TrueHadith

بیویوں کے ساتھ اچھا برتا کرنا

Sunan Ibn MajahHadith 1967

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَکْرُ بْنُ خَلَفٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَی بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ عَمِّهِ عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُکُمْ خَيْرُکُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُکُمْ لِأَهْلِي

ابوبشربکر بن خلف، محمد بن یحییٰ، ابوعاصم، جعفر بن یحییٰ بن ثوبان، عمارہ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنے گھر والوں کے لئے بہترین ہیں اور میں تم میں سب سے زیادہ اپنے گھر والوں سے اچھا برتا کرنے والا ہوں ۔

It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet P.B.U.H said: "The best of you is the one who is best to his wife, and I am the best of you to my wives," (Hasan)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 1968

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِيَارُکُمْ خِيَارُکُمْ لِنِسَائِهِمْ

ابوکریب، ابوخالد، اعمش، شفیق، مسروق، حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے بھلے وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لئے بھلے ہیں ۔

It was narrated from Abdullah bin ' Amr that the Messenger of Allah P.B.U.H said: "The best of you are those who are best to their womenfolk," (Sahih)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 1969

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ

ہشام بن عمار ، سفیان بن عیینہ ، ہشام بن عروہ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے بڑھ گئی۔

It was narrated that Aishah said: "The Prophet P.B.U.H raced with me and I beat him," (Sahih)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 1970

حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا مُبَارَکُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ عَرُوسٌ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ جِئْنَ نِسَائُ الْأَنْصَارِ فَأَخْبَرْنَ عَنْهَا قَالَتْ فَتَنَکَّرْتُ وَتَنَقَّبْتُ فَذَهَبْتُ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی عَيْنِي فَعَرَفَنِي قَالَتْ فَالْتَفَتَ فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ فَأَدْرَکَنِي فَاحْتَضَنَنِي فَقَالَ کَيْفَ رَأَيْتِ قَالَتْ قُلْتُ أَرْسِلْ يَهُودِيَّةٌ وَسْطَ يَهُودِيَّاتٍ

ابوبدر عباد بن ولید، حبان بن ہلال، مبارک بن فضالہ ، علی بن زید ، ام محمد، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (خیبر سے واپسی پر) مدینہ تشریف لائے اور آپ صفیہ بنت حیی کے دولہا بن چکے تھے تو انصاری عورتیں آئیں اور صفیہ کے متعلق بتانے لگیں۔ فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی ہیئت بدلی نقاب ڈالا اور چلی گئی (صفیہ کو دیکھنے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری آنکھیں دیکھ کر پہچان لیا۔ فرماتی ہیں کہ میں نے منہ موڑا اور تیزی سے چلی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پکڑ لیا اور گود میں لے لیا۔ پھر فرمایا تم نے کیسی دیکھی ہے؟ میں نے کہا بس چھوڑ دیجئے ایک یہودن ہے یہودنوں کے درمیان۔

It was narrated that Aishah said: "When the Messenger of Allah P.B.U.H came to Al-Madinah, he had just married safiyyah bint Huyai, and the women of the Ansar came and told us about that. My expression changed and I covered my face and went away. The Messenger of Allah P.B.U.H looked at my eyes and recognized me. I turned away and walked quickly, but he caught up with me and put his arm around me and said: 'What did you see?' I said: 'Let me go, (I saw) a Jewish woman among other Jewish women.' (Da'if)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 1971

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ زَکَرِيَّا عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ الْبَهِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا عَلِمْتُ حَتَّی دَخَلَتْ عَلَيَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَهِيَ غَضْبَی ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَسْبُکَ إِذَا قَلَبَتْ بُنَيَّةُ أَبِي بَکْرٍ ذُرَيْعَتَيْهَا ثُمَّ أَقَبَلَتْ عَلَيَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا حَتَّی قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَکِ فَانْتَصِرِي فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّی رَأَيْتُهَا وَقَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فِيهَا مَا تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ

ابوبکر بن ابی شیہ ، محمد بن بشر، زکریا، خالد بن سلمہ ، بہی ، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مجھے معلوم ہی نہ ہوا کہ زینب میرے پاس بلا اجازت آگئیں وہ غصہ میں تھیں۔ کہنے لگیں اے اللہ کے رسول آپ کے لئے کافی ہے کہ ابوبکر کی بیٹی اپنی کرتی پلٹے (بازو وغیرہ کھولے) پھر میری طرف متوجہ ہوئیں میں نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم بھی کہو اپنی مدد کرو (کیونکہ زینب نے سخت بات کی اور بلا اجازت گھر میں آئیں) میں انکی طرف متوجہ ہوئیں (اور جواب دیا) یہاں تک میں نے دیکھا کہ ان کا منہ میں تھوک خشک ہوگیا۔ کچھ جواب نہیں دے سکیں پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ جگمگا رہا ہے

'Urwah bin Zubair narrated that' Aishah said: I did not know until Zainab burst in on me without permission, and she was angry. Then she said: '0 Messenger of Allah, is it enough for you that the young daughter of Abu Bakr waves her hands in front of you?' Then she turned to me, but I ignored her until the Prophet P.B.U.H said: 'You should say something to defend yourself: so I turned on her, (and replied to her) until I saw that her mouth had become dry, and she did not say anything back to me. And I saw the Prophet P.B.U.H with his face shining.” (Hasan)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 1972

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ وَأَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَانَ يُسَرِّبُ إِلَيَّ صَوَاحِبَاتِي يُلَاعِبْنَنِي

حفص بن عمرو، عمر بن حبیب قاضی ، ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں گڑیوں سے کھیلتی تھی جبکہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھی آپ میری سہیلیوں کو میرے پاس کھیلنے کے لئے بھیج دیتے تھے۔

It was narrated that Aishah said: I used to play with dolls when I was with the Messenger of Allah P.B.U.H, and he used to bring my friends to me to play with me." (Sahih)

Permalink