Sunan An-Nasa'i — Hadith 1895
أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی قَالَ کَانَ سَهْلُ ابْنُ حُنَيْفٍ وَقَيْسُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ بِالْقَادِسِيَّةِ فَمُرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَا فَقِيلَ لَهُمَا إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَقَالَا مُرَّ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ يَهُودِيٌّ فَقَالَ أَلَيْسَتْ نَفْسًا
اسماعیل بن مسعو د، خالد، شعبہ، عمروبن مرة، عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن حنیف اور حضرت قیس بن سعد بن عبادہ قادسیہ (شہر) میں تھے ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا وہ کھڑے ہو گئے لوگوں نے کہا کہ یہ بھی ایک زمین کا رہنے والا ہے (پھر کس وجہ سے کھڑے ہوتے ہو؟) انہوں نے کہا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے لوگوں نے کہا کہ یہ جنازہ یہودی کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ روح نہیں ہے۔ (مطلب یہ ہے کہ کیا یہ انسان نہیں ہے اور موت سب کے لیے قابل احترام اور قابل عبرت ہے)۔
It was narrated that Abu Ma’mar said: “We were with ‘Ali and a funeral passed by him, and they stood up for it. ‘Ali said: ‘What is this?’ They said: ‘The command of Abu Musa.’ He said: ‘Rather the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم stood up for a Jewish funeral but he did not do it again.” (Sahih).