TrueHadith

کون سے جانور کی قربانی کرنا جائز نہیں ہے۔

Sunan DarimiHadith 1867

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُتَّقَى مِنْ الضَّحَايَا قَالَ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي

حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کس قسم کے جانور کی قربانی سے پرہیز کیا جائے آپ نے فرمایا وہ کانا جس کا کانا پن واضح ہو وہ لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو وہ بیمار جس کی بیماری واضح ہو اور وہ دبلا پتلا کمزور جس کے اندر مغز ہی نہ ہو۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1868

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ قَالَ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ عَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَضَاحِيِّ فَقَالَ أَرْبَعٌ لَا يُجْزِئْنَ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تُنْقِي قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ وَفِي الْأُذُنِ نَقْصٌ وَفِي الْقَرْنِ نَقْصٌ قَالَ فَمَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ

عبید بن فیزوز بیان کرتے ہیں حضرت براء سے سوال کیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی طرح کے جانور کی قربانی سے منع کیا ہے انہوں نے جواب دیا چار طرح کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے ایک وہ کانا جس کا کانا پن واضح ہو اور ایک لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو، وہ بیمار جس کی بیماری واضح ہو اور وہ کمزور جس کے اندر مغز ہی نہ ہو۔ میں نے براء سے سوال کیا میں ایسے جانور کو بھی پسند نہیں کرتا جس کے سینگ میں کوئی نقص ہو جس کے کان میں کوئی نقص ہو اور جس کے دانت میں کوئی نقص ہو۔ حضرت براء نے جواب دیا جسے تم ناپسند کرتے ہو اسے نہ کرو لیکن اسے کسی کے لیے حرام قرار نہ دو۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1869

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ الْبَقَرَةُ فَقَالَ عَنْ سَبْعَةٍ قُلْتُ الْقَرْنُ قَالَ لَا يَضُرُّكَ قَالَ قُلْتُ الْعَرَجُ قَالَ إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ ثُمَّ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ

حجیہ بن عدی بیان کرتے ہیں ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اے امیرالمومنین گائے کا کیا حکم ہے انہوں نے جواب دیا سات آدمیوں کی طرف سے ہوسکتی ہے میں نے جواب دیا سینگ میں کوئی نقص ہو تو انہوں نے جواب دیا اس سے تم کو کوئی حرج نہیں ہے۔ حجیہ کہتے ہیں کہ میں نے سوال کیا لنگڑے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا اگر قربان گاہ تک پہنچ جائے پھر انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم جانوروں کی آنکھ اور کان کا جائزہ لے لیا کریں۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1870

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الصَّائِدِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا خَرْقَاءَ وَلَا شَرْقَاءَ فَالْمُقَابَلَةُ مَا قُطِعَ طَرَفُ أُذُنِهَا وَالْمُدَابَرَةُ مَا قُطِعَ مِنْ جَانِبِ الْأُذُنِ وَالْخَرْقَاءُ الْمَثْقُوبَةُ وَالشَّرْقَاءُ الْمَشْقُوقَةُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان کا ایک جائزہ لے لیا کریں اور ہم مقابلہ اور مدابرہ، حرقاء، شرقاء کی قربانی نہ کریں۔ راوی کہتے ہیں مقابلہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے کان کا کنارہ کٹا ہوا ہو، مدابرہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے کان کا ایک حصہ کٹا ہوا ہو، خرقاء اس جانور کو کہتے ہیں جس کا کان چھیدا گیا ہو اور شرقاء اس جانور کو کہتے ہیں جس کا کان پھٹا ہوا ہو۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1871

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَأَصَابَنِي جَذَعٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ فَقَالَ ضَحِّ بِهَا

حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کیے تو مجھے ایک سال کا بکری کا بچہ ملا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے ایک سال کا بکری کا بچہ ملا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ ہی قربان کردو۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1872

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا أَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَسَمْتُهَا وَبَقِيَ مِنْهَا عَتُودٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ضَحِّ بِهِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْعَتُودُ الْجَذَعُ مِنْ الْمَعْزِ

حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مال غنیمت دیا تاکہ میں اسے اصحاب میں تقسیم کروں میں نے انہیں تقسیم کردیا ایک سال کا بکری کا بچہ ان میں سے باقی رہ گیا میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا تم اسے قربان کردو۔ امام دارمی فرماتے ہیں (اس حدیث میں استعمال ہونے والا لفظ) عتود کا مطلب بکری کا ایک سال کا بچہ ہے۔

-

Permalink