Sunan Abu Dawood — Hadith 1049
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَمَّنْ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّی بِالَّتِي مَعَهُ رَکْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا وَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَائَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَی فَصَلَّی بِهِمْ الرَّکْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ قَالَ مَالِکٌ وَحَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ
قعنبی، مالک، یزید بن رومان، صالح، بن خوات، حضرت صالح بن خوات نے ایک ایسے شخص کے حوالہ سے روایت کی ہے جس نے غزوہ ذات الرقاع میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے کہ ایک گروہ نے امام کے ساتھ صف باندھی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا پس پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس گروہ کو ایک رکعت پڑھائی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے رہے اور اس گروہ نے اپنی نماز تنہا تنہا پوری کی اور نماز سے فراغت کے بعد یہ لوگ دشمن کے سامنے پہنچ گئے۔ پھر دوسرا گروہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ اپنی بقیہ نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے رہے اور اس گروہ کے لوگوں نے اپنی اپنی ایک رکعت پڑھ کر نماز پوری کی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا۔ امام مالک نے کہا کہ صلوة خوف کے سلسلہ میں جتنی روایات میں نے سنی ہیں ان میں یہ یزید بن رومان والی حدیث مجھے سب سے زیادہ پسند ہے
-