TrueHadith

ان احادیث کا تذکرہ جو کہ سنن کبری میں موجود نہیں ہیں لیکن مجتبی میں اضافہ کی گئی ہیں اس آیت کریمہ کی تفسیر سے متعلق

Sunan An-Nasa'iHadith 4780

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَفْظًا قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَی أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَمْ يَنْسَخْهَا شَيْئٌ وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ قَالَ نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْکِ

ابوعبدالرحمن، محمد بن مثنی، محمد، شعبہ، منصور، سعید بن جبیر، عبدالرحمن، سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ مجھ کو حضرت عبدالرحمن بن ابزی نے حکم فرمایا کہ تم حضرت ابن عباس سے ان آیات کریمہ کے بارے میں دریافت کرو ان میں سے ایک آیت کریمہ (وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَا ؤُه ) 4۔ النساء : 93) ہے۔ چنانچہ میں نے اس سلسلہ میں ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں ہے اور دوسری آیت کریمہ (کہ جس کے بارے میں حضرت ابن عباس سے معلوم کرنے کے بارے میں حضرت عبدالرحمن بن ابزی نے حکم فرمایا تھا وہ ہے (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰ هًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ) 25۔ الفرقان : 68) تو اس پر انہوں نے فرمایا یہ آیت کریمہ مشرکین کے حق میں نازل ہوئی ہے۔

It was narrated that Saeed bin Jubair said: “I said to Ibn ‘Abbas: ‘Can a person who killed a believer intentionally repent?’ He said: ‘No.’ I recited the Verse from Al-Furqan to him: ‘And those who invoke not any other ilah (god) along with Allah, nor kill such person as Allah has forbidden, except by right.’ He said: ‘This Verse was revealed in Makkah and was abrogated by a verse that was revealed in Al-Madinah: And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell. (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 4781

أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النَّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْکُوفَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَرَحَلْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَتْ وَمَا نَسَخَهَا شَيْئٌ

ازہر بن جمیل، خالد بن حارث، شعبہ، مغیرة بن نعمان، سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ اہل کوفہ نے آیت کریمہ (وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَا ؤُه جَهَنَّمُ ) 4۔ النساء : 93) کے متعلق اختلاف کیا ہے (یعنی یہ آیت کریمہ منسوخ ہے یا نہیں؟) تو میں حضرت ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا یہ آیت کریمہ تو آخر میں نازل ہوئی ہے اور اس کو کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا۔

It was narrated from Salim bin Abi Ja’d that Tbn ‘Abbas was asked about someone who killed a believer deliberately then he repented, believed and did righteous deeds, and followed true guidance. Ibn ‘Abbas said: “There is no way he could repent! I heard your Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم say: He (the victim) will come hanging onto his killer, with his jugular veins flowing with blood and saying: “Ask him why he killed me.” Then he said: “By Allah, Allah revealed it and never abrogated anything of it.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 4782

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ هَلْ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا وَقَرَأْتُ عَلَيْهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ قَالَ هَذِهِ آيَةٌ مَکِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ

عمرو بن علی، یحیی، ابن جریج، قاسم بن ابی بزة، سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس سے عرض کیا جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے تو اس کی توبہ قبول ہے یا نہیں تو انہوں نے کہا نہیں اس پر میں نے سورت فرقان آیت تلاوت کی (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰ هًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ) 25۔ الفرقان : 68)

It was narrated that ‘Ubaidullah bin Abi Bakr said: “I heard Anas say: ‘The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘The major sins are: associating others with Allah (Shirk), disobeying one’s parents, killing a soul (murder) and speaking falsely.”

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 4783

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَمَّنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَی فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَّی لَهُ التَّوْبَةُ سَمِعْتُ نَبِيَّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَجِيئُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا يَقُولُ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا وَمَا نَسَخَهَا

قتیبہ، سفیان، عمار دہنی، سالم بن ابی جعد سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس سے کسی نے دریافت کیا کہ اگر ایک شخص مسلمان کو قصدا قتل کر دے تو پھر توبہ کرے اور ایمان لے آئے اور نیک کام کرے کیا اس کی توبہ قبول ہوگی حضرت ابن عباس نے فرمایا اس کی توبہ کس طرح قبول ہوگی میں نے تمہارے نبی سے سنا خدا تعالیٰ ان پر رحمت اور سلام نازل فرمائے کہ (قیامت کے دن) مقتول شخص قاتل کو پکڑ کر لائے گا اور اس کی رگوں سے خون جاری ہوگا اور وہ کہے گا (اے میرے پروردگار) اس نے مجھ کو قتل کیا ہے پھر حضرت ابن عباس نے فرمایا یہ حکم خداوند قدوس نے نازل فرمایا اور اس کو منسوخ نہیں فرمایا۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “The major sins are: associating others with Allah, disobeying parents, killing a soul (murder) and swearing a false oath knowingly.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 4784

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْکَبَائِرُ الشِّرْکُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَقَوْلُ الزُّورِ

اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شمیل، شعبہ، عبیداللہ بن ابوبکر، انس سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں خداوند قدوس کے ساتھ کسی کو شریک کرنا۔ والدین کی نافرمانی کرنا ۔ ناحق قتل کرنا۔ جھوٹ بولنا۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم j said: ‘No one who commits Zinais a believer at the moment when he is committing Zina, and no one who drinks wine is a believer at the moment when he is drinking it, and no thief is a believer at the moment when he is stealing, and no killer is a believer at the moment he is killing.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 4785

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَنْبَأَنَا فِرَاسٌ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْکَبَائِرُ الْإِشْرَاکُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ

عبدة بن عبدالرحیم، ابن شمیل، شعبہ، فراس، شعبی، عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں خداوند قدوس کے برابر دوسرے کو کرنا۔ والدین کی نافرمانی کرنا۔ جھوٹی قسم کھانا۔

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “No one who commits Zinais a believer at the moment when he is committing Zind222; no one who steals is a believer at the moment when he is stealing; no one who drinks wine is a believer at the moment when he is drinking it; and no robber is a believer at the moment when he is robbing and the people are looking on.” (Sahlh)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 4786

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْأَزْرَقُ عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزْنِي الْعَبْدُ حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ

عبدالرحمن بن محمد بن سلام، اسحاق ، فضیل بن غزوان، عکرمة، ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بندہ زنا کا ارتکاب نہیں کرتا جس وقت وہ ایمان رکھتا ہو اور شراب نہیں پیتا جس وقت وہ ایمان رکھتا ہو اور چوری نہیں کرتا جس وقت وہ ایمان رکھتا ہے اور خون نہیں کرتا جس وقت وہ ایمان رکھتا ہو۔

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم — and Ahmad said in his Hadith: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم — said: ‘No one who commits Zinais a believer at the moment when he is committing Ziná; no one who steals is a believer at the moment when he is stealing; no one who drinks wine is a believer at the moment when he is drinking it; but repentance is available to him after that.” (Sahih)

Permalink