أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ عَنْ الْعَجْلَانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْنِ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَقَالَ لَهُ فَتًى قَدْ سَمَّاهُ وَهُوَ فِي حُلَّةٍ لَهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَهَكَذَا كَانَ يَمْشِي ذَلِكَ الْفَتَى الَّذِي خُسِفَ بِهِ ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ فَعَثَرَ عَثْرَةً كَادَ يَتَكَسَّرُ مِنْهَا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لِلْمَنْخَرَيْنِ وَلِلْفَمِ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ایک مرتبہ ایک شخص اپنی دو چادروں پر اتراتے ہوئے چل رہا تھا تو اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت تک زمین دھنستا رہے گا حاضرین میں ایک نوجوان نے جس کا نام راوی نے بیان کیا تھا اسی قسم کا کپڑا پہنا ہوا تھا وہ بولا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا وہ نوجوان اس طرح چل رہا تھا جسے زمین میں دھنسایا گیا پھر اس نوجوان نے اپنے ہاتھ کو جھٹکا تو وہ گرگیا اور قریب تھا کہ اس کی کوئی چیز ٹوٹ جاتی تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کے نتھنوں اور منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ارشاد بانی " بے شک مذاق اڑانے والوں کے لیے تمہاری طرف سے ہم کافی ہیں۔
-
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا هَارُونُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ خِرَاشِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَتًى يَخْذِفُ فَقَالَ لَهُ شَيْخٌ لَا تَخْذِفْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْخَذْفِ فَغَفَلَ الْفَتَى وَظَنَّ أَنَّ الشَّيْخَ لَا يَفْطِنُ لَهُ فَخَذَفَ فَقَالَ لَهُ الشَّيْخُ أُحَدِّثُكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ الْخَذْفِ ثُمَّ تَخْذِفُ وَاللَّهِ لَا أَشْهَدُ لَكَ جَنَازَةً وَلَا أَعُودُكَ فِي مَرَضٍ وَلَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا فَقُلْتُ لِصَاحِبٍ لِي يُقَالُ لَهُ مُهَاجِرٌ انْطَلِقْ إِلَى خِرَاشٍ فَاسْأَلْهُ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَحَدَّثَهُ
خراش بن جبیر بیان کرتے ہیں میں نے مسجد میں ایک نوجوان کو دیکھا جو کنکریوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ایک بزرگ نے اس سے کہا کنکریوں کیساتھ نہ کھیلو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کنکریوں سے کھیلنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے وہ نوجوان اپنے عمل میں مصروف رہا اس نے یہ سمجھا کہ شاید وہ بزرگ اس کا جائزہ نہیں لے رہا اور ویسے یہ کنکریوں سے کھیلتا رہا۔ اس بزرگ نے اس سے کہا میں نے تمہیں حدیث بیان کی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کنکریوں سے کھیلنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور تم پھر ان کے ساتھ کھیل رہے ہو اللہ کی قسم اب میں تمہارے جنازے میں بھی شریک نہ ہوں گا اور کبھی بیماری کے دوران تمہاری عیادت کے لیے بھی نہیں آؤں گا اور تم سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گا۔ زبیر نامی راوی بیان کرتے ہیں میں نے اپنے ساتھی جس کا نام مہاجر تھا سے کہا چلو خراش کی طرف چلتے ہیں اور ان سے اس بارے میں دریافت کرتے ہیں پھر وہ ان کے پاس آئے اور اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے یہ بات سنائی۔
-
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَذْفِ وَقَالَ إِنَّهَا لَا تَصْطَادُ صَيْدًا وَلَا تَنْكِي عَدُوًّا وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ فَرَفَعَ رَجُلٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعِيدٍ قَرَابَةٌ شَيْئًا مِنْ الْأَرْضِ فَقَالَ هَذِهِ وَمَا تَكُونُ هَذِهِ فَقَالَ سَعِيدٌ أَلَا أُرَانِي أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَهَاوَنُ بِهِ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا
حضرت عبداللہ بن مغفل بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریوں سے کھیلنے سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کے ذریعے تم کسی چیز کو شکار نہیں کرسکتے اور دشمن کو قتل نہیں کرسکتے یہ صرف دانت توڑ سکتی ہے اور آنکھ پھوڑ سکتی ہے۔
-
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ رَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ يَخْذِفُ فَقَالَ لَا تَخْذِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ الْخَذْفِ وَكَانَ يَكْرَهُهُ وَإِنَّهُ لَا يُنْكَأُ بِهِ عَدُوٌّ وَلَا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ وَلَكِنَّهُ قَدْ يَفْقَأُ الْعَيْنَ وَيَكْسِرُ السِّنَّ ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ فَقَالَ لَهُ أَلَمْ أُخْبِرْكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْهُ ثُمَّ أَرَاكَ تَخْذِفُ وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا
عبداللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مغفل نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو کنکری کے ذریعے کھیلتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا تم ایسا نہ کرو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری سے کھیلنے سے منع کیا ہے یا اس بات کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا اس کے ذریعے دشمن کو مارا نہیں جاسکتا کسی چیز کو شکار نہیں کیا جاسکتا اس کے ذریعے صرف آنکھ کو پھوڑا جاسکتا ہے اور دانت کو توڑا جاسکتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مغفل نے پھر اس نوجوان کو کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا تو اس سے کہا میں نے تمہیں بتایا نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے میں تمہیں دیکھ رہاہوں کہ تم پھر اس کے ساتھ کھیل رہے ہو اللہ کی قسم میں اب تمہارے ساتھ کبھی بھی بات نہیں کروں گا۔
-
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَ ابْنُ سِيرِينَ رَجُلًا بِحَدِيثٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ قَالَ فُلَانٌ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ أُحَدِّثُكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ قَالَ فُلَانٌ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا
قتادہ بیان کرتے ہیں ابن سیرین نے ایک شخص کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی وہ شخص بولا فلاں شخص نے یہ بات کہی ہے۔ ابن سیرین نے کہا میں تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنا رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو فلاں شخص نے یہ بات کہی ہے۔ آئندہ میں کبھی تمہارے ساتھ کوئی بات نہیں کروں گا۔
-
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمْ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يَمْنَعْهَا فَقَالَ فُلَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِذًا وَاللَّهِ أَمْنَعُهَا فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ ابْنُ عُمَرَ فَشَتَمَهُ شَتِيمَةً لَمْ أَرَهُ يَشْتِمُهَا أَحَدًا قَبْلَهُ قَطُّ ثُمَّ قَالَ أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ إِذًا وَاللَّهِ أَمْنَعُهَا
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسی کی بیوی مسجد میں جانے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ کے فلاں صاحبزادے کھڑے ہوئے اور بولے اللہ کی قسم میں تو اپنی بیوی کو ضرور منع کروں گا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے وہ گالی دی جو میں نے انہیں کبھی کسی اور کو دیتے ہوئے نہیں سنا اور پھر بولے میں تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث سنا رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو اللہ کی قسم میں تو روکوں گا۔
-
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ مَعْرُوفٍ عَنْ أَبِي الْمُخَارِقِ قَالَ ذَكَرَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ فَقَالَ فُلَانٌ مَا أَرَى بِهَذَا بَأْسًا يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ عُبَادَةُ أَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ لَا أَرَى بِهِ بَأْسًا وَاللَّهِ لَا يُظِلُّنِي وَإِيَّاكَ سَقْفٌ أَبَدًا
ابومخارق بیان کرتے ہیں حضرت عبادہ بن صامت نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درہم کے عوض میں دو درہموں کے لین دین سے منع کیا ہے تو ایک شخص نے میرے خیال میں اگر یہ دست بدست لین دین ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے حضرت عبادہ نے ارشاد فرمایا یہ میں نے بیان نہیں کیا بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے اور تم یہ کہہ رہے ہو کہ میرے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے اللہ کی قسم آج کے بعد میں اور تم کبھی ایک چھت کے نیچے اکٹھے نہیں ہوں گے۔
-
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ عَنْ زَمْعَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا قَالَ وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا فَانْسَاقَ رَجُلَانِ إِلَى أَهْلَيْهِمَا فَكِلَاهُمَا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں سفر سے واپسی پر شہر پہنچنے پر جب رات ہوجائے تو رات کے وقت کوئی اپنی بیوی کے پاس نہ جائے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قافلے کی شکل میں کسی سفر سے تشریف لائے تھے۔ دولوگ اپنے گھرچلے گئے تو ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنی کے ساتھ ایک شخص کو پایا۔
-
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ نَزَلَ الْمُعَرَّسَ ثُمَّ قَالَ لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا فَخَرَجَ رَجُلَانِ مِمَّنْ سَمِعَ مَقَالَتَهُ فَطَرَقَا أَهْلَيْهِمَا فَوَجَدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو رات کے وقت پڑاؤ کر لیتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا کوئی بھی شخص رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس نہ جائے جن لوگوں نے آپ کی بات سنی تھی ان میں دو صاحبان نکلے اور اپنے گھرچلے گئے تو ان دونوں میں ہر ایک نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک شخص کو پایا۔
-
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ يُوَدِّعُهُ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَقَالَ لَهُ لَا تَبْرَحْ حَتَّى تُصَلِّيَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَخْرُجُ بَعْدَ النِّدَاءِ مِنْ الْمَسْجِدِ إِلَّا مُنَافِقٌ إِلَّا رَجُلٌ أَخْرَجَتْهُ حَاجَتُهُ وَهُوَ يُرِيدُ الرَّجْعَةَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَالَ إِنَّ أَصْحَابِي بِالْحَرَّةِ قَالَ فَخَرَجَ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ سَعِيدٌ يَوْلَعُ بِذِكْرِهِ حَتَّى أُخْبِرَ أَنَّهُ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَانْكَسَرَتْ فَخِذُهُ
عبدالرحمن بن حرملہ بیان کرتے ہیں ایک شخص سعید بن مسیب کی خدمت میں حاضر ہوا جسے انہوں نے حج یا عمرے کے لیے الوداع کیا تھا سعید نے ان سے کہا تم نماز ہونے تک یہیں ٹھہرے رہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اذان ہونے کے بعد مسجد سے صرف منافق باہر نکلتا ہے۔ یا وہ شخص جسے کوئی کام ہو اور وہ مسجد میں واپس بھی آنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ شخص بولا میرے ساتھی حرہ میدان میں میرا انتظار کررہے ہیں راوی کا بیان ہے وہ شخص چلا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں سعید کو اس کی طرف سے پریشانی لاحق ہوگئی یہاں تک کہ انہیں یہ بتایا گیا کہ وہ شخص اپنی اونٹنی سے گرگیا اور اس کی ران کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔
-