TrueHadith

کلالہ کی وراثت کا حکم۔

Sunan DarimiHadith 2845

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ سُئِلَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ الْكَلَالَةِ فَقَالَ إِنِّي سَأَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنْ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنْ الشَّيْطَانِ أُرَاهُ مَا خَلَا الْوَالِدَ وَالْوَلَدَ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ قَالَ إِنِّي لَأَسْتَحْيِي اللَّهَ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا قَالَهُ أَبُو بَكْرٍ

شعبی بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا گیا انہوں نے ارشاد فرمایا میں اس بارے میں اپنی رائے سے جواب دوں گا اگر وہ ٹھیک ہوئی تو اللہ کے فضل سے ہوگی اور اگر میں اس کوئی غلطی ہوئی تو وہ میری اور شیطان کی طرف سے ہوگی میرایہ خیال ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی اولاد بھی نہ ہو اور والد بھی نہ ہو۔ جب حضرت عمر ان کے نائب بنے تو انہوں نے یہ فرمایا مجھے اس بات سے اللہ کی بارگاہ میں حیاء آتی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جو رائے پیش کر چکے ہوں میں اسے مسترد کروں۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2846

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ مَا أَعْضَلَ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ مَا أَعْضَلَتْ بِهِمْ الْكَلَالَةُ

حضرت عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو کلالہ کے بارے میں اتنی مشکل پیش آئی جتنی کسی اور مسئلے کے بارے میں پیش نہیں آئی۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2847

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ الْكَلَالَةُ مَا خَلَا الْوَالِدَ وَالْوَلَدَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کلالہ سے مراد وہ شخص ہے جس کی والد اور اولاد نہ ہو۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2848

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعْدٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوْ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ لِأُمٍّ

حضرت سعد کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے یہ آیت تلاوت کی ۔ ایسے شخص کو جس کی وراثت کلالہ کے طور پر یا اس کی بیوی ہو اس کا ایک بھائی یا بہن ہو۔ فرماتے ہیں یہ ماں کے لیے ہی ہے۔

-

Permalink