TrueHadith

نماز کے لیے کھڑے ہونے پر کیا کرے اور اس سلسلے میں راویان حدیث کا عائشہ صدیقہ سے روایت کرنے میں اختلاف کا بیان

Sunan An-Nasa'iHadith 1628

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ بُدَيْلٍ وَأَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا فَإِذَا صَلَّی قَائِمًا رَکَعَ قَائِمًا وَإِذَا صَلَّی قَاعِدًا رَکَعَ قَاعِدًا

قتیبہ، حماد بن بدیل و ایوب، عبداللہ بن شقیق، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو طویل نماز پڑھتے۔ اس لیے اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور بیٹھ کر نماز ادا کر رہے ہوتے تو رکوع بھی بیٹھ کر ہی کرتے۔

It was narrated from ‘Aishah that the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم used to pray when he was sitting. He would recite while sitting, then when there were thirty or forty verses left, he would stand up and recite while standing, then he bowed and prostrated, then he would do likewise in the second Rak’ah. (Sahih).

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 1629

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ أَنْبَأَنَا وَکِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا رَکَعَ قَائِمًا وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا رَکَعَ قَاعِدًا

عبدة بن عبدالرحیم، وکیع، یزید بن ابراہیم، ابن سیرین، عبداللہ بن شقیق، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی کھڑے ہو کر نماز (تہجد) ادا فرماتے اور کبھی بیٹھ کر۔ چنانچہ اگر کھڑے ہو کر نماز کی ابتداء کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور اگر بیٹھ کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کرتے۔

It was narrated that ‘Aishah said: “I never saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم pray sitting down until he grew old. Then he would pray sitting down and when there were thirty or forty verses left, be would stand up and recite them, then bow.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 1630

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مَالِکٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ وَأَبُو النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَائَتِهِ قَدْرَ مَا يَکُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّکْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِکَ

محمد بن سلمہ، ابن قاسم، مالک، عبداللہ بن یزید و ابونضر، ابوسلمہ، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ چنانچہ اس دوران بیٹھ کر قرآت کرتے رہتے اور جب تیس چالیس آیات باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر قرآت شروع کر دیتے پھر رکوع اور سجدہ کرنے کے بعد دوسری رکعت میں بھی بعینہ یہی عمل دہراتے۔

It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم used to recite sitting, and when he wanted to bow he would stand up for as long as it takes a person to recite forty verses.”(Sahih).

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 1631

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی جَالِسًا حَتَّی دَخَلَ فِي السِّنِّ فَکَانَ يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فَإِذَا غَبَرَ مِنْ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ بِهَا ثُمَّ رَکَعَ

اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، ہشام بن عروہ، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس وقت تک بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک زیادہ نہیں ہوگئی۔ چنانچہ عمر زیادہ ہوجانے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کرنے لگے اور جب تیس چالیس آیات مبارکہ رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے اور پھر رکوع میں جاتے۔

It was narrated that Saad bin Hisham bin ‘Amir said: “I came to Al-Madinah and entered upon ‘Aishah, may Allah be pleased with her. She said: “Who are you?” I said: “I am Saad bin Hisham bin ‘Amir.” She said: “May Allah have mercy on your father.” I said: “Tell me about the prayer of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم a.” She said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم did such and such.” I said: “Yes indeed.” She said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم used to pray ‘Isha’ at night, then he would go to his bed and sleep. In the middle of the night, he would get up to relieve himself and go to his water for purification and perform Wudu Then he went into the Masjid and prayed eight Rak’ahs. I think he made the recitation, bowing and prostration equal in length. Then be prayed one Rak’ah of Witr, then he prayed two Rak’ahs sitting down. Then he lay down on his side. Sometimes Bilal would come and tell him that it was time to pray before he napped, and sometimes he napped. And sometimes I was not sure if he had napped or not before he told him that it was time to pray. This is how the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم used to pray until he grew older and gained weight” — and she mentioned whatever Allah willed about his gaining weight. She said: “And the Prophet used to lead the people in praying Witr, then he would go to his bed. In the middle of the night, he would get up and go to water for purification, and to relieve himself, then he would perform WuduThen he would go into the Masjid and pray six Rak’ahs, and I think he made the recitation, bowing and prostration equal in length. Then he prayed one Rak’ah of Witr, then he prayed two Rak’ahs sitting down. Then he lay down on his side. Sometimes Bilal would come and tell him that it was time to pray before he napped, and sometimes he napped. And sometimes I was not sure if he had napped or not before he told him that it was time to pray.” She said: “And this is how the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم continued to pray.” (Da’if)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 1632

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْکَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً

زیاد بن ایوب، ابن علیة، الولید بن ابوہشام، ابوبکربن محمد، عمرة، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر قرآت فرمایا کرتے تھے۔ (دوران نوافل) اور جب رکوع کرنے کا ارادہ ہوتا تو اتنی دیر پہلے ہی کھڑے ہو جاتے کہ جتنی دیر میں کوئی شخص تیس یا چالیس آیات کی تلاوت کرتا ہے۔

It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم did not refrain from (kissing) my forehead when he was fasting, and he did not die until most of his prayers were offered sitting down.” Then she said something to the effect that (referred to the prayers) other than the obligatory prayers. “And the dearest of actions to him was that in which a person persists, even if it is little.” (Sahih) Yunus contradicted him, he reported it from Abu Ishaq, from Al-Aswad, from Umm Salamah.

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 1633

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَنْ أَنْتَ قُلْتُ أَنَا سَعْدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَتْ رَحِمَ اللَّهُ أَبَاکَ قُلْتُ أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ وَکَانَ قُلْتُ أَجَلْ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ صَلَاةَ الْعِشَائِ ثُمَّ يَأْوِي إِلَی فِرَاشِهِ فَيَنَامُ فَإِذَا کَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَی حَاجَتِهِ وَإِلَی طَهُورِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَائَةِ وَالرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ وَيُوتِرُ بِرَکْعَةٍ ثُمَّ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ فَرُبَّمَا جَائَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُغْفِيَ وَرُبَّمَا يُغْفِي وَرُبَّمَا شَکَکْتُ أَغْفَی أَوْ لَمْ يُغْفِ حَتَّی يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ فَکَانَتْ تِلْکَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَسَنَّ وَلُحِمَ فَذَکَرَتْ مِنْ لَحْمِهِ مَا شَائَ اللَّهُ قَالَتْ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَائَ ثُمَّ يَأْوِي إِلَی فِرَاشِهِ فَإِذَا کَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَی طَهُورِهِ وَإِلَی حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي سِتَّ رَکَعَاتٍ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَائَةِ وَالرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ ثُمَّ يُوتِرُ بِرَکْعَةٍ ثُمَّ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ وَرُبَّمَا جَائَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُغْفِيَ وَرُبَّمَا أَغْفَی وَرُبَّمَا شَکَکْتُ أَغْفَی أَمْ لَا حَتَّی يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ قَالَتْ فَمَا زَالَتْ تِلْکَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عمروبن علی، عبدالاعلی، ہشام، حسن، سعد بن ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا سعد بن عامر بن ہشام۔ فرمانے لگیں اللہ تمہارے والد پر رحم کرے۔ میں نے عرض کیا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے متعلق بتائیے۔ فرمانے لگیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کرتے تھے۔ میں نے کہا جی ہاں۔ پھر فرمانے لگیں رات کو عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بستر پر لیٹ کر آرام فرماتے اور آدھی رات کے وقت قضائے حاجت اور وضو وغیرہ کے لیے اٹھتے۔ پھر وضو کر کے مسجد تشریف لے جاتے اور آٹھ رکعات نماز ادا فرماتے۔ میرا خیال ہے کہ ان رکعات میں رکوع سجود اور قرآت برابر برابر ہوتے۔ پھر ایک رکعت وتر ادا فرماتے۔ پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے پھر (دائیں) کروٹ پر لیٹ جاتے۔ پھر کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سو جانے کے بعد کبھی سو جانے سے پہلے اور کبھی انہی سوچوں میں غرق ہوتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے بھی ہیں یا نہیں کہ بلال آجاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے لیے جگا دیتے۔ چنانچہ عمر کے زیادہ ہونے تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح نماز ادا فرماتے رہے۔ لیکن جب عمر زیادہ ہوگئی اور جسم ذرا فربہ ہوگیا (عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فربہ ہوجانے کی کیفیت جیسے اللہ کو منظور تھا بیان فرمائی) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد بستر پر تشریف لے جاتے اور آدھی رات تک سوتے۔ پھر اٹھ کر طہارت اور قضائے حاجت وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد وضو کرتے اور مسجد جا کر چھ رکعات نماز پڑھتے۔ میرا خیال ہے کہ ان رکعات کی قرآت رکوع اور سجدے برابر برابر ہی ہوتے۔ پھر ایک رکعت وتر پڑھتے اور پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھنے کے بعد کروٹ پر لیٹ جاتے۔ اس کے بعد کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھ لگ جانے کے بعد کبھی آنکھ لگنے سے پہلے اور کبھی میں انہیں سوچ میں گم ہوتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی سوئے ہیں یا نہیں کہ بلال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے لیے جگانے آجاتے۔ پھر فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ اسی طریقہ پر نماز ادا فرماتے رہے۔

It was narrated from Al Aswad, that Umm Salamah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم did not pass away until most of his prayers were offered sitting down, except for the obligatory prayers.” Shu’bah and Sufyan contradicted him, they said: “From Abu Ishaq from Abu Salamah, from Umm Salamah:” (Sahih)

Permalink