TrueHadith

رشک اور حسد

Sunan An-Nasa'iHadith 3893

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْدَی أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَرْسَلَتْ أُخْرَی بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتْ يَدَ الرَّسُولِ فَسَقَطَتْ الْقَصْعَةُ فَانْکَسَرَتْ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْکِسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَی الْأُخْرَی فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ وَيَقُولُ غَارَتْ أُمُّکُمْ کُلُوا فَأَکَلُوا فَأَمْسَکَ حَتَّی جَائَتْ بِقَصْعَتِهَا الَّتِي فِي بَيْتِهَا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَی الرَّسُولِ وَتَرَکَ الْمَکْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي کَسَرَتْهَا

محمد بن مثنی، خالد، حمید، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اہلیہ محترمہ کے پاس تھے تو دوسری اہلیہ محترمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھانے کا پیالہ بھیجا۔ ان اہلیہ نے (حسد کی وجہ سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک ہاتھ پر ہاتھ مارا اور آخرکار وہ پیالہ گر کر ٹوٹ گیا۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالہ کے دونوں ٹکڑے لے کر ملائے اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانا جمع فرمانے لگے اور فرمایا کہ تمہاری ماں کو جلن پیدا ہوگئی یعنی حسد میں مبتلا ہو گئیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے دل میں سوکن کے کھانا بھیجنے کی وجہ سے حسد پیدا ہو گیا۔ تو تم کھانا کھا لو پھر سب کے سب لوگوں نے کھانا کھا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہرے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی سی اہلیہ محترمہ پیالہ لے کر حاضر ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پیالہ کھانا لانے والے شخص کو لا کر دے دیا اور وہ ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں ہی چھوڑ دیا کہ جنہوں نے پیالہ توڑ دیا تھا۔

Anas said: “The Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم was with one of the Mothers of the Believers when another one sent a wooden bowl in which was some food. She struck the hand of the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and the bowl fell and broke. The Prophet picked up the two pieces and put them together, then he started to gather up the food and said: ‘Your mother got jealous; eat.’ So they ate. He waited until she brought the wooden bowl that was in her house, then he gave the sound bowl to the messenger and left the broken bowl in the house of the one who had broken it.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3894

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَی قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا يَعْنِي أَتَتْ بِطَعَامٍ فِي صَحْفَةٍ لَهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَجَائَتْ عَائِشَةُ مُتَّزِرَةً بِکِسَائٍ وَمَعَهَا فِهْرٌ فَفَلَقَتْ بِهِ الصَّحْفَةَ فَجَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ فِلْقَتَيْ الصَّحْفَةِ وَيَقُولُ کُلُوا غَارَتْ أُمُّکُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَحْفَةَ عَائِشَةَ فَبَعَثَ بِهَا إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ وَأَعْطَی صَحْفَةَ أُمِّ سَلَمَةَ عَائِشَةَ

ربیع بن سلیمان، اسد بن موسی، حماد بن سلمہ، ثابت، ابومتوکل، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک روز ایک پیالہ لے کر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوئیں۔ تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنی چادر مبارک لے کر حاضر ہوئیں۔ ایک پتھر لیے ہوئے اور انہوں نے وہ پیالہ لے کر توڑ ڈالا اور انہوں نے اسی پتھر سے پیالہ توڑا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ دونوں ٹکڑے لے کر ملا دیئے اور فرمانے لگے کہ تم کھانا کھا لو تمہاری والدہ صاحبہ کے دل میں جلن پیدا ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ یہی جملے ارشاد فرمائے پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا صیحح و سالم پیالہ لے کر حضرت ام سلمہ کے گھر بھیج دیا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا ٹوٹا ہوا پیالہ عائشہ صدیقہ کو دے دیا۔

It was narrated from Umm Salamah that she brought some food in a dish of hers to the essenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and his Companions, then ‘Aishah came, wrapped up in a garment, with a stone pestle and broke the dish. The Prophet gathered the broken pieces of the dish and said: “Eat; your mother got jealous,” twice. Then the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم took the dish of ‘Aishah and sent it to Umm Salamah and he gave the dish of Umm Salamah to ‘Aishah. (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3895

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ فُلَيْتٍ عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ أَهْدَتْ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَائً فِيهِ طَعَامٌ فَمَا مَلَکْتُ نَفْسِي أَنْ کَسَرْتُهُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ کَفَّارَتِهِ فَقَالَ إِنَائٌ کَإِنَائٍ وَطَعَامٌ کَطَعَامٍ

محمد بن مثنی، عبدالرحمن، سفیان، جسرہ بنت دجاجہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کوئی خاتون حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا جیسی نہیں دیکھی۔ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برتن میں کھانا بھر کر بھیجا۔ مجھ سے یہ منظر نہ دیکھا جا سکا۔ میں نے (غصہ میں آکر) وہ برتن توڑ ڈالا۔ پھر میں نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ اس کا بدلہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کسی برتن کا بدلہ دوسرا برتن ہے (مطلب یہ ہے کہ تم نے جس طرح کا برتن توڑا ہے اسی طرح کا برتن تم کو دینا ہوگا اور کھانے کا برتن اس قسم کا کھانا دینا ہے۔

It was narrated that ‘Aishah said: “I never saw any woman who made food like Safiyyah. She sent a dish to the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم in which was some food, and I could not keep myself from breaking it. I asked the Prophet what the expiation was for that, and he said: ‘A dish like that dish, and food like that food.” (Hasan)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3896

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَمْکُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتُنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْکَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَی إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ لَا بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکَ إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا لِقَوْلِهِ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا

حسن بن محمد، عبید بن عمیر، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس رہتے اور شہد نوش فرماتے۔ میں نے ایک مرتبہ اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے مشورہ کیا کہ ہمارے میں سے جس کسی کے پاس حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائیں تو اس طرح سے کہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے مغافیر کی بدبو محسوس ہو رہی ہے (یہ عرب میں پیدا ہونے والا لہسن کی طرح کا ایک پھل ہے جس سے کہ بدبو محسوس ہوتی ہے) ہم کو ایسا لگ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مذکورہ پھل) مغافیر کھا رکھا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے۔ دونوں میں سے کسی کے پاس۔ اس نے یہی کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے شہد پی لیا ہے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس اور کبھی نہیں پیوں گا۔ اس لیے کہ آپ کو بڑی نفرت ہے۔ اسی وقت آیت کریمہ نازل ہوئی یعنی اے نبی تم ان چیزوں کو کس وجہ سے حرام کر رہے ہو جن کو خداوند قدوس نے حلال کیا ہے تمہارے واسطے (یعنی شہد کو) اور آیت کریمہ (یعنی اگر تم دونوں توبہ کرتی ہو یعنی حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما) اور یہ آیت کریمہ جب پوشیدہ طریقہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی کسی اہلیہ محترمہ سے ایک بات فرمائی (یعنی یہ بات کہ میں نے آج شہد پی لیا ہے)

‘Aishah said that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. IIaf and I agreed that if the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم entered upon either of us, she would say: “I perceive the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir?” He came in to one of them, and she said that to him. He said: “No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again.” Then the following was revealed: ‘Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.’ ‘If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you)’ about ‘Aishah and Hafsah, ‘And (remember) when the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم disclosed a matter in confidence to one of his wives’ refers to him saying: “No, rather I drank honey.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3897

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَرَمِيٌّ هُوَ لَقَبُهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتْ لَهُ أَمَةٌ يَطَؤُهَا فَلَمْ تَزَلْ بِهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ حَتَّی حَرَّمَهَا عَلَی نَفْسِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکَ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ

ابراہیم بن یونس بن محمد، ابیہ، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک باندی تھی کہ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم بستری فرماتے تھے تو حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت حفصہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے لگی رہتی تھیں۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس باندی کو اپنے اوپر حرام فرما لیا۔ اس پر خداوند قدوس نے یہ آیت نازل فرمائی آخر تک۔

It was narrated from Anas, that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم had a female slave with whom he had intercourse, but ‘Aishah and Hafsah would not leave him alone until he said that she was forbidden for him. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: “Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.t until the end of the Verse. (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3898

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ الْتَمَسْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِي شَعْرِهِ فَقَالَ قَدْ جَائَکِ شَيْطَانُکِ فَقُلْتُ أَمَا لَکَ شَيْطَانٌ فَقَالَ بَلَی وَلَکِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ

قتیبہ، لیث، یحیی، عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کیا تو (اتفاق سے) میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں میں پڑ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس تمہارا شیطان آ گیا ہے۔ اس پر میں نے عرض کیا کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے شیطان نہیں ہے؟ فرمایا کسی وجہ سے نہیں۔ میرے واسطے بھی شیطان ہے لیکن خداوند قدوس نے اس پر میری مدد فرما دی ہے اس وجہ سے وہ میرا فرماں بردار بن گیا ہے (مطلب یہ ہے کہ شیطان میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ میرے اوپر اس کا اثر نہیں پڑتا اور دوسرے لوگوں پر تو اس کا اثر پڑتا ہے)

It was narrated from ‘Ubadah bin Al-Walid bin ‘Ubadah bin A-Samit that ‘Aishah said: “I looked for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and I put my hand on his hair.” He said: “Your Shaitan has come to you.” I said: “Don’t you have a Shaitan?” He said: “Yes, but Allah helped me with him, so he submitted.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3899

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَی بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَجَسَّسْتُهُ فَإِذَا هُوَ رَاکِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي إِنَّکَ لَفِي شَأْنٍ وَإِنِّي لَفِي شَأْنٍ آخَرَ

ابراہیم بن حسن، حجاج، ابن جریج، عطاء، ابن ابی ملیکہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا تو مجھ کو یہ خیال ہوا کہ آج کی رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی دوسری اہلیہ محترمہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کافی تلاش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالت رکوع میں تھے یا سجدہ فرما رہے تھے : (تو پاک ہے میں تیری تعریف کرتا ہوں تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے) میں نے عرض کیا میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہو جائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے کام میں مشغول ہیں اور میں دوسرے خیال میں ہوں۔ (مطلب یہ ہے کہ مجھ کو تو رشک ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی وجہ سے دوسری اہلیہ محترمہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خداوند قدوس کی عبادت میں مشغول ہیں)

It was narrated that ‘Aishah said: “I noticed that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم was not there one night, and I thought that he had gone to one of his other wives, so I reached out for him, and found him bowing or prostrating, and saying: ‘Sub wa bi , lailaha illa anta (Glory and praise be to You, there is none worthy of worship but You).’ I said: ‘May my father and mother be sacrificed for you; you were doing one thing, and I was thinking of something else.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3900

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ افْتَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَی بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَجَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هُوَ رَاکِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي إِنَّکَ لَفِي شَأْنٍ وَإِنِّي لَفِي آخَرَ

اسحاق بن منصور، عبدالرزاق، ابن جریج، ابی ملیکہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں پایا۔ مجھ کو خیال ہوا کہ (آج کی رات) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی اہلیہ محترمہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ میں نے تلاش کیا پھر میں واپس ہوئی۔ تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع یا سجدہ کی حالت میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ تو اے میرے پروردگار پاک ہے۔ تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کام میں مشغول ہیں اور میں دوسرے کام میں مشغول ہوں۔

‘Aishah said: “I noticed that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم was not there one night, and I thought that he had gone to one of his other wives. I looked for him then I came back, and there he was, bowing or prostrating and saying: ‘Sub wa hi hamdika lailaha illa anta (Glory and praise be to You, there is none worthy of worship but You).’ I said: ‘May my father and mother be sacrificed for you; you were doing one thing and I was thinking of something else.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3901

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَثِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ أَلَا أُحَدِّثُکُمْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِّي قُلْنَا بَلَی قَالَتْ لَمَّا کَانَتْ لَيْلَتِي انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَوَضَعَ رِدَائَهُ وَبَسَطَ إِزَارَهُ عَلَی فِرَاشِهِ وَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَائَهُ رُوَيْدًا ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا وَخَرَجَ وَأَجَافَهُ رُوَيْدًا وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي فَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي وَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّی جَائَ الْبَقِيعَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ انْحَرَفَ وَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ وَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ وَلَيْسَ إِلَّا أَنْ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ مَا لَکِ يَا عَائِشُ رَابِيَةً قَالَ سُلَيْمَانُ حَسِبْتُهُ قَالَ حَشْيَا قَالَ لَتُخْبِرِنِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ قَالَ أَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي قُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ فَلَهَدَنِي لَهْدَةً فِي صَدْرِي أَوْجَعَتْنِي قَالَ أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْکِ وَرَسُولُهُ قَالَتْ مَهْمَا يَکْتُمْ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ وَلَمْ يَکُنْ يَدْخُلُ عَلَيْکِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَکِ فَنَادَانِي فَأَخْفَی مِنْکِ فَأَجَبْتُهُ وَأَخْفَيْتُهُ مِنْکِ وَظَنَنْتُ أَنَّکِ قَدْ رَقَدْتِ فَکَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَکِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ خَالَفَهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَقَالَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ

سلیمان بن داؤد ، ابن وہب، ابن جریج، عبداللہ بن کثیر، حضرت محمد بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ انہوں نے فرمایا کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال بیان نہ کروں۔ اور میں اپنا کیا حال عرض کروں۔ ہم نے عرض کیا کس وجہ سے نہیں بیان فرمائیں۔ انہوں نے کہا میری ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کروٹ لی اور اپنے پاؤں مبارک کے نزدیک جوتے رکھے اور چادر اٹھائی اپنا سر مبارک سرہانے پر پھیلایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر دیر ٹھہرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیال فرمایا کہ مجھ کو نیند آ گئی اس کے بعد خاموشی سے جوتے پہن لیے اور جلدی سے چادر لی اور دروزہ کھولا آہستہ سے اور پھر باہر نکل آئے پھر آہستہ سے دروازہ بند کر دیا۔ میں نے بھی جلدی سے دوپٹہ اوڑھا۔چادر اوڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل دی۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت البقیع (نامی قبرستان) میں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ہاتھ اٹھائے اور میں دیر تک کھڑی رہی۔ پھر میں واپس آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز چلے میں بھی تیز چلی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی چلے میں بھی جلدی چلی میں آگے کی جانب نکل کر مکان کے اندر داخل ہوئی اور میں لپٹی ہوئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ صدیقہ تم کو کیا ہو گیا ہے۔ تمہارا پیٹ پھولا پھولا ہے یا تمہارا سانس چڑھ گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم بتلاؤ ورنہ خداوند قدوس مطلع فرما دے گا جو کہ لطیف اور خبردار ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر میرے والدین قربان ہو جائیں۔ پھر میں نے تمام حالت بیان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم ہی تھی میں کہتا تھا کہ یہ میرے سامنے کون آدمی جا رہا ہے۔ میں نے عرض کیا جی ہاں میں تھی۔ یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے میں ایک مکا رسید کیا جس کی وجہ سے میرے سینہ میں درد ہو گیا اور فرمایا تم نے یہ خیال کیا کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم پر ظلم کریں گے کہ تمہارے نمبر پر میں اپنی دوسری اہلیہ کے پاس جاؤں گا۔ میں نے کہا لوگ کس جگہ تک چھپائیں گے خداوند قدوس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مطلع فرمادیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جی ہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے اور وہ تمہارے پاس نہ تشریف لا سکے کیونکہ تم اس وقت برہنہ تھیں پھر آہستہ سے انہوں نے مجھ کو آواز دی چنانچہ میں پھر گیا اور میں تم سے پوشیدہ طریقہ سے گیا اس لیے کہ مجھ کو اس بات کا خیال ہوا کہ تم کو نیند آ گئی ہے اور مجھ کو تم کو بیدار کرنا ناگوار اور برا محسوس ہوا۔ مجھ کو خوف ہوا کہ تم کو وحشت نہ ہو (تنہا رہنے سے) پھر جبرائیل علیہ السلام نے مجھ کو حکم فرمایا کہ میں بقیع (قبرستان) پہنچ جاؤں اور جو لوگ وہاں پر مدفون ہیں ان کے واسطے میں دعا مانگوں۔

‘Aishah said: “Shall I not tell you about the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and I?” We said: “Yes.” She said: “When it was my night, he came in, placed his shoes by his feet, lay down his Rida’ (upper garment), and spread his Izar (lower garment) on his bed. As soon as he thought that I had gone to sleep, he put his shoes on slowly and picked up his Rida’ slowly. Then he opened the door slowly, went out and shut it slowly. I put my garment over my head, covered myself and put on my Izar (lower garment), and I set out after him until he came to Al-Baqi’, raised his hands three times and stood there for a long time. Then be left and I left, he hurried and I hurried, he ran and I ran, and I got there before him and entered (the house). I had only just laid down when he came in and said: ‘‘Aishah, why are you out of breath?’ (one of the reporters) Sulaiman said: I thought he (Ibn Wahb) said: ‘short of breath.’ He said: ‘Either you tell me or the All- Aware, All-Knowing will tell me.’ I said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, may my father and mother be sacrificed for you;’ and I told him the story. He said: ‘You were the black shape I saw in front of me?’ I said: ‘Yes.” She said: “He gave me a shove in the chest that hurt me and said: ‘You thought that Allah and His Messenger صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم would be unfair to you.” She said: “Whatever people conceal, Allah, the Mighty and Sublime, knows it.’ He said: ‘Yes.’ He said: ‘Jibril came to me when you saw (me leave) but he did not enter upon you because you have taken off your garments. So he called me but he concealed himself from you, and I answered him but I concealed it from you. I thought that you had gone to sleep and I did not want to wake you and I was afraid that you would feel lonely. He told me to go to Al-Baqi’ and pray for forgiveness for them.” Hajjaj bin Muhammad contradicted him (Ibn Wahb), he said: “From Ibn Juraij, from Ibn Abi Mulaikah, from Muhammad bin Qais:” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3902

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ الْمِصِّيصِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ قَالَتْ أَلَا أُحَدِّثُکُمْ عَنِّي وَعَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا بَلَی قَالَتْ لَمَّا کَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي هُوَ عِنْدِي تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَوَضَعَ رِدَائَهُ وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَی فِرَاشِهِ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَائَهُ رُوَيْدًا ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا وَخَرَجَ وَأَجَافَهُ رُوَيْدًا وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي فَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّی جَائَ الْبَقِيعَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ وَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلَّا أَنْ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ مَا لَکِ يَا عَائِشَةُ حَشْيَا رَابِيَةً قَالَتْ لَا قَالَ لَتُخْبِرِنِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ قَالَ فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُهُ أَمَامِي قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ فَلَهَدَنِي فِي صَدْرِي لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِي ثُمَّ قَالَ أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْکِ وَرَسُولُهُ قَالَتْ مَهْمَا يَکْتُمْ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ وَلَمْ يَکُنْ يَدْخُلُ عَلَيْکِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَکِ فَنَادَانِي فَأَخْفَی مِنْکِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُ مِنْکِ فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ رَوَاهُ عَاصِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عَائِشَةَ عَلَی غَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيکٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَقَدْتُهُ مِنْ اللَّيْلِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ

یوسف بن سعید بن مسلم، حجاج، ابن جریج، عبداللہ ابن ابی ملیکہ، حضرت محمد بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ انہوں نے فرمایا کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال بیان نہ کروں۔ اور میں اپنا کیا حال عرض کروں۔ ہم نے عرض کیا کس وجہ سے نہیں بیان فرمائیں۔ انہوں نے کہا میری ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کروٹ لی اور اپنے پاؤں مبارک کے نزدیک جوتے رکھے اور چادر اٹھائی اپنا سر مبارک سرہانے پر پھیلایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر دیر ٹھہرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیال فرمایا کہ مجھ کو نیند آ گئی اس کے بعد خاموشی سے جوتے پہن لیے اور جلدی سے چادر لی اور دروزہ کھولا آہستہ سے اور پھر باہر نکل آئے پھر آہستہ سے دروازہ بند کر دیا۔ میں نے بھی جلدی سے دوپٹہ اوڑھا۔چادر اوڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل دی۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت البقیع (نامی قبرستان) میں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ہاتھ اٹھائے اور میں دیر تک کھڑی رہی۔ پھر میں واپس آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز چلے میں بھی تیز چلی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی چلے میں بھی جلدی چلی میں آگے کی جانب نکل کر مکان کے اندر داخل ہوئی اور میں لپٹی ہوئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ صدیقہ تم کو کیا ہو گیا ہے۔ تمہارا پیٹ پھولا پھولا ہے یا تمہارا سانس چڑھ گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم بتلاؤ ورنہ خداوند قدوس مطلع فرما دے گا جو کہ لطیف اور خبردار ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر میرے والدین قربان ہوجائیں۔ پھر میں نے تمام حالت بیان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم ہی تھی میں کہتا تھا کہ یہ میرے سامنے کون آدمی جارہا ہے۔ میں نے عرض کیا جی ہاں میں تھی۔ یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے میں ایک مکا رسید کیا جس کی وجہ سے میرے سینہ میں درد ہو گیا اور فرمایا تم نے یہ خیال کیا کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم پر ظلم کریں گے کہ تمہارے نمبر پر میں اپنی دوسری اہلیہ کے پاس جاؤں گا۔ میں نے کہا لوگ کس جگہ تک چھپائیں گے خداوند قدوس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مطلع فرما دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جی ہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے اور وہ تمہارے پاس نہ تشریف لا سکے کیونکہ تم اس وقت برہنہ تھیں پھر آہستہ سے انہوں نے مجھ کو آواز دی چنانچہ میں پھر گیا اور میں تم سے پوشیدہ طریقہ سے گیا اس لیے کہ مجھ کو اس بات کا خیال ہوا کہ تم کو نیند آ گئی ہے اور مجھ کو تم کو بیدار کرنا ناگوار اور برا محسوس ہوا۔ مجھ کو خوف ہوا کہ تم کو وحشت نہ ہو (تنہا رہنے سے) پھر جبرائیل علیہ السلام نے مجھ کو حکم فرمایا کہ میں بقیع (قبرستان) پہنچ جاؤں اور جو لوگ وہاں پر مدفون ہیں ان کے واسطے میں دعا مانگوں۔ علی بن حجر، شریک، عاصم، عبداللہ بن عامر بن ربیعہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ترجمہ حسب سابق ہے،

‘Aishah said: “Shall I not tell you about the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and I?” We said: “Yes.” She said: “When it was my night when he” — meaning the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم — “was with me, he came in, placed his shoes by his feet, lay down his Rida’ (upper garment), and spread the edge of his Izar (lower garment) on his bed. As soon as he thought that I had gone to sleep, he put his shoes on slowly, and picked up his Rida’ slowly. Then he opened the door slowly, went out and shut it slowly. I put my garment over my head, covered myself and put on my Izar (lower garment), and I set out after him until he came to Al-Baqi’, raised his hands three times and stood there for a long time. Then he left and I left, he hurried and I hurried, he ran and I ran, and I got there before him and entered (the house). I had only just laid down when he came in and said: ‘‘Aishah, why are you out of breath?’ She said: ‘No.’ He said: ‘Either you tell me or Allah, the All-Aware, All-Knowing, will tell me.’ I said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, may my father and mother be sacrificed for you;’ and I told him the story. He said: ‘You were the black shape I saw in front of me?’ I said: ‘Yes.” She said: “He gave me a shove in the chest that hurt me and said: ‘You thought that Allah and His Messenger would be unfair to you.” She said: “Whatever people conceal, Allah knows it.’ He said: ‘Yes.’ He said: ‘Jibril came to me when you saw (me leave) but he did not enter upon you because you have taken off your garments. So he called me but he concealed himself from you, and I answered him, but I concealed it from you. I thought that you had gone to sleep and I did not want to wake you, and I was afraid that you would feel lonely. He told me to go to Al Baqi’ and pray for forgiveness for them.” ‘A reported it from ‘Abdullah bin ‘Amir, from ‘Aishah, with a wording different from this.

Permalink