TrueHadith

بھائیوں اور بہنوں اور اولاد اور اولاد کی اولاد کی وراثت کا حکم ۔

Sunan DarimiHadith 2764

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ قَالَ لِلْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ وَمَا بَقِيَ فَلِلذُّكُورِ دُونَ الْإِنَاثِ فَقَدِمَ مَسْرُوقٌ الْمَدِينَةَ فَسَمِعَ قَوْلَ زَيْدٍ فِيهَا فَأَعْجَبَهُ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ أَتَتْرُكُ قَوْلَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ مِنْ الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ قَالَ أَحْمَدُ فَقُلْتُ لِأَبِي شِهَابٍ وَكَيْفَ قَالَ زَيْدٌ فِيهَا قَالَ شَرَّكَ بَيْنَهُمْ

مسروق بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ سگی بہنوں باپ کی طرف والے بہن بھائیوں کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے ہیں سگی بہنوں کو دوتہائی حصہ ملے گا اور جو باقی بچ جائے گا وہ بھائیوں کو ملے گا بہنوں کو نہیں ملے گا جو صرف باپ کی طرف سے بہن بھائی ہوں گے۔ مسروق مدینہ آئے انہوں نے اس بارے میں حضرت زید کا فرمان سنا تو وہ انہیں بہت پسند آیا ان کے ساتھیوں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ حضرت عبداللہ کے قول کو ترک کر دیں انہوں نے جواب دیا جب میں مدینہ آیا تو میں نے حضرت زید بن ثابت کو علم وراثت کے ماہرین میں ایک پایا۔ امام احمد ارشاد فرماتے ہیں میں نے ابوشہاب سے دریافت کیا حضرت زید نے اس بارے میں کیا فتوی دیا ہے تو انہوں نے جواب دیا ان بہن بھائیوں کو ایک دوسرے کا حصہ قرار دیا ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2765

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ ذَكَرْنَا عِنْدَ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ أَنَّهُ كَانَ يُعْطِي لِلْأَخَوَاتِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلذُّكُورِ دُونَ الْإِنَاثِ فَقَالَ حَكِيمٌ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَرِثَ الرِّجَالُ دُونَ النِّسَاءِ إِنَّ إِخْوَتَهُنَّ قَدْ رُدُّوا عَلَيْهِنَّ

اسماعیل بیان کرتے ہیں ہم نے حکیم بن جابر کے پاس یہ بات ذکر کی کہ حضرت ابن مسعود سگی بہنوں اور باپ کی طرف والے بہن بھائیوں کے بارے میں یہ فتوی دیتے ہیں کہ سگی بہنوں کو دو تہائی حصہ ملے گا اور باقی بچ جانے والا مال باپ کی طرف سے بھائیوں کو ملے گا باپ کو کچھ نہیں ملے گا تو حکیم نے جواب دیا حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں یہ زمانہ جاہلیت کا کام ہے کہ مردوں کو وارث قرار دیا جائے۔ اور عورتوں کو نہ دیا جائے وہ بہنیں دوسری بہنوں کو وراثت میں شریک کریں گی۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2766

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُشَرِّكُ بَيْنَ ابْنَتَيْنِ وَابْنَةِ ابْنٍ وَابْنِ ابْنٍ تُعْطِي الِابْنَتَيْنِ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَشَرِيكُهُمْ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يُشَرِّكُ يُعْطِي الذُّكُورَ دُونَ الْإِنَاثِ وَقَالَ الْأَخَوَاتُ بِمَنْزِلَةِ الْبَنَاتِ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دو بیٹیوں اور ایک پوتی اور پوتے کو وراثت میں شریک قرار دیتی تھیں دو بیٹیوں کو دو تہائی حصہ دیتی تھیں۔ اور باقی بچ جانے والے مال میں پوتی کو حصہ قرار دیتی تھیں۔ حضرت عبداللہ انہیں شریک قرار نہیں دیتے تھے وہ صرف مردوں پوتوں کو وراثت میں حصہ دیتے تھے لڑکیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے تھے یہ ارشاد فرماتے تھے بہنیں بھی بیٹیوں کی مانند ہیں۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2767

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي سَهْلٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ فِي بِنْتٍ وَبَنَاتِ ابْنٍ وَابْنِ ابْنٍ إِنْ كَانَتْ الْمُقَاسَمَةُ بَيْنَهُمْ أَقَلَّ مِنْ السُّدُسِ أَعْطَاهُمْ السُّدُسَ وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ السُّدُسِ أَعْطَاهُمْ السُّدُسَ

شعبی بیان کرتے ہیں بیٹی اور پوتی اور پوتے کے بارے میں حضرت ابن مسعود یہ فرماتے ہیں ان کے درمیان باہمی تقسیم اگر چھٹے حصے سے کم ہو تو انہیں چھٹاحصہ دیا جائے گا اور اگر وہ چھٹے حصے سے زیادہ ہو تو بھی انہیں صرف چھٹا حصہ دیا جائے گا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2768

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ كَانَ يُشَرِّكُ فَقَالَ لَهُ عَلْقَمَةُ هَلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَثْبَتُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَا وَلَكِنِّي رَأَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَأَهْلَ الْمَدِينَةِ يُشَرِّكُونَ فِي ابْنَتَيْنِ وَبِنْتِ ابْنٍ وَابْنِ ابْنٍ وَأُخْتَيْنِ

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں مسروق انہیں وراثت میں شریک قرار دیا کرتے تھے علقمہ نے ان سے کہا کیا حضرت عبداللہ سے بڑا عالم بھی کوئی ہے انہوں نے جواب دیا نہیں لیکن میں نے حضرت زید بن ثابت اور اہل مدینہ کو دیکھا ہے کہ وہ اس بارے میں بیٹیوں کے ہمراہ پوتی اور پوتے اور بہنوں کو وراثت میں شریک قرار دیتے تھے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2769

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ شُرَيْحٍ فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَأُخْتَهَا لِأَبِيهَا وَأُمِّهَا وَأُخْتَهَا لِأَبِيهَا وَإِخْوَتَهَا لِأُمِّهَا جَعَلَهَا مِنْ سِتَّةٍ ثُمَّ رَفَعَهَا فَبَلَغَتْ عَشْرَةً لِلزَّوْجِ النِّصْفُ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ وَلِلْأُخْتِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ وَلِلْأُمِّ السُّدُسُ سَهْمٌ وَلِلْإِخْوَةِ مِنْ الْأُمِّ الثُّلُثُ سَهْمَانِ وَلِلْأُخْتِ مِنْ الْأَبِ سَهْمٌ تَكْمِلَةُ الثُّلُثَيْنِ

قاضی شریح لیثی عورت کے بارے میں فرماتے تھے جس نے پسماندگان میں شوہر ماں، سگی بہن اور باپ کی طرف سے شریک بہن اور ماں کی طرف سے شریک بھائی چھوڑے ہوں۔ قاضی صاحب یہ تقسیم چھ سے شروع کرتے تھے۔ پھر اسے بڑھا کر دس تک لے آتے تھے جس میں سے شوہر کو نصف حصہ دیتے ہیں جوتین حصے ہیں سگی بہن کو نصف دیتے ہیں۔ یہ تین حصے ہیں۔ ماں کو چھٹاحصہ دیتے ہیں جو ایک حصہ ہے ماں کی طرف سے شریک بھائیوں کو ایک تہائی حصہ دیتے ہیں یہ دوحصے ہیں اور باپ کی طرف سے شریک بہن کو ایک حصہ دیتے ہیں یوں دوتہائی حصے کو مکمل کر دیتے ہیں۔

-

Permalink