TrueHadith

بچوں پر نماز پڑھنے سے متعلق

Sunan An-Nasa'iHadith 1921

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَی عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ خَالَتِهَا أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ مِنْ صِبْيَانِ الْأَنْصَارِ فَصَلَّی عَلَيْهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ طُوبَی لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلْ سُوئًا وَلَمْ يُدْرِکْهُ قَالَ أَوَ غَيْرُ ذَلِکَ يَا عَائِشَةُ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ

محمد بن منصور، سفیان، طلحہ بن یحیی، عائشہ صدیقہ بنت طلحہ، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ انصار کا ایک بچہ آیا۔ یعنی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے اس کا جنازہ آیا۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ خوشی ہو اس کے واسطے کہ تو ایک چڑیا ہے جنت کی چڑیوں میں سے کہ جس نے کسی قسم کی برائی نہیں کی اور نہ یہ بچہ برائی کی عمر کو پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ صدیقہ! تم اور کچھ کہتی ہو۔ خداوند قدوس نے جنت کو پیدا فرمایا اور اس کے واسطے لوگ پیدا فرمائے اور وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے یعنی دنیا میں آنے سے قبل خداوند قدوس نے مقرر فرما دیا ہے کہ یہ شخص جنت کا مستحق ہے اور یہ شخص دوزخ کا اور پھر دوزخ کو پیدا فرمایا اور اس کے واسطے لوگ پیدا کیے اور وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے پس کیا معلوم کہ یہ لڑکا جنت والوں میں سے ہے یا دوزخ والوں میں سے ہے؟

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم was asked about the children of the idolators and he said: ‘Allah knows best what they would have done.” (Sahih)

Permalink