TrueHadith

جس شے میں شبہ ہو اس کو چھوڑ دینا

Sunan An-Nasa'iHadith 5614

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِکَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ وَرُبَّمَا قَالَ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِکَ أُمُورًا مُشْتَبِهَةً وَسَأَضْرِبُ فِي ذَلِکَ مَثَلًا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَمَی حِمًی وَإِنَّ حِمَی اللَّهِ مَا حَرَّمَ وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَی يُوشِکُ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَی وَرُبَّمَا قَالَ يُوشِکُ أَنْ يَرْتَعَ وَإِنَّ مَنْ خَالَطَ الرِّيبَةَ يُوشِکُ أَنْ يَجْسُرَ

حمید بن مسعدة، یزید، ابن زریع، ابن عون، شعبی، نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان بعض کام ایسے ہیں کہ جس میں شبہ ہو کہ وہ حلال ہیں یا حرام اور میں اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ اللہ عزوجل نے ایک باڑھ مقرر فرمائی ہے اور اس کی باڑھ حرام ہے تو جو شخص باڑھ کے نزدیک اپنے جانوروں کو گھاس چرائے وہ کبھی باڑھ کو بھی پار کر جائیں گے۔ اسی طرح جو شخص شبہ کے کام کرتا رہے وہ جرات کرے گا اور حرام کا بھی مرتکب ہو جائے گا۔ اس لیے شبہ و شک کے کاموں سے باز رہنا چاہیے۔

It was narrated that Mus’ab bin Saad said: “Saad had many grapevines and he had someone looking after them for him. (The vines) bore many grapes, and that man wrote to him (saying): ‘I am afraid that the grapes will be wasted; what do you think if I squeeze them to make juice?’ Saad wrote to him (saying): ‘When this letter of mine reaches you, leave my land, for by Allah I cannot trust you with anything ever again.’ So he made him leave his land.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 5615

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي الْحَوْرَائِ السَّعْديِّ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَا حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَفِظْتُ مِنْهُ دَعْ مَا يَرِيبُکَ إِلَی مَا لَا يَرِيبُکَ

محمد بن ابان، عبداللہ بن ادریس، شعبہ، برید بن ابومریم، ابوحوراء فرماتے ہیں کہ سعدی نے حسن سے دریافت کیا کہ تم نے کونسی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن کر یاد کی ہے؟ تو انہوں نے کہا میں نے یہ بات یاد رکھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو چیز تم کو شک و شبہ میں ڈالے اس کو چھوڑ دو اور غیر مشکوک کو اختیار کرو۔

It was narrated that Ibn SIrln said: “Sell it as juice to one who will make At-Tila’ (thickened grape juice) with it, and not Khamr (wine) with it.” SahIh)

Permalink