TrueHadith

محرم کے واسطے جو شکار کھانا جائز ہے اس سے متعلق حدیث

Sunan An-Nasa'iHadith 2766

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَکَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ وَرَأَی حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَی عَلَی فَرَسِهِ ثُمَّ سَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَی الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَکَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَی بَعْضُهُمْ فَأَدْرَکُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَکُمُوهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

قتیبہ، مالک، ابونضر، نافع، ابوقتادة رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ میں مکہ مکرمہ کے واسطے روانہ ہوا۔ جس وقت کچھ معمولی سا فاصلہ رہ گیا تو میں چند صحابہ کرام کے ہمراہ پیچھے رہ گیا۔ وہ اس وقت احرام باندھے ہوئے تھے۔ جس وقت میں احرام کے بغیر تھا تو اس دوران میں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا تو اپنے گھوڑے پر میں سوار ہو کر ساتھیوں سے میں نے ایک کوڑا دینے کے واسطے کہا انہوں نے کوڑا دینے سے انکار کر دیا۔ پھر میں نے ان سے اپنا نیزہ مانگا لیکن انہوں نے وہ بھی نہیں دیا تو میں نے خود ہی وہ نیزہ اٹھا لیا اور میں نے نیزہ لے کر اس جنگلی گدھے کا تعاقب کرنا شروع کر دیا اور پھر میں نے اس کو ہلاک کر ڈالا۔ بعض حضرات صحابہ کرام نے اس میں سے کھایا اور بعض نے انکار کر دیا چنانچہ جس وقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا یہ ایک کھانا تھا جو کہ تم کو خداوند قدوس نے کھلایا۔

It was narrated from Abu Qatadah that he was with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمWhen they were partway to Makkah, he lagged behind with some companions of his who were in Ihram, but he was not in Ii He saw an onager, so he mounted his horse, then he asked his companions to hand him his whip, but they refused. He asked them to hand him his spear, but they refused. He took it, then chased the onager and killed it. Some of the Companions of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ate from it but others refused. They caught up with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and asked him about that, and he said: “That is food that Allah, the Mighty and Sublime, gave to you.”(Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 2767

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَهُوَ رَاقِدٌ فَأَکَلَ بَعْضُنَا وَتَوَرَّعَ بَعْضُنَا فَاسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ فَوَفَّقَ مَنْ أَکَلَهُ وَقَالَ أَکَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عمرو بن علی، یحیی بن سعید، ابن جریج، محمد بن منکدر، معاذ بن عبدالرحمن تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا کہ ہم لوگ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور حالت احرام میں تھے کہ ان کے پاس تحفے میں ایک پرندہ آیا وہ اس وقت سو رہے تھے کہ بعض ساتھیوں نے اس میں سے کچھ کھا لیا جس وقت کہ بعض ساتھیوں نے پرہیز کیا چنانچہ جس وقت وہ لوگ جاگ گئے تو ان کا انہوں نے ساتھ دیا جنہوں نے وہ کھایا تھا پھر فرمایا کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مل کر کھایا ہے۔

It was narrated from Muadh bin ‘Abdur-Rahmán At-Taimi that his father said: “We were with Talhah bin ‘Ubaidullah and we were in I A bird was given to him when he was asleep, and some of us ate from it and others refrained. Talhah woke up and agreed with those who had eaten it, and said: ‘We ate it with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 2768

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْکِينٍ قِرَائَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عِيسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ الْبَهْزِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُرِيدُ مَکَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ حَتَّی إِذَا کَانُوا بِالرَّوْحَائِ إِذَا حِمَارُ وَحْشٍ عَقِيرٌ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعُوهُ فَإِنَّهُ يُوشِکُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبُهُ فَجَائَ الْبَهْزِيُّ وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْکَ وَسَلَّمَ شَأْنَکُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَکْرٍ فَقَسَّمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ ثُمَّ مَضَی حَتَّی إِذَا کَانَ بِالْأُثَايَةِ بَيْنَ الرُّوَيْثَةِ وَالْعَرْجِ إِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ وَفِيهِ سَهْمٌ فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا يَقِفُ عِنْدَهُ لَا يُرِيبُهُ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ حَتَّی يُجَاوِزَهُ

محمد بن سلمہ وحارث بن مسکین، ابن قاسم، مالک، یحیی بن سعید، محمد بن ابراہیم بن حارث، عیسیٰ بن طلحہ، عمیر بن سلمہ ضمری، بہزی سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ جانے کے واسطے احرام باندھ کر روانہ ہوئے جب مقام روحا پر آئے تو ایک جنگلی گدھا نظر آیا (اس کو ذبح کیا جا چکا تھا لیکن سانس باقی تھا) چنانچہ اس کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تذکرہ کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اس کو پڑا رہنے دو۔ ایسا ممکن ہے کہ اس کا مالک پہنچ جائے کہ اس دوران حضرت بہزی آگئے جو کہ اس کے مالک تھے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ گدھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اختیار میں ہے۔ اس بات پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کا گوشت ساتھیوں میں تقسیم کرنے کا حکم فرمایا پھر آگے بڑھ گئے اور مقام اثایہ پر پہنچ گئے جو کہ رویثہ اور (مقام) عرج کے درمیان ہے تو دیکھا ایک ہرن (درخت کے) سایہ میں پڑا ہوا ہے اور ایک تیر اس کے اندر تک داخل ہے۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ اس کے پاس کھڑا رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے کی طرف بڑھ جائیں۔

It was narrated from Al BahzI that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم f set out for Makkah and was in Ihram. When they were in Ar Rawlia’, they saw a wounded onager. Mention of that was made to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and he said: “Leave it, for soon its owner will come.” Then Al-Bahzi, who was its owner, came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and said: “Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, it is up to you what you want to do with this onager.” The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم commanded Abu Bakr to share it out among the company, then he moved on, and when he was in Al Uthayah, between Ar-Ruwaythah and Al-’Arj, they saw a gazelle sleeping in the shade with an arrow in it. It was said that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم told a man to stand by it and not let anyone disturb it until everyone had passed by.” (Sahih)

Permalink