TrueHadith

اگر کسی خاتون نے عمرہ ادا کرنے کے واسطے تلبیہ پڑھا اور اس کو حیض کا سلسلہ شروع ہوجائے جس کی وجہ سے حج فوت ہونے کا اندیشہ ہو جائے؟

Sunan An-Nasa'iHadith 2713

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِسَرِفَ عَرَکَتْ حَتَّی إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْکَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ قَالَ فَقُلْنَا حِلُّ مَاذَا قَالَ الْحِلُّ کُلُّهُ فَوَاقَعْنَا النِّسَائَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْکِي فَقَالَ مَا شَأْنُکِ فَقَالَتْ شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أُحْلِلْ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَی الْحَجِّ الْآنَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا أَمْرٌ کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتْ الْمَوَاقِفَ حَتَّی إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْکَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجَّتِکِ وَعُمْرَتِکِ جَمِيعًا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّی حَجَجْتُ قَالَ فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنْ التَّنْعِيمِ وَذَلِکَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ

قتیبہ، لیث، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم لوگ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ صرف فریضہ حج ادا کرنے کے واسطے تلبیہ پڑھتے ہوئے حاضر ہوئے۔ اس وقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرہ کرنے کے واسطے تلبیہ پڑھتی ہوئی پہنچ رہی تھیں جس وقت ہم لوگ مقام سرف آگئے تو ان کو حیض کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ چنانچہ جس وقت ہم لوگ مکہ مکرمہ پہنچ گئے تو ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور کوہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم لوگوں کو حکم فرمایا جو شخص اپنے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں لایا تو وہ شخص احرام کھول دے۔ اس پر ہم نے دریافت کیا کہ ہمارے واسطے کون کون سے کام حلال ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر ایک چیز حلال اور جائز ہو جائے گی اس کے بعد ہم لوگوں نے اپنی بیویوں سے ہم بستری بھی کی اور خوشبو کا بھی استعمال کیا اور کپڑے بھی تبدیل کئے جبکہ عرفات کے روز تک صرف چار رات باقی رہی تھیں۔ اس کے بعد ہم لوگوں نے آٹھویں تاریخ کو احرام باندھ لیا۔ جس وقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے پاس تشریف لے گئے تو اس وقت وہ رو رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم کو کیا ہوگیا ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھ کو حیض آنا شروع ہوگیا ہے اور لوگوں نے تو احرام بھی کھول ڈالا ہے اور میں نہ تو حانہ کعبہ کا طواف کر سکی ہوں اور نہ ہی میں نے احرام کھولا ہے پھر اب اس وقت لوگ حج کرنے کے واسطے پہنچ رہے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ تو (یعنی عورت کے واسطے حیض) ایک ایسی شئی ہے کہ خداوند قدوس نے حضرت آدم علیہ السلام کی لڑکیوں کی تقدیر میں لکھ دیا ہے تم لوگ یہ کرو کہ غسل کرنے کے بعد تم حج کرنے کے واسطے تلبیہ پڑھو۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے اسی طریقہ سے کیا اور انہوں نے دوران حج تمام ہی مقامات پر قیام فرمایا۔ پھر وہ جس وقت پاک ہو گئیں (یعنی حیض آنا بند ہوگیا اور غسل بھی فرما لیا) تو انہوں نے خانہ کعبہ کا طواف فرمایا اور صفا اور مروہ (پہاڑوں) کے درمیان سعی کی پھر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم حج اور عمرہ دونوں سے اب حلال ہوگئی ہو۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے قلب میں یہ خیال آتا ہے کہ میں نے تو حج سے قبل کسی قسم کا طواف نہیں کیا (تو ایسی صورت میں میرا عمرہ کس طریقہ سے ادا ہوا ہوگا ؟) اس بات پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر سے فرمایا اے عبدالرحمن تم ان کو لے کر مقام تنعیم چلے جاؤ اور عمرہ کے نیت کرا کے لا۔ یہ واقعہ ایام تشریق کے بعد لیلة الحجہ کا واقعہ ہے۔

It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said: “We came in Jlzrd,n with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم for Hajj alone (Mufrad), and ‘Aishah came in Ihram for ‘Umrah. Then, when we were in Sarif her menses started. When we came, we circumambulated the Ka’bah and (performed Sal) between As-Safa and Al-Marwah Then, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم commanded those of us who did not have a HadI to exit lh, We said: Exit Ihrdin to what degree?’ He said: ‘Completely’.’ So we had intercourse with out, wives and put on perfume, and wore our regular clothes, and there were only four nights away from Arafat. Then, we entered Ihrdrn on the day of At-Tarwjyah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم entered upon ‘Aishab and found her weeping. He said: ‘What is the matter with you’?’ She said: ‘I have got my menses and the people exited Jhram, but I did not exit Ihram or did I circumambulate the House, and the people are going for Hajj now.’ He said: ‘This is something that Allah has decreed for the daughters of Adam. Perform Ghusl, then begin the Talbiyah for Hajj.’ So she did that and did all the rituals. Then, when she became pure, she circumambulated the House and (performed Sa ‘) between As-Safa and Al-Marwah. Then, he said: ‘You have exited Ihram from your Hajj and your ‘Umrah at the same time.’ She said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, I feel upset because I only circumambulated the House during my Jajj.’ He said: ‘Take her, ‘Abdullah, to perform ‘Umrah from At-Tan’Im.’ And that was on the night ofAl-Hasbah (the twelfth night of Dhul-Hajjah).” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 2714

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ قَالَ هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا

محمد بن سلمہ ، حارث بن مسکین ، ابن قاسم ، مالک ، ابن شہاب ، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں حجۃ الوادع کے موقعہ پر ہم لوگ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے تو ہم نے عمرہ کرنے کی نیت کی ۔ پھر آپ نے فرمایا جو شخص قربانی ہمراہ لے کر جا رہا ہے تو وہ شخص عمرہ اور حج کی نیت کرے اور اس شخص کو چاہئے کہ وہ دونوں کام سے فراغت حاصل کرنے کے بعد تک احرام نہ کھولے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں جس وقت مکہ مکرمہ آئی تو مجھ کو حیض آنا شروع ہوگیا جس کی وجہ سے میں خانہ کعبہ شریف کا اور کوہ صفا و مروہ کی کوشش نہ کرسکی ۔ اس حیض اور ماہواری کے شروع ہونے کے بارے میں جس وقت میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرض کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا تم سر کے بال کھول ڈالو اور تم کنگھا کرلو اور تم حج کی نیت کرو اور عمرہ چھوڑ دو ۔ چنانچہ میں نے اسی طریقہ سے کیا چنانچہ میں جس وقت حج سے فارغ ہوچکی تو آنحضرت نے مجھ کو حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر کے ہمراہ مقام تنعیم بھیج دیا پھر میں نے عمرہ کیا تو حضرت رسول کریم نے ارشاد فرمایا یہ تمہارے عمرہ کی جگہ ہے پھر جن لوگوں نے صرف عمرہ کرنے کی نیت کی تھی انہوں نے مکہ مکرمہ پہنچ کر طواف اور سعی کی اور وہ لوگ حلال ہوگئے اور جس وقت منی سے واپس پہنچی تو ایک اور طواف کیا ۔ یعنی ان حضرات نے حج اور عمرہ کی نیت کی تھی انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا۔

It was narrated that ‘Aishah said: “We set out with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم for the Farewell Pilgrimage and we entered I for ‘Umrah, then the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘Whoever has a HadI with him, let him enter Ihram for both Hajj and ‘Umrah, then do not exit Ihram until he exits Ihram for them both.’ I came to Makkah and I had my menses, so I did not circumambulate the House or (perform Sa ‘) between A and Al-Marwah. I complained about that to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and he said: ‘Undo your hair, and comb it, and enter Ihram for Iajj, and leave ‘Umrah.’ When I had completed Hajj, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم sent me with ‘Abdur Rahman bin Abi Bakr to At-Tan’irn, and I performed ‘Umrah. He said: ‘This is the place of your ‘Umrah.’ Then those who had entered Ihram for ‘Umrah circumambulated the House and (performed Sa’i) between As-Safa and Al-Marwah. Then they exited Ihrarn, tlhen they performed Tawaf again, after they came back from Mina for their Hajj. As for those who combined Hajj and ‘Umrah, they only performed one Tawaf.” (Sahih)

Permalink