Sunan An-Nasa'i — Hadith 3401
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَکَمِ الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَی قَالَ تَذَاکَرْنَا الشَّهْرَ عِنْدَهُ فَقَالَ بَعْضُنَا ثَلَاثِينَ وَقَالَ بَعْضُنَا تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَقَالَ أَبُو الضُّحَی حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ أَصْبَحْنَا يَوْمًا وَنِسَائُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْکِينَ عِنْدَ کُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ أَهْلُهَا فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ مَلْآنٌ مِنْ النَّاسِ قَالَ فَجَائَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَعِدَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي عُلِّيَّةٍ لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ فَرَجَعَ فَنَادَی بِلَالًا فَدَخَلَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَطَلَّقْتَ نِسَائَکَ فَقَالَ لَا وَلَکِنِّي آلَيْتُ مِنْهُنَّ شَهْرًا فَمَکَثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ نَزَلَ فَدَخَلَ عَلَی نِسَائِهِ
محمد بن عبداللہ بن حکم، مروان بن معاویہ، حضرت ابوضحی سے حضرت ابویعفور روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ ابوضحی کے نزدیک ذکر کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ مہینہ کی مدت تیس روز ہے اور بعض حضرات فرماتے تھے کہ 29 دن ہے۔ اس دوران حضرت ابوضحی نے نقل کیا مجھ سے حضرت ابن عباس ایک دن اٹھ گئے صبح کے وقت تو کیا معاملہ دیکھتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات رو رہی ہیں اور ہر ایک زوجہ مطہرہ کے پاس ان کے گھر کے لوگ موجود تھے۔ پھر میں مسجد میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور وہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت بالاخانہ میں تشریف رکھتے تھے۔ حضرت عمر نے سلام فرمایا یعنی کسی شخص نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر سلام کیا لیکن کسی نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ انہوں نے تین مرتبہ اسی طریقہ سے کیا پھر وہ واپس تشریف لائے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا۔ وہ اوپر تشریف لے گئے جناب حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اور کہا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طلاق دے دی؟ یعنی کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی محترم اہلیہ کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں لیکن میں نے ان سے ایک ماہ کا ایلاء کیا جسے راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مکان میں 29 روز ٹھہرے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے نیچے اتر آئے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے مکان میں ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے گئے۔
Yahya bin Abi Bukair Al Karmani said: “Shu’bah narrated to us, from ‘Abdur-Rahman bin Al Qasim, from his father, from ‘Aishah. He (Shu’bah) said: “And he (‘Abdur-Rahman) was the executor for his father.” He (Shu’bah) said: “I was afraid to say to him: ‘Did you hear this from your father.” — ‘Aishah said: “I asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم dr about Barirah, as I wanted to buy her but it was stipulated that the Wala’ would go to her (former) masters. He said: ‘Buy her, for the Wala’ is to the one who sets the slave free.’ And she was given the choice, as her husband was a slave.” Then he said, after that: “I do not know.” — “And some meat was brought to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and they said: ‘This is some of that which was given in charity to Barlrah.’ He said: ‘It is charity for her and a gift for us.”(Sahih)