TrueHadith

مرد کا اپنی ازواج میں سے کسی ایک زوجہ کی طرف قدرے مائل ہونا

Sunan An-Nasa'iHadith 3881

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ لِإِحْدَاهُمَا عَلَی الْأُخْرَی جَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَدُ شِقَّيْهِ مَائِلٌ

عمرو بن علی، عبدالرحمن، ہمام، قتادہ، نضر بن انس، بشیر بن نہیک، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ کسی ایک کی طرف زیادہ مائل ہے تو وہ قیمت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے بدن کا ایک حصہ ایک طرف کو جھکا ہوا ہوگا ۔

It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم used to divide his time equally among his wives then he would say:‘Allah, this is what I have done with regard to that over which I have control, so do not blame me for that over which You have control and I do not.” (Sahlh) Hammad bin Zaid narrated it in Mursal form.

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3882

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ ثُمَّ يَعْدِلُ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِکُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِکُ وَلَا أَمْلِکُ أَرْسَلَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ

محمد بن اسماعیل بن ابراہیم، یزید، حماد بن سلمہ، ایوب، ابوقلابہ، عبداللہ بن یزید، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی تمام ازواج مطہرات میں کوئی بھی چیز تقسیم کرتے ہوئے برابری کا خیال رکھتے اور پھر فرماتے اے اللہ! میرا کام تو اتنا ہی ہے جتنا مجھے اختیار ہے۔ اے اللہ! تو بھی مجھ سے اس چیز پر باز پرس مت کجیو جس کی مجھ میں تیری طرح قدرت نہیں۔ حماد بن زید نے یہ حدیث مرسلا روایت کی ہے۔

‘Aishah said: “The wives of the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم sent Fatimah, the daughter of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم tiJ She asked permission to enter when he was lying with me under my cover. He gave her permission to enter, and she said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, your wives have sent me to you to ask you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah.’ I (‘Aishah) kept quiet and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said to her: ‘my daughter! Do you not love the one whom I love?’ She said: ‘Yes.’ He said: ‘Then love this one.’ Fatimah stood up when she heard this and left the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, and went back to the wives of the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمShe told them what she had said, and what he had said to her. They said to her: ‘We do not think that you have been of any avail to us. Go back to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and say to him: Your wives are urging you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah.” Fatimah said: ‘No, by Allah; I will never speak to him about her again.” ‘Aishah said: “So the wives of the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم sent Zainab bint Jahsh to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم she was one who was somewhat equal to me in rank in the eyes of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم And I have never seen a woman who was better in religious commitment than Zainab, more fearing of Allah, more honest in speech, more dutiful in upholding the ties of kinship, more generous in giving charity, and devoted in giving of herself in acts of charity, by means of which she sought to draw closer to Allah. But she was quick- tempered; however, she was also quick to calm down. She asked permission to enter upon the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم , when he was with ‘Aishah under her cover, in the same situation as when Fatimah had entered. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم gave her permission to enter and she said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, your wives have sent me to ask you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Qubafah.’ Then she verbally Abused me at length, and I was watching the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم to see if he would allow me to respond. Zainab went on until I realized that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم would not disapprove if I responded. Then I spoke back to her in such a way, until I silenced her. Then the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘She is the daughter of Abu Bakr.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3883

أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ مَعِي فِي مِرْطِي فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَکَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْکَ يَسْأَلْنَکَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ وَأَنَا سَاکِتَةٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ بُنَيَّةُ أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَنْ أُحِبُّ قَالَتْ بَلَی قَالَ فَأَحِبِّي هَذِهِ فَقَامَتْ فَاطِمَةُ حِينَ سَمِعَتْ ذَلِکَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَتْ إِلَی أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِالَّذِي قَالَتْ وَالَّذِي قَالَ لَهَا فَقُلْنَ لَهَا مَا نَرَاکِ أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَيْئٍ فَارْجِعِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولِي لَهُ إِنَّ أَزْوَاجَکَ يَنْشُدْنَکَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ فَاطِمَةُ لَا وَاللَّهِ لَا أُکَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ الَّتِي کَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ وَأَتْقَی لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَصْدَقَ حَدِيثًا وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَعْظَمَ صَدَقَةً وَأَشَدَّ ابْتِذَالًا لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ وَتَقَرَّبُ بِهِ مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ کَانَتْ فِيهَا تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا عَلَی الْحَالِ الَّتِي کَانَتْ دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَکَ أَرْسَلْنَنِي يَسْأَلْنَکَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ وَوَقَعَتْ بِي فَاسْتَطَالَتْ وَأَنَا أَرْقُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْقُبُ طَرْفَهُ هَلْ أَذِنَ لِي فِيهَا فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ حَتَّی عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَکْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا بِشَيْئٍ حَتَّی أَنْحَيْتُ عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَکْرٍ أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَکَّارٍ الْحِمْصِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ فَذَکَرَتْ نَحْوَهُ وَقَالَتْ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ فَاسْتَأْذَنَتْ فَأَذِنَ لَهَا فَدَخَلَتْ فَقَالَتْ نَحْوَهُ خَالَفَهُمَا مَعْمَرٌ رَوَاهُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ

عبیداللہ بن سعد بن ابراہیم بن سعد، عمی، ابیہ، صالح، ابن شہاب، محمد بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی محترمہ تھیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت مانگی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ (یعنی حضرت عائشہ صدیقہ کے ساتھ) ایک چادر میں لیٹے ہوئے تھے تو انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اندر آنے کی اجازت عطا فرما دی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے مجھ کو (آج) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھیجا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت قحافہ (یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں انصاف فرمائیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں خاموش تھی۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم چاہتی ہو کہ جس کو میں چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم اس سے محبت کیا کرو۔ یہ بات سن کر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تو تم پھر اس سے محبت کیا کرو۔ یہ بات سن کر حضرت فاطمہ کھڑی ہو گئیں اور دوسری ازواج مطہرات کے پاس جا کر ان کو بتلایا کہ انہوں نے کیا کہا اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا جواب ارشاد فرمایا اس پر ازواج مطہرات کہنے لگیں کہ تم سے کام نہیں ہو سکا پھر جاؤ اور تم حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کرو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ابوقحافہ کی لڑکی (حضرت عائشہ صدیقہ) کے بارے میں انصاف چاہتی ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ نہیں خدا کی قسم میں کبھی ان کے بارے میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو نہیں کروں گی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر ازواج مطہرات نے حضرت زینب بنت جحش کو بھیجا جو کہ ازواج مطہرات میں سے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک درجہ اور مقام میں مجھ سے مقابلہ کرتی تھیں۔ میں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے زیادہ دین کے راستے پر چلنے والی، خدارسیدہ، صلہ رحمی کر نے والی، سچی بات کہنے والی، زیادہ صدقہ دینے والی اور اپنے نفس کو کام میں ذلیل کرنے والی خاتون کبھی نہیں دیکھی اور اس کام کی بھی ضروت ان کو صدقہ و خیرات کے واسطے پڑتی تھی صرف ان میں ایک ہی چیز تھی اور وہ یہ کہ وہ زیادہ غصہ والی اور تیز مزاج خاتون تھیں۔ لیکن ان کا غصہ جلد ہی ختم ہو جاتا تھا بہرحال وہ حاضر ہوئیں اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے اجازت مانگی اس وقت بھی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی چادر میں ان کے ساتھ اس حالت میں تھے کہ جس حالت میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حاضر ہوئیں تھیں اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے مجھ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا ہے ان کی قلبی تمنا ہے کہ ابوقحافہ کی لڑکی (یعنی حضرت عائشہ صدیقہ) کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ انصاف فرمائیں پھر انہوں نے مجھ کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور کافی برا بھلا کہا۔ میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب دیکھ رہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں؟ اس وقت حضرت زینب اس حال میں تھیں کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرا جواب دینا گوار نہیں گزرے گا۔ چنانچہ جس وقت میں بولنا شروع ہوئی تو ان کو گفتگو کرنے کا موقع ہی نہیں عطا فرمایا۔ یہاں تک کہ ان پر غالب ہو گئی۔ اس پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا آخر یہ بھی حضرت ابوبکر کی صاحبزادی ہیں۔عمران بن بکار، ابویمان، شعیب، زہری، محمد بن عبدالرحمن، بن حارث بن ہشام، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی سابقہ حدیث کی مانند منقول ہے۔

It was narrated that ‘Aishah mentioned a similar report and said: “The wives of the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, sent Zainab and she asked him permission to enter and she entered.” (Sahih) And she said something similar. Ma’mar contradicted the two of them; he reported it from Az-Zuhri, from ‘Urwah, from ‘Aishah:

Permalink