی حق نہیں رہنے کے لئے گھر تن ڈھانپنے کے لئے مناسب کپڑا اور روٹی اور پانی کے برتن یہ حدیث صحیح ہے ابوداؤد اور سلمان بن سلم بلخی نضر بن شمیل سے نقل کرتے ہیں کہ "جلف الخبر" بغیر سالن کی روٹی کو کہتے ہیں
Sayyidina Uthman ibn Affan (RA) reported that the Prophet said, “There are no rights for the son of Aadam except these particular ones: a house to live in, garments to cover his private parts and vessels to hold bread and water “
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ انْتَهَی إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ أَلْهَاکُمْ التَّکَاثُرُ قَالَ يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي وَهَلْ لَکَ مِنْ مَالِکَ إِلَّا مَا تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ أَوْ أَکَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
محمود بن غیلان، وہب بن جریر، شعبة، قتادة، حضرت مطرف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " أَلْهَاکُمْ التَّکَاثُرُ" پڑھ رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال حالانکہ تمہارا صرف وہی ہے جو تم نے صدقہ یا خیرات کر کے جاری رکھا یا کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر پرانا کر دیا یہ حدیث حسن صحیح ہے
Mutarrif narrated: My father went to the Prophet (SAW) and he was reciting: (your rivalry for amassing riches distracts you) (102:1). He said, “The son of Aadam says, “My property, my property!” But, is there anything for you from your wealth except that which you gave in charity and advanced (to Allah for yourself), or consumed and finished, or put on (or donned) and wore off?” [Ahmed 16427, Muslim 2958]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ هُوَ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَال سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّکَ إِنْ تَبْذُلْ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَکَ وَإِنْ تُمْسِکْهُ شَرٌّ لَکَ وَلَا تُلَامُ عَلَی کَفَافٍ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَشَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُکْنَی أَبَا عَمَّارٍ
محمد بن بشار، عمربن یونس، عکرمة بن عمار، شداد بن عبد اللہ، حضرت ابوامامہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابن آدم تم اگر اپنی ضرورت سے زائد مال کو محاسن میں خرچ کر دو گے تو تمہارے لئے بہتر ہوگا اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو یہ تمہارے لئے بدتر ہوگا جبکہ حاجت کے بقدر اپنے اوپر خرچ کرنے پر ملامت نہیں کی جائے گی اور صدقات و خیرات کی ادائیگی میں ابتداء اس سے کرو جس کی تم کفالت کرتے ہوا اور جان لو کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے اور شداد بن عبداللہ کی کنیت ابوعمار ہے
Sayyidina Abu Umamah reported that Allah’s Messenger said, “if you, O son of Aadam, spend the excess (in good cause), that is good for you. But, if you retain it then it is bad for you. There is no blame on spending over the necessities. And, begin (charity) with those whom you support. And, the upper hand is better than the lower. “ [Muslim 1036, Ahmed 22328]
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْکِنْدِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُونَ عَلَی اللَّهِ حَقَّ تَوَکُّلِهِ لَرُزِقْتُمْ کَمَا يُرْزَقُ الطَّيْرُ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِکٍ
علی بن سعید کندی، ابن مبارک، حیوة بن شریح، بکر بن عمرو، عبداللہ بن ہبیرة، ابوتمیم جیشانی، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسہ کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیتا ہے صبح کو وہ بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ہم اسے صرف اسی سند سے پہچانتے ہیں ابوتمیم جیشانی کا نام عبداللہ بن مالک ہے
Sayyidina Umar ibn Khattab reported that Allah’s Messenger said “If you trust in Allah observing a true trust in Him, then, indeed, He will give you provision as - provides the birds who emerge hungry in the morning and return with a full belly in the evening.” [Ahmed 205, lMuslim 4164]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ أَخَوَانِ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ فَشَکَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَعَلَّکَ تُرْزَقُ بِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
محمد بن بشار، ابوداؤد، حماد بن سلمة، ثابت، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے ایک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتا اور دوسرا محنت مزدوری کرتا ایک مرتبہ مزدوری کرنے والے نے اپنے بھائی کی آپ سے شکایت کی تو آپ نے جواب دیا کہ ہو سکتا ہے کہ تمہیں بھی اس کی وجہ سے رزق ملتا ہو
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that there were two brothers in the time of the Prophet One of them used to keep company of the Prophet (SAW) the other pursued his occupation (and earned a living). He (the bread-earner) complained about his brother to the Prophet (SAW)’ who said, “Perhaps you are given provision on account.”
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِکٍ وَمَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُمَيْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ الْخَطْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَکَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ مُعَافًی فِي جَسَدِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَکَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَحِيزَتْ جُمِعَتْ حَدَّثَنَا بِذَلِکَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ نَحْوَهُ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ
عمرو بن مالک و محمود بن خداش بغدادی، مروان بن معاویہ، عبدالرحمن بن شمیلة انصاری، سلمة بن عبید اللہ، عبداللہ بن خطمی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ خوش حال تھا بدن کے لحاظ سے تندرست تھا اور اس کے پاس اس دن کے لئے روزی موجود تھی تو گویا کہ اس کے لئے دنیا سمیٹ دی گئی یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف مروان بن معاویہ کی روایت سے جانتے ہیں "حِيزَتْ" کے منعی جمع کی گئی کے ہیں ہم سے روایت کی محمد بن اسماعیل نے انہوں نے حمیدی سے انہوں نے مروان بن معاویہ سے اسی کی مثل
Ubaydullah ibn Mihsan Khatami (RA) reported from his father who was a sahabi that Allah’s Messenger (SAW) said, “He who wakes up in the morning peaceful among his people, healthy in body, his provision for the day with him, then it is as though the world is brought together for him.” [Ibn e Majah4141]